قومی اسمبلی نے اسلام دوستی کا ثبوت دیا‘ ارکان کو مبارک : تحریک نفاذ شریعت

سوات (مانیٹرنگ ڈیسک+ ریڈیو مانیٹرنگ+ اے این این) مولانا صوفی محمد نے نظام عدل ریگولیشنز کی منظوری کو خوش آئند قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ قومی اسمبلی نے قرارداد کی منظوری دے کر اسلام دوستی کا ثبوت دیا۔ تحریک نفاذ شریعت محمدی کے ترجمان امیر عزت خان نے اپنے ردعمل میں کہا ہے کہ قومی اسمبلی نے اسلام دوست اور پاکستان دوست فیصلہ کیا‘ تمام ارکان قومی اسمبلی کو مبارکباد دیتے ہیں۔ دریں اثناء شرعی نظام عدل ریگولیشنز کی منظوری کے بعد سوات میں جشن منایا گیا۔ مقامی لوگ ایک دوسرے کو مبارکبادیں دیتے رہے۔ اس موقع پر منوں مٹھائی تقسیم کی گئی۔ تفصیلات کے مطابق تحریک نفاذ شریعت محمدی کے امیر مولانا صوفی محمد نے کہا ہے کہ اگر حکومت نے صحیح معنوں میں شریعت نافذ کی اور بااختیار قاضی تعینات کئے تو تعاون جاری رکھیں گے۔ قرارداد کی منظوری کے بعد اب حکومت کے عملی اقدامات دیکھیں گے۔ امیر عزت خان نے کہا کہ قومی اسمبلی نے وہ کام کرکے دکھایا ہے جو 14 اگست 1947ء سے ہونے کا منتظر تھا۔ مالاکنڈ کے لوگ 30 سالوں سے اسی سلسلے میں جدوجہد کی۔ قومی اسمبلی کیلئے دعاگو ہیں کہ وہ اسی طرح پاکستان کے استحکام اور ترقی و خوشحالی کیلئے کام کرتی رہے۔ ایک سوال پر انہوں نے کہا کہ ہمارے علاقے میں خواتین کے تعلیم حاصل کرنے پر کہیں پابندی نہیں جو دیکھنا چاہتے ہیں وہ یہاں آکر خود اپنی نظروں سے بچیوں کو تعلیم حاصل کرتے اور ڈگری کالج میں خواتین کو پڑھتے دیکھ سکتے ہیں۔ ہم صرف فحاشی اور عرفانی کے خلاف ہیں۔ اے پی پی کے مطابق عزت خان نے فیصلہ کیا کہ قومی اسمبلی کا فیصلہ تاریخ میں سنہری حروف میں لکھا جائے گا۔ سوات میں لوگ مارکیٹوں میں نکل آئے اور مٹھائیاں تقسیم کیں۔ جماعۃ الدعوۃ کے مرکزی رہنما حافظ عبدالرحمن مکی نے قومی اسمبلی کے اقدام کو خوش آئند قرار دیا ہے اور کہا ہے کہ حالیہ تاریخ ساز فیصلہ سے نہ صرف سوات میں امن قائم ہوگا بلکہ دیگر علاقوں میں بھی اس کے اچھے اور دوررس اثرات مرتب ہوں گے۔ انہوں نے کہا کہ پورے ملک میں شریعت کو نافذ کیا جائے۔ مرکزی جمعیت اہلحدیث کے رہنمائوں سید ضیا اللہ شاہ بخاری اور سیکرٹری اطلاعات مولانا نعیم بادشاہ نے حکومتی اقدام کا خیرمقدم کرتے ہوئے کہا کہ اب وقت آگیا ہے کہ ہمیں اپنے ملکی حالات اور مفادات کے تناظر میں فیصلے کرنے چاہئیں۔ اے پی پی کے مطابق عوامی مسلم لیگ کے سربراہ شیخ رشید نے نظام عدل ریگولیشنز کی قرارداد کی منظوری کو سراہا اور کہا کہ اس سے سوات میں امن کا قیام یقینی بنانے میں مدد ملے گی۔