بلوچ رہنمائوں کے قتل کیخلاف وکلا کا ملک گیر بائیکاٹ ‘ مظاہرے

لاہور + کوئٹہ + اسلام آباد (وقائع نگار خصوصی + نامہ نگاران + مانیٹرنگ نیوز) بلوچ رہنمائوں کے قتل کیخلاف سپریم کورٹ بار کے صدر علی احمد کرد کی کال پر وکلاء نے گزشتہ روز ملک بھر میں عدالتوں کا بائیکاٹ کیا اور احتجاجی مظاہرے کئے وکلاء رہنمائوں نے کہا ہے کہ ایسے واقعات ملک کی سلامتی کیخلاف سازش ہے۔ بلوچ رہنمائوں کا قتل قابل مذمت اور حکومت کی ناکامی کا کھلا ثبوت ہے۔ لاہور ہائیکورٹ بار نے بلوچ رہنمائوں غلام محمد بلوچ‘ لالہ منیر بلوچ اور شیر محمد بلوچ کے قتل کو بڑا سانحہ اور ملکی اتحاد اور سلامتی کیلئے خطرے کی گھنٹی قرار دیا ہے اور مطالبہ کیا کہ قاتل گرفتار کئے جائیں۔ سپریم کورٹ بار ایسوسی ایشن نے عدالت عظمی سے اپیل کی ہے کہ بلوچستان کے موجودہ حالات کی تحقیقات کیلئے جوڈیشل کمشن بنایا جائے۔ تفصیلات کے مطابق بلوچ رہنمائوں کے قتل کیخلاف لاہور‘ اسلام آباد‘ پشاور‘ کراچی‘ گوجرانوالہ‘ پنڈی بھٹیاں‘ شیخوپورہ سمیت کئی شہروں میں وکلاء نے عدالتوں کا بائیکاٹ کیا اور عدالتوں میں پیش نہ ہوئے۔ وکلاء نے مظاہرے بھی کئے اور بلوچ رہنمائوں کے قاتل فوری گرفتار کرنے کا مطالبہ کیا کئی شہروں میں بلوچ رہمنمائوں کیلئے غائبانہ نماز جنازہ بھی ادا کی گئی۔ پشاور سے بیورو رپورٹ کے مطابق بار کونسل کے وکلاء نے عدالتوں کا مکمل بائیکاٹ کیا اور بلوچ رہنمائوں کے قتل کی مذمت کی۔ علاوہ ازیں لاہور ہائیکورٹ بار کا اجلاس صدر منور اقبال گوندل کی صدارت میں ہوا جس میں ملزمان کو بے نقاب کرکے قرار واقعی سزا دئیے جانے کے حق میں قرارداد میں کہا گیا جو متفقہ طور پر منظور کر لی گئی۔ مقتدر اختر شبیر‘ شفقت محمود چوہان اور بابر خلجی نے بھی خطاب کیا۔ مقتدر اختر شبیر نے کہا کہ ثابت ہو گیا کہ ملک میں لاء اینڈ آرڈر کی صورتحال بگڑ چکی ہے۔ بعدازاں سپریم کورٹ بار کی کال پر 11 بجے دن کے بعد عدالتی کارروائی کا بائیکاٹ کیا گیا۔ گوجرانوالہ سے نمائندہ خصوصی کے مطابق ڈسٹرکٹ بار گوجرانوالہ کے وکلاء نے احتجاجاً عدالتوں کا مکمل بائیکاٹ کیا اور ایک قرارداد کے ذریعے حکومت سے بلوچ رہنمائوں کے قاتلوں کو فوری گرفتار کرنے کا مطالبہ کیا۔ علاوہ ازیں ایم کیو ایم گوجرانوالہ نے بلوچ رہنمائوں کے قتل کیخلاف ریلی نکالی۔ پنڈی بھٹیاں سے نامہ نگار کے مطابق وکلاء نے مکمل ہڑتال کی اور بلوچ سرداروں کے قتل کی شدید مذمت کی صدر بار ظفر اقبال اور دیگر نے کہا کہ واقعہ کے منفی اثرات مرتب ہونگے جڑانوالہ سے نامہ نگار کے مطابق وکلاء نے مکمل ہڑتال کی اور عدالتوں کا بائیکاٹ کیا۔ شیخوپورہ سے نامہ نگار خصوصی کے مطابق وکلاء نے 10 بجے دن کے بعد عدالتوں کا بائیکاٹ کیا اور ضلع کچہری میں احتجاجی مظاہرہ کیا۔ کراچی بار ایسوسی ایشن او ملیر بار ایسوسی ایشن کے تحت سٹی کورٹ اور ملیر کورٹ کے زیر اہتمام سٹی کورٹ اور ملیر کورٹ میں جنرل باڈی اجلاس منعقد کئے گئے جس میں گزشتہ دنوں بلوچستان میں تین بلوچ قوم پرست ر ہنمائوں کے قتل کی شدید مذمت کی گئی۔ علاوہ ازیں سپریم کورٹ بار کے عہدیداروں نے اسلام آباد میں میڈیا کو بریفنگ میں کہا کہ بلوچستان میں حالیہ قت ل و غارت گری کے واقعات پر تمام قوم افسردہ اور پریشان ہے۔ انہوں نے سپریم کورٹ کے چیف جسٹس سے اپیل کی کہ وہ بلوچستان کے حالات کا ازخود نوٹس لیں۔