بلوچستان کے کئی شہروں میں احتجاجی مظاہرے جاری

کوئٹہ+ خاران (مانیٹرنگ نیوز+ ایجنسیاں) بلوچ رہنمائوں کے قتل کے خلاف گزشتہ روز بھی کئی شہروں میں احتجاجی مظاہرے جاری رہے اور شٹرڈائون ہڑتال ہوئی۔ خاران میں پرنسپل کے دفتر اور ایک بیکری کو آگ لگا دی گئی۔ پنجگور میں مظاہرین نے پولیس پر پتھرائو کیا جس کے جواب میں پولیس نے ہوائی فائرنگ اور شیلنگ کی جس پر ایک بار پھر بازار بند کردیئے گئے جبکہ کوئٹہ سمیت کئی شہروں میں گزشتہ روز کاروبار زندگی معمول پر آنا شروع ہوگئے۔ خاران میں پانچویں روز بھی مکمل شٹرڈائون اور پہیہ جام کا سلسلہ جاری رہا۔ بلوچ قوم پرست رہنمائوںکے قتل کے خلاف احتجاجی ریلی اور مظاہرہ بھی کیا گیا۔ پنجگور میں بھی احتجاجی مظاہرہ اور دھرنوں کا سلسلہ جاری رہا۔ پولیس تھانہ کے گیٹ کے سامنے مظاہرین نے دھرنا دیا اور قوم پرست جماعتوں بی آر پی بی ایس او آزاد، بی این پی اور نیشنل پارٹی کے زیراہتمام ایک احتجاجی ریلی نکالی گئی۔ نوشکی میں بلوچ نیشنل فرنٹ کے زیراہتمام بلوچ رہنمائوں کے قتل کے خلاف پریس کلب کے سامنے احتجاجی مظاہرہ‘ ریلی اور احتجاجی جلسہ کا انعقاد کیا گیا۔ مظاہرین نے ریاست کے خلاف شدید نعرے بازی کی۔ جلسہ سے خطاب کرتے ہوئے ادھر بلوچ نیشنل موومنٹ کے قائم مقام صدر ظفر بلوچ نے کہا ہے کہ انہیں اپنی حکومت کی عدالتی تحقیقات پر بھروسہ نہیں، اس لیے اقوام متحدہ تینوں بلوچ رہنمائوں کے قتل کی تحقیقات خود کرے۔