برطانیہ : دہشت گردی کے الزام میں گرفتار تمام پاکستانی طلبہ بے گناہ نکلے‘ جلد ڈیپورٹ کرنے کا فیصلہ

لندن (آصف محمود) برطانیہ میں دہشت گردی کے الزام میںگرفتار کئے گئے تمام پاکستانی طلبہ بے گناہ نکلے۔ برطانوی خفیہ ایجنسیاں ان کیخلاف دہشت گردانہ سرگرمیوں میں ملوث ہونے کا کوئی ٹھوس ثبوت پیش نہیں کرسکیں۔ برطانوی حکام نے شرمندگی سے بچنے کیلئے ان پاکستانیوں کو جلد وطن واپس بھیجنے کا اعلان کیا ہے۔ برطانوی اخبار ٹائمز کی رپورٹ کے مطابق حال ہی میں برطانیہ میں دہشت گردی کی منصوبہ بندی کے شُبے میں زیر حراست 12پاکستانی طلبہ میں سے ایک 18 سالہ لڑکے کو پہلے ہی رہا کردیا گیا تھا۔ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ ان پاکستانیوں کے خلاف مکمل چھان بین کی گئی لیکن خفیہ ادارے کوئی ثبوت سامنے نہیں لا سکے۔ انسداد دہشت گردی ایجنسیوں کے اعلیٰ حکام نے بتایا کہ ان افراد کو پاکستان ڈی پورٹ کردیا جائیگا اور پاکستان سے یہ یقین دہانی بھی حاصل کی جائیگی کہ انہیں وطن واپسی پر گرفتار کرکے تشدد کا نشانہ نہیں بنایا جائیگا۔ رپورٹ کے مطابق خفیہ ایجنسیوں نے اس بات پر شدید پریشانی کااظہار کیا ہے کہ انہیں گرفتار افراد سے دہشت گردی سے کسی تعلق کا ثبوت کیوں نہیں ملا جبکہ ان کی گرفتاری پر وزیراعظم گورڈن برائون نے بھی دہشت گردی کے بہت بڑے منصوبے کو بے نقاب کرنے کا دعویٰ کیا تھا۔ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ ان طلبہ کیخلاف ثبوت نہ ملے تو وزیراعظم برائون کو عالمی سطح پر بھی سبکی کا سامنا کرنا پڑیگا۔ گرفتار 25 سالہ طالبعلم رمضان کے والد حضرت علی نے میڈیا کو بتایا کہ اسکا بیٹا 2006ء سے بر طانیہ میں ایم بی اے کررہا ہے۔انہوں نے کہا کہ ان کا بیٹا بہت نرم دل اور سیدھا سادا لڑکا ہے جو صرف اپنی پڑھائی پر دھیان دیتا ہے۔ہمیں پورا یقین ہے کہ رمضان کسی منفی سرگرمی میں شامل نہیں ۔