پارلیمانی نظام کی خامیاں پارلیمنٹ کو ہی ٹھیک کرنا ہونگی، جمہوریت کے بغیر ترقی ممکن نہ غیر جمہوری یا ٹیکنوکریٹ حکومت مسائل حل کرسکتی ہے: شاہد خاقان عباسی

خبریں ماخذ  |  ویب ڈیسک
پارلیمانی نظام کی خامیاں پارلیمنٹ کو ہی ٹھیک کرنا ہونگی، جمہوریت کے بغیر ترقی ممکن نہ غیر جمہوری یا ٹیکنوکریٹ حکومت مسائل حل کرسکتی ہے: شاہد خاقان عباسی

 وزیراعظم شاہد خاقان عباسی نے کہا ہے کوئی ٹیکنوکریٹ یا غیر جمہوری حکومت مسائل حل نہیں کر سکتی۔ جمہوریت کے استحکام کے بغیر پائیدار ترقی ممکن نہیں۔ اٹک میں تیل اور گیس منصوبے کی افتتاحی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعظم نے کہا منصوبے کا افتتاح بہتر مستقبل کی نوید ہے۔ نواز شریف کی پالیسیوں کو آگے بڑھا رہے ہیں۔ منصوبے سے تیل گیس کے علاوہ 50 ٹن ایل پی جی بھی حاصل ہو گی۔ ملک میں آج ہر شعبے کو گیس فراہم کی جا رہی ہے۔ چار سال میں تیل اور گیس کے 103 منصوبے دریافت ہوئے۔ مسلم لیگ ن کی حکومت کے 4 سالہ ترقیاتی پروگرام گزشتہ 15 سال سے زیادہ ہے۔ ملک میں ترقی اس وقت ممکن ہو گی جب جمہوریت مضبوط ہو گی۔ چار سال میں 10 ہزار میگاواٹ سے زیادہ بجلی سسٹم میں داخل کی۔ عوام 2018ءکے عام انتخابات میں فیصلہ کریں گے۔ جمہوریت کے استحکام کے بغیر پائیدار ترقی ممکن نہیں۔ ابھی بھی چیلنجز ہیں جن کا مقابلہ کر رہے ہیں۔ علاوہ ازیں اپٹما کے وفد سے گفتگو کرتے ہوئے وزیراعظم نے کہا حکومت تجارت کے فروغ کیلئے سازگار ماحول پیدا کرنے کے لئے پرعزم ہے۔ برآمدات میں اضافے کیلئے کسی بھی تجویز پر کام کرنے کیلئے تیار ہیں۔ سازگار ماحول سے عالمی منڈی میں پاکستانی مصنوعات کی تجارت میں اضافہ ہو گا۔ حکومت کا مقصد تجارتی خسارہ کو کم کرنا اور روزگار میں اضافہ کرنا ہے۔ وزیراعظم نے وزیرتجارت کو برآمد کنندگان سے مشاورت کی ہدایت کی۔ وفد نے صنعتی صارفین کے لئے توانائی کے تحفظ کو یقینی بنانے کے لئے حکومتی اقدامات کو سراہا۔ ملاقات میں وزیر خزانہ اسحاق ڈار‘ وزیر تجارت پرویز ملک اور معاون خصوصی ہارون اختر بھی موجود تھے۔ مزید برآں وزیراعظم نے کہا ہے کہ مولانا مفتی محمود (مرحوم) نے پاکستان کے آئین ‘ پارلیمنٹ اور سیاست میں شرافت اور مفاہمت کا طرز متعارف کرایا آج ہمیں ایسے طرز سیاست کی سخت ضرورت ہے پاکستان جمہوریت کے بغیر ترقی نہیں کر سکتا۔ جمعہ کے روز مولانا مفتی محمود کے اعزاز میں یادگاری ٹکٹ جاری کرنے کی تقریب وزیر اعظم ہاﺅس میں منعقد ہوئی۔ یادگاری ٹکٹ مفتی محمود کی گراں قدر مذہبی خدمات کے اعتراف میں جاری کی گئی۔ تقریب میں وزیر اعظم شاہد خاقان عباسی، ڈپٹی چیئرمین مولانا عبدالغفور حیدری ‘ وزیر ہاﺅسنگ اکرم خان درانی سمیت جے یو آئی (ف) کے سربراہ مولانا فضل الرحمن اور دیگر اہم رہنماﺅں نے شرکت کی۔ تقریب سے خطاب کرتے ہوئے مولانا فضل الرحمن نے کہا 1973 کا آئین متفقہ ہے اور اگر اس آئین کو اسلامی کہا جاتا ہے تو اس کا کریڈٹ مفتی محمود کو جاتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ مفتی محمود کی سیاست کے ساتھ علمی اور دینی خدمات بہت زیادہ ہیں ۔ مفتی محمود نے ہمیشہ دلیل کی بنیاد پر اپنا موقف مخالفین سے منوایا ہے کیونکہ ان کو اپنی دلیل پر مکمل اعتماد حاصل تھا۔ وہ اپنے مخالفین کو بھی ”اوئے بھٹو“ یا ”شرم کرو بھٹو“ نہیں بلکہ ”بھٹو صاحب “ کہہ کر مخاطب کرتے تھے۔ آج کی سیاست کو بھی مولانا مفتی محمود کی سیاست کی طرز سے سیکھنا چاہئے۔ وزیر اعظم شاہد خاقان عباسی نے خطاب کرتے ہوئے کہا مفتی محمود کی گراں قدر قومی خدمات ہمارے پاس تاریخی اثاثہ ہیں ۔ مفتی محمود کی اسلام اور قومی سیاست میں خدمات قابل دید ہیں۔ اس موقع پر آج ڈاک ٹکٹ کے اجراءسے مولانا کی خدمات کو تسلیم کیا گیا ہے۔ انہوں نے کہا وزارت پوسٹل سروس قومی خدمات کے اعتراف میں دیگر شخصیات کی بھی ٹکٹ جاری کریں۔ 1977ءمیں مفتی محمود کا کردار بہت نمایاں تھا۔ مولانا فضل الرحمن بھی اپنے والد کی وراثت کو آگے لے کر چل رہے ہیں۔ وزیراعظم نے کہا کہ پاکستان جمہوریت کے بغیر ترقی نہیں کر سکتا۔ پارلیمانی نظام کی خرابیاں خود پارلیمنٹ کو ہی ٹھیک کرنی چاہئیں لیکن آج کل جو لوگ سیاست میں حصہ لے رہے ہیں ان کو بھی چاہئے کہ وہ مولانا مفتی محمود کی سیاست پر ایک نظر ضرور ڈالیں۔