امریکی وفد کے پاکستانی قیادت سے مذاکرات : رکاوٹوں کے باوجود خطے کے امن کیلئے کردار ادا کیا : آرمی چیف

امریکی وفد کے پاکستانی قیادت سے مذاکرات : رکاوٹوں کے باوجود خطے کے امن کیلئے کردار ادا کیا : آرمی چیف

اسلام آباد (سٹاف رپورٹر+ نوائے وقت رپورٹ) پاکستان نے یقین دلایا ہے کہ وہ افغان مسئلہ کے حل کیلئے علاقائی اور دو طرفہ، ہر نوعیت کی مشاورت اور بات چیت میں شامل ہو گا جبکہ امریکہ نے اس حقیقت کو تسلیم کیا ہے کہ پاکستان امریکہ مراسم کو افغانستان سے ہٹ کر بھی دوطرفہ بین الریاستی تعلقات کے طور پر مﺅثر طریقہ سے نبھانا چاہئے۔ پاکستان کے دورہ پر آئے ہوئے مختلف امریکی محکموں کے اعلیٰٰ حکام پر مشتمل وفد نے سیکرٹری خارجہ تہمینہ جنجوعہ کی زیر سرکردگی پاکستانی وفد کے ساتھ دفتر خارجہ میں مذاکرات کئے۔ امریکی وفد نے وزیرخارجہ خواجہ محمد آصف سے خیرسگالی ملاقات بھی کی۔ مذاکراتی دور میں افغان مسئلہ اور پاک امریکہ تعلقات کے تمام پہلوﺅں کا احاطہ کیا گیا۔ اس ذریعہ کے مطابق یہ مذاکراتی دور امریکی وزیر خارجہ ریکس ٹیلرسن اور وزیر دفاع جم میٹس کے مجوزہ دوروں کی تیاری کا بھی حصہ تھے۔ امریکہ کے صدر ٹرمپ کی نائب معاون و قومی سلامتی کونسل کی سینئر ڈائریکٹر برائے جنوبی ایشیا کی قیادت میں آنے والے امریکی وفد میں قائم مقام معاون سیکرٹری خارجہ ایلس ویلز، قائم مقام معاون سیکرٹری دفاع ڈیوڈ ہیلوے سمیت محکمہ خارجہ، محکمہ دفاع اور امریکی سفارتخانے کے اعلیٰ حکام شامل تھے۔ امریکہ کی افغانستان اور جنوبی ایشیا پالیسی کے تناظر میں تعلقات کی نوعیت کا جائزہ لیا گیا اور باہمی دلچسپی کے تمام امور پر بات چیت جاری رکھنے پر اتفاق کیا گیا۔ سیکرٹری خارجہ نے امریکی وفد کو پاکستانی سرزمین سے دہشت گردی کے خاتمہ کے لئے پاکستان کی کوششوں سے آگاہ کیا۔ امریکی وفد کو مقبوضہ کشمیر میں بھارتی افواج کی جانب سے مظالم اور انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں سے بھی آگاہ کیا۔ امریکی وفد آج وزیراعظم شاہد خاقان عباسی، وزیر خارجہ خواجہ محمد آصف اور سیکرٹری خارجہ تہمینہ جنجوعہ سے ملاقاتیں کرے گا۔ امریکہ کی نئی پالیسی پر تبادلہ خیال کیا جائے گا۔ دریں اثناءپاکستان کے دورہ پر آئے ہوئے امریکی وفد نے جمعرات کی شام آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ سے جی ایچ کیو میں ملاقات کی۔ آئی ایس پی آر کے مطابق اس موقع پر امریکی وفد نے جنوبی ایشیا کیلئے امریکہ کی نئی حکومت عملی کے خدوخال پر آرمی چیف کو بریفنگ دی۔ افغانستان سمیت خطہ کے سلامتی پر گفتگو کے علاوہ یہ معاملہ بھی زیر غور آیا کہ پاکستان خطہ کے امن کیلئے کس طرح مثبت کردار ادا کر سکتا ہے۔آرمی چیف نے انہیں خطہ میں امن و سلامتی کے بارے میں پاکستان کی تشویش اور تحفظات سے آگاہ کیا۔ انہوں نے واضح کیا کہ پاکستان نے پائیدار امن و سلامتی کیلئے اپنی بساط سے زیادہ اور بہترین کوششیں کی ہیں۔ امریکی وفد نے دہشت گردی کے خلاف جنگ میں پاکستان کے کردار اور فوج کی قربانیوں کی تعریف کی۔ اے این این اور نوائے وقت رپورٹ کے مطابق آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ نے کہا ہے کہ پاکستان نے تمام تر رکاوٹوں کے باوجود خطے کے امن کیلئے بہت کچھ کیا جبکہ پاکستانی عوام کے عزم کے مطابق امن کےلئے کردار ادا کرتے رہیں گے۔
آرمی چیف/ مذاکرات