توہین عدالت کیس الیکشن کمشن نے عمران خان کے وارنٹ جاری کر دیئے 26 اکتوبر کو گرفتار کرکے پیش کرنے کا حکم

توہین عدالت کیس الیکشن کمشن نے عمران خان کے وارنٹ جاری کر دیئے 26 اکتوبر کو گرفتار کرکے پیش کرنے کا حکم

اسلام آباد + لاہور (خصوصی نمائندہ +خصوصی نامہ نگار+ نوائے وقت رپورٹ) الیکشن کمشن نے توہین عدالت کیس میں عمران خان کے وارنٹ جاری کر دیئے۔ عدالت نے چیئرمین تحریک انصاف کو 26 اکتوبر کو گرفتار کرکے پیش کرنے کا حکم دیدیا۔ الیکشن کمشن میں پی ٹی آئی کے سابق رہنما اکبر ایس بابر کی درخواست پر توہین عدالت کیس کی سماعت ہوئی۔ الیکشن کمشن کے پانچ رکنی بنچ میں سے سندھ اور پنجاب کے دو ممبرز نے عمران کے وارنٹ گرفتاری کی مخالفت کی تاہم تین ممبرز نے ناقابل ضمانت وارنٹ گرفتاری جاری کرتے ہوئے چیئرمین تحریک انصاف سے درخواست پر جواب طلب کر لئے اور کیس کی سماعت 26 اکتوبر تک ملتوی کر دی۔ واضح رہے عمران خان نے عدالت پر متعصب ہونے کے الزامات لگائے تھے جس کا الیکشن کمشن نے نوٹس لیتے ہوئے انہیں پیش ہونے کے احکامات جاری کئے تھے اس سے قبل 15 ستمبر کو الیکشن کمشن نے توہین عدالت کیس میں عمران خان کو ذاتی طور پر پیش ہونے کا حکم دیا تھا تاہم ان کی عدم پیشی پر الیکشن کمشن نے ان کے قابل ضمانت وارنٹ گرفتاری جاری کئے تھے جو اسلام آباد ہائیکورٹ نے معطل کر دیئے تھے۔ عمران کے وکیل کو دلائل کے لئے گزشتہ سماعت پر الیکشن کمشن نے آخری موقع دیا تھا۔ سماعت کے بعد میڈیا سے گفتگو میں درخواست گزار اکبر ایس بابر نے کہا کہ الیکشن کمشن جیسے آئینی ادارے کی عمران خان نے بار ہا تضیحک کی جس ادارے سے عمران کے خلاف کارروائی ہوتی ہے وہ اس ادارے کو چیلنج کر دیتے ہیں عمران پاکستان میں انارکی پھیلانے کے چکر میں ہیں۔ ہم سمجھتے ہیں الیکشن کمشن نے اہم فیصلہ دیا بی بی سی کے مطابق عمران کی طرف سے جمع کرایا جانے والا جواب بھی مسترد کر دیا گیا۔ عمران خان کے وارنٹ گرفتاری جاری ہونے کے بعد پی ٹی آئی پنجاب کی پارلیمانی پارٹی نے پیر کے روز اجلاس طلب کر لیا۔ آئندہ اجلاس میں شرکت عدم شرکت یا احتجاج کی حکمت عملی طے کی جائیگی۔
عمران وارنٹ


اسلام آباد ( نمائندہ نوائے وقت + صباح نیوز+ نوائے وقت رپورٹ) چیف جسٹس ثاقب نثار نے جہانگیر ترین نااہلی کیس کی سماعت کے دوران رےمارکس دےتے ہوئے کہا کہ پنجاب کے زرعی ٹیکس ایکٹ میں کوئی ابہام نہیں، ہر وہ شخص زرعی ٹیکس دے گا جو زمین سے آمدن حاصل کرے گا، ایکٹ کے مطابق لیز پر لی گئی اراضی پر بھی ٹیکس بنتا ہے لیکن ابھی تک عدالت کو قائل نہیں کیا جا سکا کس طرح ٹھیکیدار ٹیکس سے مستثنیٰ ہے۔ چیف جسٹس میاں ثاقب نثار کی سربراہی میں جسٹس عمر عطا بندیال اور جسٹس فیصل عرب پر مشتمل تین رکنی بینچ نے جہانگیر ترین نااہلی سے متعلق حنیف عباسی کی جانب سے دائر درخواست کی سماعت کی۔ جہانگیر ترین کے وکیل نے موقف اپنایا کہ 184/3 کے تحت سپریم کورٹ ٹیکس معاملات کی جانچ پڑتال نہیں کر سکتی۔ درخواست گزار نے جہانگیر ترین کیخلاف ماتحت عدلیہ میں چلنے والے اسی نوعیت کے مقدمات کو نظرانداز کیا۔ چیف جسٹس نے کہا ہم یہاں قانون کی تشریح کر رہے ہیں۔ پنجاب کے زرعی ٹیکس قانون کے مطابق لیز اراضی سے حاصل آمدن ٹھیکیدار کی ہوتی ہے اور جو شخص زرعی آمدن کماتا ہے اسے ٹیکس دینا ہوتا ہے، ہم یہاں پر دیانت داری کے معاملے کا جائزہ لے رہے ہیں۔ جہانگیر ترین کی جانب سے کاغذات نامزدگی میں ملکیتی زمین سے حاصل آمدن تو ظاہر کی گئی لیکن لیز کی زمین سے حاصل شدہ آمدن کو ظاہر نہیں کیا جبکہ لیز کی زمین سے جہانگیر ترین کو دس ارب روپے کی آمدن ہوئی۔ جسٹس عمر عطا بندیال نے استفسار کیا اگر لیز کی زمین پر ٹیکس بنتا ہے جو نہیں دیا گیا تو اسکے کیا نتائج ہونگے۔ اس پرجہانگیر ترین کے وکیل سکندر بشیر مہمند نے موقف اپنایا کہ میرا موکل پھر بھی نااہل نہیں ہوتا۔ عدالت مجھے بتائے کہاں جھوٹ بولا، جس پر جسٹس عمر عطا بندیال نے کہا آپکا موقف ہی یہ ہے کہ ٹھیکیدار نہیں بلکہ زمین کے مالک کو ٹیکس دینا ہوتا ہے۔ جسٹس فیصل عرب کا کہنا تھا قانون کے مطابق حاصل شدہ زرعی آمدن پر ٹیکس بنتا ہے۔ جہانگیر ترین کے وکیل نے کہا مجھے کیوں دوش دیا جا رہا ہے۔ الیکشن فارم میں صرف ملکیتی زمین کی تفصیلات مانگی گئیں جو میں نے دیں، جس پر چیف جسٹس نے کہا جہانگیر ترین نے اپنی مکمل زرعی آمدن الیکشن کمشن کو نہیں بتائی۔ ایمانداری کا کنڈکٹ سے ہی پتہ چلتا ہے۔ جہانگیر ترین کے پاس زمین چاہے لیز پر ہی تھی لیکن اس پر انہیں آمدن تو مل رہی تھی۔ قانون تو یہی کہتا ہے کہ آمدن پر کاشتکار کو ٹیکس دینا ہوتا ہے۔ چیف جسٹس نے اکرم شیخ سے استفسار کیا کہ آپ سر پکڑ کر بیٹھ گئے ہیں لگتا ہے آپکو بوریت ہو رہی ہے، جس پر اکرم شیخ کا کہنا تھا کہ میں غور سے کیس سن رہا ہوں۔ بددیانتی پہلے سے ثابت شدہ ہے ابھی تک جہانگیر ترین نے خسرہ گرداوری پیش نہیں کی جبکہ لیز معاہدوں کے ذریعے منی لانڈرنگ کی گئی لیکن یہاں پر جہانگیر ترین کے وکیل مرحوم عبدالحفیظ پیرزادہ کے انداز میں بینچ پر حاوی ہونا چاہتے ہیں جس پر سکندر بشیر نے کہا پیرزادہ صاحب کے ساتھ کام کرنا میرے لیے اعزاز کی بات تھی۔ عدالت کے پوچھنے پر سکندر بشیر مہمند نے کہا کوشش ہو گی کہ جلد اپنے دلائل مکمل کر لوں۔ چیف جسٹس نے اپنے ریمارکس میں کہا کہ کاغذات نامزدگی میں زرعی اراضی کا ایک حصہ ظاہر کیا اور ایک نہیں، آپ یہ بتائیں کہ غلط بیانی کا کیا نتیجہ ہوتا ہے۔ انہیں آمدن پر 5فیصد کے اعتبار سے ٹیکس دینا تھا۔ انہوں نے کہا کہ جہانگیر ترین کے پاس چاہے زمین لیز پر تھی لیکن انہیں آمدن مل رہی تھی۔ زرعی زمین سے کاشتکاری کا ریونیو بھی آمدنی ہوگی اور رینٹ بھی آمدن میں شمار ہوگا، جہانگیر ترین 18 ہزار ایکڑ زمین پر کاشت کاری کررہے تھے۔ ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ ہم قانون سمجھنے کی کوشش کررہے ہیں اور عدالت اپنی حتمی رائے نہیں دے رہی۔ عدالت نے سماعت 17 اکتوبر تک ملتوی کر دی۔ دریں اثناءسپریم کورٹ میں عمران خان نااہلی کیس کے درخواست گزار حنیف عباسی نے متفرق درخواست کے ذریعے مزید دستاویزات جمع کرا دیں۔ 10 صفحات پر مشتمل درخواست میں موقف اپنایا گیا عمران خان کی دستاویزات سے ثابت نہیں ہوتا کہ بنی گالہ نقشے کیلئے پیسے عمران خان کی سابق اہلیہ جمائمہ نے بھیجے۔
جہانگیر ترین کیس