کور کمانڈر اور ڈی جی رینجرز کا بیان حقیقت نہیں‘ الطاف : آرمی چیف ہماری عزت کا خیال کریں : ایم کیو ایم

کور کمانڈر اور ڈی جی رینجرز کا بیان حقیقت نہیں‘ الطاف : آرمی چیف ہماری عزت کا خیال کریں : ایم کیو ایم

کراچی (نوائے وقت رپورٹ) ایم کیو ایم کی رابطہ کمیٹی کے ارکان نے بدھ کے روز نائن زیرو پر رینجرز کے چھاپے کے حوالے سے پریس کانفرنس کی۔ ڈاکٹر فاروق ستار نے کہا کہ ایم کیو ایم جمہوریت پسند جماعت اور سینٹ میں تیسری بڑی جماعت ہے۔ نائن زیرو پر چھاپہ ہمارے لئے ناقابل فہم ہے۔ چند مطلوب افراد کے بہانے درجنوں گھروں کی تلاشی لی گئی۔ بدھ کے روز پکڑے گئے زیادہ تر افراد کا سرے سے ایم کیو ایم سے تعلق ہی نہیں، ہم پاکستان کی معاشی شہ رگ میں امن چاہتے ہیں، ہمیں رینجرز اور فوج پر اعتماد ہے، وقاص کی شہادت کے وقت رینجرز چند قدم کے فاصلے پر کھڑی تھی، جو کچھ ہوا، دانستہ یا نادانستہ، ہمارے ساتھ انصاف نہیں ہوا۔ وقاص صرف ایم کیو ایم کا ہی نہیں پاکستان کا مستقبل بھی تھا۔ نائن زیرو کے اطراف سے لگ بھگ 110 افراد کو پکڑا گیا۔ ایسا تاثر نہ لیا جائے کہ ہم ایم کیو ایم بمقابلہ رینجرز کی بات کر رہے ہیں۔ وقاص کی شہادت رینجرز کی فائرنگ سے ہوئی۔ ہمارے پاس ثبوت موجود ہیں۔ انکوائری کیلئے جوڈیشل کمشن بنایا جائے۔نائن زیرو پر اسلحہ لائسنسی ہے اور دہشت گردوں سے بچاﺅ کیلئے رکھتے ہیں۔ دھمکیوں کے بعد اسلحہ رکھنا ہمارا حق ہے۔ نائن زیرو کے اطراف صرف 10 پولیس اہلکار ہیں وہ پورے علاقے کا تحفظ کیسے کر سکتے ہیں؟ صرف 27 کو عدالت میں پیش کیا گیا، باقی 83 کو رہا کیا جائے۔ یہ تاثر کہ نائن زیرو نوگو ایریا ہے اس میں کوئی حقیقت نہیں۔ عامر خان کے ساتھ ناروا سلوک کیا گیا۔ ان کی آنکھوں پر پٹی اور ہاتھوں میں ہتھکڑی تھی۔ 27 افراد کو گھوڑوں کی طرح عدالت میں پیش کیا گیا۔ ہمارے کارکنوں نے ہمیشہ عدالتوں میں بھی پولیس سے تعاون کیا، آرمی چیف راحیل شریف، آئی ایس آئی چیف رضوان اختر اور ڈی جی رینجرز بلال سے اپیل ہے کہ ہماری عزت کا خیال کریں۔ اپنی حفاظت کیلئے بیریئر لگائے۔ ایم کیو ایم کے رہنما حیدر عباس رضوی نے کہا ہے کہ کچھ لوگ موجودہ صورتحال کا فائدہ اٹھانا چاہتے ہیں۔ عمران خان احمقوں کی جنت میں رہتے ہیں، عمران خان نے نائن زیرو پر چھاپے کو کراچی کی آزادی قرار دیا۔ رینجرز عمران خان کے بیانات کو سمجھیں، عمران خان ایم کیو ایم کی لاش پر اپنا محل بنانا چاہتے ہیں۔ قبل ازیں قائد ایم کیو ایم الطاف حسین نے کہا ہے کہ نائن زیرو کوئی نوگر ایریا نہیں۔ ڈی جی رینجرز کا بیان جھوٹ پر مبنی ہے۔ نائن زیرو جیسے علاقے کو نوگو ایریا نہیں بنایا جا سکتا۔ نائن زیرو کے اطراف ہر گھر میں الگ خاندان رہتا ہے کور کمانڈر کراچی کا آپریشن سے متعلق بیان بھی حقائق پر مبنی نہیں۔ آپ کی بیوہ بہن کے گھر درجنوں پولیس والے چھاپہ مارتے تو آپ کے دل پر کیا گزرتی۔ الطاف حسین نے کہا ہے کہ ہمیں صرف ہجرت کی سزا دی جارہی ہے۔ میرا قصور یہ ہے کہ میں ”مٹی کا بیٹا“ ہوں، ہم سینٹ کے ٹکٹ نہ خریدتے ہیں نہ فروخت کرتے ہیں۔ فاروق ستار کی پریس کانفرنس نہیں سنی، نہیں معلوم فاروق ستار کے ذہن میں کیا ہے۔ نائن زیرو کے اطراف جرائم پیشہ افراد کو پکڑنا میرا کام نہیں۔ کیا عمران خان کے پاس لائسنس یافتہ اسلحہ موجود نہیں؟ کیا عمران خان کے جلسے میں فائرنگ نہیں ہوتی ہے۔ اے این پی کیخلاف کوئی آپریشن نہیں ہوا۔ شاہی سید کے گھر کتنے چھاپے پڑے۔ رینجرز نے میری رہائش گاہ پر چھاپہ نہیں حملہ کیا۔ میرے علاقے میں کوئی کریمنل ہے تو بلاجھجھک پکڑ لو۔ طریقے سے پکڑ کر لے جاتے تو شور نہ ہوتا۔ میں ہوتا تو کہتا پہلے سرچ وارنٹ دکھاﺅ۔ میں نے مارشل لاءکا ہمیشہ مشروط مطالبہ کیا۔ جنرل راحیل شریف بہادر اور نڈر فوجی ہیں۔ انہوں نے سوال کیا کہ اسامہ بن لادن پی اے ایف کاکول کے قریب کیسے رہ رہا تھا۔ انہوں نے کہا کہ صولت مرزا کا 23 سال سے ایم کیو ایم سے کوئی تعلق نہیں۔ سیاسی قائدین کل مر گئے تو ان کی قیادت کون سنبھالے گا۔ میرے ہاں موروثی سیاست نہیں ہوتی۔ گورنر اور میرے درمیان بہت اختلافات ہیں۔ گورنر کی چال الگ میری الگ ہوتی ہے۔ گورنر ٹھہر ٹھہر کر بولتے ہیں میں روانی سے بولتا ہوں۔ نواز شریف کو روزانہ فکر لگی رہتی ہے کہ حکومت رہے گی یا نہیں، مطلوبہ افراد کہاں تھے کچھ پتہ نہیں۔ رابطہ کمیٹی پر غصہ کیا اور پوچھا جھوٹ کیوں بولا ہے۔ بار بار رابطہ کمیٹی کے ارکان کو بھی بدلا مگر افسوس ایسا پھر بھی ہوا۔ دریں اثناءایم کیو ایم رابطہ کمیٹی نے کہا ہے کہ عمران خان کو ایم کیو ایم فوبیا ہوگیا ہے۔ زہرہ شاہد کی بیٹی نے سوشل میڈیا پر کہا کہ ان کی والدہ کو عمران خان نے قتل کروایا، تحریک انصاف کو ذہنی دیوالیہ پن کے شکار شخص کی قیادت سے چھٹکارا حاصل کرنا چاہئے۔ عمران پہلے اپنی پارٹی کے اندر اختلافات سے نمٹ لیں
متحدہ/ الطاف