نائن زیرو پر چھاپہ اچھا اقدام ہے‘ آپریشن بہت پہلے ہونا چاہیے تھا : عمران خان

نائن زیرو پر چھاپہ اچھا اقدام ہے‘ آپریشن بہت پہلے ہونا چاہیے تھا : عمران خان

اسلام آباد ( نوائے وقت رپورٹ ) عمران خان نے کہا ہے کہ چیئرمین نادرا کی یقین دہانی تحریک انصاف کی بڑی کامیابی ہے، دھاندلی کی تحقیقات کےلئے تحریک انصاف نے قربانیاں دیں، میں نے 126 دن کنٹینر پر گزارے، اب این اے 122 پورے ملک میں دھاندلی کے حوالے سے ٹیسٹ کیس ثابت ہوگا، رینجرز کا نائن زیرو پر چھاپہ درست اقدام ہے، چھاپے میں تاخیر ہوئی، جلد مارا جانا چاہیے تھا، ایک ماہ بعد نادرا رپورٹ آنے کے بعد سپیکر قومی اسمبلی کو جانا پڑے گا۔ وہ چیئرمین نادرا عثمان مبین سے ملاقات کے بعد میڈیا سے گفتگو کررہے تھے۔ ملاقات میں این اے 122سمیت دیگر حلقوں میں انگوٹھے کے نشان کے ذریعے ووٹوں کی تصدیق کےلئے فہرست پیش کی اور فہرست کے ساتھ ان حلقوں میں 2013 کے انتخابات میں انتخابی دھاندلیوں کی نشاندہی بھی کی اور چیئرمین نادرا سے مطالبہ کیا کہ وہ انگوٹھوں کے ذریعے ووٹوں کی تصدیق کا عمل جلد سے جلد مکمل کرلیں، اس پر چیئرمین نادران نے عمران خان کو یقین دہانی کرائی کہ وہ الیکشن ٹربیونل کی جانب سے دی گئی ڈیڈ لائن کے مطابق لاہور کے حلقہ این اے 122 میں ووٹوں کی تصدیق ایک ماہ کے اندر مکمل کریں گے۔ میڈیا سے گفتگو میں عمران نے کہا اس کامیابی پر پاکستانیوں کو مبارکباد دینا چاہتا ہوں اب دھاندلی کا پتہ چل جائے گا، این اے 122 ٹیسٹ کیس بن جائے گا کہ کتنی دھاندلی ہوئی۔ حکمران اس معاملے کو 5 سال تک لے جانا چاہتے تھے، گزشتہ الیکشن میں 70 لاکھ جعلی ووٹ پڑے تھے موجودہ سپیکر جعلی ہیں، یہ جعلی ووٹوں سے منتخب ہوئے ہیں، 2013ءمیں جیتنے والوں نے بھی دھاندلی کی شکایت کی، دہشتگردی کے خاتمہ تک ملٹری کورٹس جاری رہیں گے۔ نائن زیرو پر رینجرز کا چھاپہ اچھا اقدام ہے، ایم کیو ایم نے زاہدہ شاہد سمیت بے شمار لوگوں کو کراچی میں قتل کیا، نائن زیرو آپریشن دیر سے ہوا یہ آپریشن بہت پہلے ہو جانا چاہیے تھا۔ جلد جعلی الیکشن کا احتساب ہوگا، اگر میرے دفتر سے اسلحہ اور قاتل برآمد ہوتے تو میرا دفتر بھی بند کردیا جاتا۔ نجی ٹی وی کے مطابق عمران نے کہا کہ ایک ماہ بعد پتہ چلے گا کہ سچ کون بول رہا تھا اور جھوٹ کون، چند لوگوں نے ملک پر قبضہ کر رکھا ہے۔ ملک میں فراڈ الیکشن کا احتساب ہونے والا ہے۔ خیبر پی کے میں بلدیاتی انتخابات میں بائیومیٹرک سسٹم لانا چاہتے ہیں۔ متحدہ کا عسکری ونگ ختم ہو جائے تو سارا پاکستان خوش حال ہو جائے۔ اب ایم کیو ایم الطاف حسین سے آزاد ہو جائے گی۔
عمران