رضا ربانی چیئرمین‘ غفور حیدری ڈپٹی چیئرمین سینٹ منتخب‘ جے یو آئی (ف) رہنما کے مدمقابل تحریک انصاف کے شبلی فراز کو سات کی بجائے سولہ ووٹ پڑ گئے

رضا ربانی چیئرمین‘ غفور حیدری ڈپٹی چیئرمین سینٹ منتخب‘ جے یو آئی (ف) رہنما کے مدمقابل تحریک انصاف کے شبلی فراز کو سات کی بجائے سولہ ووٹ پڑ گئے

اسلام آباد (وقائع نگار خصوصی +نیوز ایجنسیاں+ نوائے وقت رپورٹ ) میاں رضا ربانی بلامقابلہ چیئرمین سینٹ منتخب ہوگئے جب کہ جمعیت علمائ￿ اسلام (ف) کے سیکرٹری جنرل مولانا عبدالغفور حیدری 74ووٹ لے کر ڈپٹی چیئرمین منتخب ہوئے ان کے مد مقابل تحریک انصاف کے شبلی فراز نے 16ووٹ حاصل کئے جبکہ 6 ووٹ مسترد کر دئیے گئے بی این پی (مینگل) کے جہاں زیب جمالدینی نے کاغذات نامزدگی واپس لے لئے تھے تاہم غفور حیدری کو حکومت اور اپوزیشن کی جانب سے مطلوبہ ووٹ نہیں ملے عام تاثر ہے کہ مختلف سیاسی جماعتوں میں قوم پرست سینیٹرز نے ڈپٹی چیئرمین کے منصب کے لئے ووٹ نہیں دئیے جس کے باعث تحریک انصاف کے امیدوار کو 9زائد ووٹ ملے، میاں رضا ربانی کے مقابلے میں کسی امیدوار نے کاغذات نامزدگی جمع نہیں کرائے، سینیٹرز نے رضا ربانی کو ان کی سیاسی وآئینی خدمات اور بلامقابلہ منتخب ہونے پر شاندار الفاظ میں خراج تحسین پیش کیا۔ سینٹ کے اجلاس میں نومنتخب سینیٹرز کی جانب سے حلف اٹھانے کے بعد چیئرمین اور ڈپٹی چیئرمین سینٹ کے عہدے کیلئے کاغذات نامزدگی جمع کرائے گئے اور اس کیلئے دوپہر 12 بجے تک کا وقت دیا گیا تاہم مقررہ وقت تک کسی جماعت کی جانب سے رضا ربانی کے مقابلے میں کاغذات نامزدگی جمع نہیں کرائے گئے جس کے بعد میاں رضا ربانی بلامقابلہ چیئرمین سینٹ منتخب ہوگئے ، پریزائیڈنگ آفیسر سینیٹر اسحاق ڈار نے رضا ربانی کے چیئرمین سینٹ منتخب ہونے کا باضابطہ اعلان کیا۔ سینیٹر اسحاق ڈار نے سینٹ کو بتایا کہ رضا ربانی کا نام طاہر مشہدی، سراج الحق، مشاہد حسین نے تجویز کیا جبکہ ان کے تجویز کنندہ میں غفور حیدری، ہدایت اللہ اور اسرار اللہ زہری بھی شامل تھے۔ دریں اثنائ￿ ڈپٹی چیئرمین سینٹ کیلئے ابتدائی طور پر 4 نام سامنے آئے جن میں تحریک انصاف کے سید شبلی فراز ، جمعیت علمائ￿ اسلام (ف) کے مولانا عبدالغفور حیدری اور حافظ حمد اللہ جبکہ ایم کیو ایم کی نگہت مرزا ہیں بعد ازاں جے یو آئی (ف) کے حافظ حمد اللہ اور ایم کیو ایم کی نگہت مرزا نے اپنے کاغذات واپس لے لئے مولانا عبد الغفور حیدری کو عطائ￿ الرحمنٰ اور صالح شاہ اور سید شبلی فراز کو سراج الحق نے تجویز کیا۔ نومنتخب چیئرمین سینٹ اور ڈپٹی چیئرمین سینٹ سے وزیر خزانہ اسحقٰ ڈار نے حلف لیا۔ رضا ربانی پیشے کے اعتبار سے قانون دان ہیں۔ نومنتخب چیئرمین نے اپنے انتخاب پر ایوان کا شکریہ ادا کیا۔ انہوں نے ایوان سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ مجھے یقین ہے کہ سینٹ کے ارکان ایوان کے وقار کو نبھائیں گے اور اپنا بھرپور کردار ادا کریں گے۔ میری کوشش ہو گی کہ بطور چیئرمین سب کو ایک نظر سے دیکھوں۔ پوری کوشش کروں گا کہ سیاسی قیادت کے اعتماد کو ٹھیس نہ پہنچے۔ میں نے غیر جانبدار رہنے کیلئے پارٹی کے عہدے سے استعفیٰ دیدیا ہے مجھے اس عہدے پر پہنچانے میں سب سے بڑا کردار شہید محترمہ بے نظیر بھٹو کا ہے۔ میری کوشش ہو گی کہ پارلیمان کو مضبوط کروں، پارلیمانی روایات کو فروغ دوں اور سینٹ کے وقار کا تحفظ کروں۔کوشش کروں گا کہ ارکان نے جو ذمہ داری میرے کندھوں پر ڈالی ہے اسے پوری کروں۔ قبل ازیں ایوان بالا کے نئے منتخب ارکان نے حلف اٹھایا‘ تاہم شام کے وقت حاصل بزنجو اور راحیلہ مگسی نے بھی حلف اٹھالیا وزیر خزانہ اسحق ڈار نے بطور پریزائیڈنگ آفیسر نومنتخب سینیٹرز سے حلف لیا۔ پریزائیڈنگ آفیسر اسحق ڈار کی زیر صدارت سینٹ کا اجلاس منعقد ہوا جس میں سینٹ انتخاب میں منتخب ہونے والے 48 میں سے 44 ارکان نے حلف اٹھایا۔ وزیر خزانہ اسحق ڈار نے ان سے حلف لیا۔ واضح رہے کہ سینٹ کی 52 نشستوں پر الیکشن ہوئے تھے جن میں سے 48 اراکین بطور ممبر سینٹ منتخب ہوئے جبکہ فاٹا کی 4 نشستوں پر صدارتی آرڈیننس کے باعث الیکشن ملتوی ہوگئے تھے۔ راحیلہ مگسی کو الیکشن کمشن کی جانب سے چیئرمین سینٹ اور ڈپٹی چیئرمین کے انتخاب میں ووٹ دینے کی غیر مشروط اجازت دی گئی تھی۔ وزیراعظم نواز شریف نے فون کرکے رضا ربانی کو بلامقابلہ چیئرمین سینٹ منتخب ہونے پر مبارکباد دی۔ اپنے بیان میں وزیراعظم نے کہا کہ متفقہ چیئرمین سینٹ منتخب ہونے سے جمہوریت مضبوط ہو گی۔ مسلم لیگ (ن) مفاہمت اور مذاکرات کی سیاست پر یقین رکھتی ہے۔ ذرائع کے مطابق جے یو آئی کے مولانا عبدالغفور حیدری کو ڈپٹی چیئرمین سینٹ منتخب کرانے کیلئے مولانا فضل الرحمن نے سابق صدر آصف علی زرداری سے مداخلت کی درخواست کی تھی جس پر آصف زرداری نے حکومت اور اپوزیشن جماعتوں سے بات کی۔ دوپہر دو بجے تک جے یو آئی سمیت کسی کو بھی یقین نہیں تھا کہ عبدالغفور حیدری منتخب ہوجائیں گے۔ حکومت چاہتی تھی کہ بی این پی کے جمالدینی منتخب ہوں، ق لیگ اپنا ڈپٹی چیئرمین لانا چاہتی تھی۔ سابق صدر کی مداخلت پر بی این پی نے اپنا امیدوار پیچھے ہٹا لیا تاہم کچھ اپوزیشن جماعتیں شش و پنج میں تھیں اسی لئے شبلی فراز کو 7 کی بجائے 16 ووٹ پڑے جو ان کی توقع سے بھی زیادہ تھے۔ ذرائع کے مطابق تمام جماعتوں نے عبدالغفور حیدری کو ووٹ دینے کا فیصلہ کیا تھا۔ سیاسی جماعتیں حیران ہیں کہ شبلی فراز کو 16 ووٹ کیسے پڑے۔ سیاسی جماعتوں نے تحقیقات کرانے کا فیصلہ کیا ہے۔ مسلم لیگ ن کے چیئرمین راجہ ظفرالحق نے بھی کہا ہے کہ پی ٹی آئی کے امیدوار کو 7 کی بجائے 16 ووٹ کیسے پڑ گئے، اس کی تحقیقات کرائیں گے۔ غفور حیدری نے ڈپٹی چیئرمین کے انتخاب میں 74 ووٹ لئے جبکہ ان کے مدمقابل شبلی فراز نے 16 ووٹ حاصل کئے۔ کل 96 ووٹ پڑے۔ نومنتخب چیئرمین سینٹ رضا ربانی کی حلف برداری تقریب کے موقع پر پیپلز پارٹی کے اراکین کی مہمانوں کی گیلری جئے بھٹو، زندہ ہے بی بی زندہ ہے کے نعروں سے گونج اٹھی جبکہ سکیورٹی اہلکار ان کو نعرے لگانے سے روکتے رہے۔ نجی ٹی وی کے مطابق ن لیگ کے اقبال ظفر جھگڑا کاکہنا ہے کہ پی ٹی آئی امیدوارکو اضافی ووٹ ملنا تشویش کا باعث ہے اس حوالے سے لیگی حضرات نے کہا کہ مجھے 16 ووٹ پڑتا حکومت اور دیگر جماعتوں کیلئے لمحۂ فکریہ ہے۔دریں اثنائ￿ چیئرمین سینٹ و قائم مقام صدر رضا ربانی نے سابق صدر آصف علی زرداری سے ملاقات کی اور چیئرمین سینٹ کے انتخاب میں اہم کردار پر زرداری کا شکریہ ادا کیاملاقات میں نومنتخب ڈپٹی چیئرمین مولانا عبدالغفور حیدری، سید خورشید شاہ، راجہ پرویز اشرف ، رحمان ملک، فرحت اللہ بابر بھی موجود تھے آصف علی زرداری نے رضا ربانی اور عبدالغفور حیدری کو مبارکباد دی آصف علی زرداری کا کہنا تھا کہ چیئرمین سینٹ کے انتخاب میں تعاون پر تمام جماعتوں کے شکر گزار ہیں۔پی پی مفاہمت کی پالیسی پر عمل پیرا ہے۔رضا ربانی چیئرمین سینٹ منتخب ہونے کے بعد 14 مارچ کو قائداعظم اور15 مارچ کو گڑھی خدا بخش میں ذوالفقار علی بھٹو اور بے نظیر بھٹو کے مزار پر حاضری دینگے، جبکہ 20 مارچ کو عمرہ کی ادائیگی کیلئے سعودی عرب پر جائیں گے۔اپوزیشن لیڈر سید خورشید شاہ نے وزیراعظم نوازشریف کو ٹیلی فون کرکے اپوزیشن جماعتوں کی جانب ڈپٹی چیئرمین کا عہدہ جمعیت علمائ￿ اسلام (ف) کو دینے کے فیصلے سے آگاہ کیا۔ وزیراعظم نوازشریف نے ڈپٹی چیئرمین اپوزیشن کی طرف سے جے یو آئی(ف) کو دینے کے فیصلے کے بعد اتحادی جماعتوں کے قائدین سے مشاورت کی۔ وزیراعظم نے نیشنل پارٹی کے رہنما حاصل بزنجو اور عوامی ملی پارٹی کے رہنما محمود خان اچکزئی سے ملاقات کی حاصل بزنجو اور محمود خان اچکزئی نے اپنے تحفظات کا اظہار کیا۔قبل ازیں خورشید شاہ نے حاصل بزنجو اور محمود خان اچکزئی سے ملاقات کی اور چیئرمین سینٹ کیلئے عبدالغفور حیدری کے نام سے آگاہ کیا جس پر دونوں رہنما ناراض ہوگئے۔ اجلاس میں اپوزیشن لیڈر نے تحفظات سے آصف زرداری اور اپوزیشن جماعتوں کے قائدین کو آگاہ کیا اس دوران جے یو آئی کے امیر مولانا فضل الرحمن اجلاس سے اٹھ کر چلے گئے۔ایم کیو ایم نے ڈپٹی چیئرمین سینٹ کیلئے جے یو آئی کے امیدوار عبدالغفور حیدری کی حمایت کا اعلان کیا۔ کرنل (ر) طاہر مشہدی، سینیٹر نسرین جلیل اور دیگر نے غفور حیدری سے ملاقات کی۔ذرائع کے مطابق (ق) لیگ کے بعض سمیت 2 بلوچ سینیٹرز اور پی پی پی کے بابر اعوان نے بھی اپنا ووٹ شبلی فراز کو دیا۔ سیاسی حلقوں کا کہنا ہے کہ لوگوں کی جانب سے یہ معروف شاعر احمد فراز (مرحوم) سے عقیدت اور محبت کا اظہار بھی ہوسکتا جبکہ پیپلزپارٹی کے تین سینیٹرز نے بھی احمد فراز کے بھائی سابق گورنر خیبر پی کے بیرسٹر مسعود کوثر سے بھی دوستی نبھاتے ہوئے شبلی فراز کو ووٹ دئیے ہیں۔
چیئرمین سینٹ منتخب