پنجاب: تنخواہوں‘ پنشن میں اضافہ: 10 لاکھ تک کی شہری جائیداد بیچنے خریدنے پر کپیٹل ویلیو ٹیکس

پنجاب: تنخواہوں‘ پنشن میں اضافہ: 10 لاکھ تک کی شہری جائیداد بیچنے خریدنے پر کپیٹل ویلیو ٹیکس

لاہور (خصوصی رپورٹر+ خصوصی نامہ نگار+ کامرس رپورٹر) پنجاب حکومت نے مالی سال 16-2015 کا 14 کھرب 47 ارب 24 کروڑ روپے کا بجٹ پیش کر دیا۔ سرکاری ملازمین کی تنخواہوں، پنشن میں ساڑھے 7 فیصد اور میڈیکل الاؤنس میں 25 فیصد اضافہ کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔ پہلی بار پنجاب کی خاتون وزیرخزانہ ڈاکٹر عائشہ غوث نے بجٹ پیش کیا۔ تقریر کے دوران اپوزیشن نے شدید نعرے بازی کی تاہم شور شرابے کے باوجود صوبائی وزیرخزانہ نے بجٹ تقریر جاری رکھی۔ آئندہ مالی سال کے صوبائی بجٹ کا مجموعی حجم 14 کھرب، 47 ارب 24 کروڑ روپے رکھا گیا ہے۔ صوبائی بجٹ میں براہ راست ترسیلات کی مد میں وفاق سے 30 ارب 40 کروڑ روپے حاصل ہوں گے، کل آمدنی کا تخمینہ ایک ہزار 440 ارب روپے لگایا گیا ہے جبکہ ایک ارب روپے رجب طیب اردگان ہسپتال کے لئے مختص کئے گئے ہیں۔ آئندہ مالی سال کے بجٹ میں غریب عوام کو بلاسود قرضوں کیلئے 2 ارب، پاکستان کڈنی اینڈ لیور انسٹیٹیوٹ کیلیے 3 ارب، ہسپتالوں میں مفت ادویات کیلیے 10 ارب 82 کروڑ، کسانوں کو ٹریکٹر دینے کیلیے 5 ارب، راولپنڈی، ملتان، فیصل آباد سمیت بڑے شہروں میں جدید سہولیات کے لئے16 ارب 36 کروڑ، 26 ارب روپے لاگت سے ملتان میٹروبس منصوبہ مکمل کیا جائے گا۔ صوبائی وزیر خزانہ نے کہا کہ سرکاری ملازمین کے 2 ایڈہاک ریلیف الاؤنسز بنیادی تنخواہ میں ضم کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ سرکاری ملازمتوں میں خواتین کیلئے 15 فیصد کوٹہ مقرر کیا گیا ہے جبکہ سرکاری ملازمتوں میں خواتین کی عمر کی حد میں تین سال رعایت دینے کا بھی فیصلہ کیا گیا ہے خواتین کی فلاح و بہبود پر ترقیاتی بجٹ سے مجموعی طور پر 32 ارب 16 کروڑ روپے صرف کئے جا رہے ہیں جبکہ گریڈ 18 سے 20 تک کے ڈاکٹروں کی 10 ہزار آسامیاں پیدا کی جائیں گی۔ انہوں نے پنجاب میں کم ازکم تنخواہ 12 ہزار سے بڑھا کر 13 ہزار کرنے کا اعلان بھی کیا۔ وزیر خزانہ نے بتایا کہ لیپ ٹاپ سکیم کے لئے 5 ارب، کسانوں کو ٹریکٹر دینے کیلئے 5 ارب روپے، لائیو سٹاک کے شعبے کے لئے 8 ارب 59 کروڑ روپے، معدنی ذخائر سے استفادہ کے لئے 2 ارب 17 کروڑ کی رقم، ماڈل مویشی منڈیوں کیلئے 80 کروڑ روپے، مواصلات اور ورکس کے لئے 81 ارب روپے، سیاحت کے فروغ کے لیے 93 کروڑ روپے جبکہ زرعی شعبے کے لئے 19 ارب روپے مختص کئے گئے ہیں۔ بے روزگاروں کے لیے اپنا روزگار سکیم کے تحت 50 ہزار گاڑیاں فراہم کی جا رہی ہیں اور اس منصوبے کے لیے 31 ارب روپے رکھے گئے ہیں۔ صوبائی حکومت محنت کشوں کیلئے لاہور اور ملتان میں رہائشی منصوبے بھی شروع کرے گی۔ انہوں نے کہا کہ یہ پاکستان مسلم لیگ (ن) کی موجودہ منتخب حکومت کا تیسرا بجٹ ہے اور ہماری حکومت کی ترجیحات اور پالیسیوں میں تسلسل کا آئینہ دار ہے۔ مسلم لیگ (ن) کی ان ترجیحات کا مقصد پنجاب کو ایک ایسا صوبہ بنانا ہے جہاں ایک عام آدمی کی رسائی صحت اور تعلیم سمیت زندگی کی تمام سہولتوں تک ممکن ہو، جہاں تعلیم یافتہ اور ہنرمند نوجوانوں کو روزگار کے وسیع تر مواقع میسر آ سکیں۔ جہاں صنعت، زراعت اور گھریلو استعمال کے لئے وافر بجلی دستیاب ہو، جہاں کی رواں دواں صنعتیں اور سرسبز زراعت ایک خوشحال پاکستان کی ضامن ہوں، جہاں قانون کی حکمرانی اور انصاف کی بالادستی ہو اور جہاں کے شہری ہر طرح کے تشدد اور دہشت گردی کے خوف سے آزاد، پرامن اور مطمئن زندگی گزار سکیں۔ انہوں نے کہا کہ حکومت پنجاب نے صوبے میں ترقی کے اہداف کے حصول کیلئے وزیراعلیٰ پنجاب محمد شہباز شریف کے ویژن کے مطابق ایک اقتصادی نمو کی جامع حکمت عملی ترتیب دی ہے۔ صوبے کی معاشی ترقی کی شرح 2018ء تک سات سے آٹھ فیصد تک لے کر جانا۔ نوجوانوں کو روزگار کی فراہمی کیلئے سالانہ دس لاکھ مواقع پیدا کرنا۔ 2018ء تک صوبے میں نجی سرمایہ کاری کو دوگنا کرنا۔ دہشت گردی کے خاتمے اور صوبے کے عوام کے جان و مال کے تحفظ کیلئے تمام ممکنہ اقدامات کو یقینی بنانا۔ برآمدات میں اضافے کی شرح کو پندرہ فیصد تک لے جانا شامل ہے۔ وزیرخزانہ نے کہا کہ مالی سال 2015-16ء کی کل آمدن کا تخمینہ ایک ہزار چار سو سینتالیس ارب چوبیس کروڑ روپے لگایا گیا ہے۔ علاوہ ازیں وفاقی حکومت سے براہ راست منتقلیوں کی مد میں اکتیس ارب چار کروڑ روپے ملنے کی توقع ہے۔ مزید برآں صوبائی ریونیو میں دو سو چھپن ارب سات کروڑ روپے کی آمدن متوقع ہے جس میں ٹیکسوں کی مد میں ایک سو ساٹھ ارب انسٹھ کروڑ روپے اور نان ٹیکس کی مد میں پچانوے ارب سنتالیس کروڑ روپے شامل ہیں۔ مالی سال 2015-16 کے جاری اخراجات کا کل تخمینہ ایک ہزار چار سو سینتالیس ارب چوبیس کروڑ روپے ہے۔ حکومت پنجاب نے زرعی اجناس کی سستی نقل و حمل کیلئے صوبے بھر کے دیہی علاقوں میں مرحلہ وار پروگرام کے تحت ایک سو پچاس ارب روپے کی مالیت سے نئی سڑکیں تعمیر کرنے اور پرانی سڑکوں کی مرمت اور توسیع کا ایک عظیم الشان منصوبہ بنایا ہے۔ حکومت نے اس منصوبے کے لئے آئندہ مالی سال میں باون ارب روپے مختص کئے ہیں۔ آئندہ مالی سال میں حکومت چھوٹے کاشتکاروں کو سستے ٹریکٹر فراہم کرنے کیلئے پانچ ارب روپے کی سبسڈی مہیا کر رہی ہے جس سے کسانوں میں پچیس ہزار ٹریکٹر ماضی کی طرح میرٹ کی بنیاد پر نہایت شفاف طریقے سے فراہم کئے جائیں گے۔ ٹریکٹرز کے علاوہ کسانوں کو دیگر زرعی آلات اور اشیاء فراہم کرنے کیلئے ایک ارب روپے سے زائد رقم مختص کرنے کی تجویز ہے۔ وزیرخزانہ نے کہا کہ صوبے میں ایک جامع منصوبے کے تحت بیراجوں کی مرمت اور بحالی کے کام کا آغاز کیا جا چکا ہے۔ جناح بیراج کی بحالی کا مصوبہ بارہ ارب ستاسٹھ کروڑ روپے کی لاگت سے آئندہ مالی سال میں پایہ تکمیل کو پہنچ جائے گا جس کیلئے بجٹ میں نوے کروڑ روپے رقم مختص کی گئی ہے۔ تئیس ارب چوالیس کروڑ روپے کی مالیت سے زیر تعمیر نئے خانکی بیراج کے لئے آئندہ مالی سال کے بجٹ میں چھ ارب پندرہ کروڑ روپے کی خطیر رقم رکھی گئی ہے۔ سیالکوٹ، کامونکی اور اس کی ملحقہ آبادیوں کو سیلاب سے بچانے کیلئے ایک مرحلہ وار پروگرام کے تحت آٹھ ارب روپے کی مالیت کے منصوبے تیار کئے گئے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ عوام کو صاف پانی کی فراہمی کے اس منصوبے کا آغاز جنوبی پنجاب کے دیہات سے جلد کیا جا رہا ہے۔ حکومت پنجاب نے مالی سال 2015-16ء کے دوران اس منصوبے کیلئے گیارہ ارب روپے کی رقم مختص کی ہے۔ لاہور کیلئے 27 کلو میٹر طویل پاکستان کی تاریخ کے پہلے میٹرو ٹرین اورنج لائن منصوبہ جلد شروع کرنے کا اعلان کر دیا گیا جس کے لئے 165 ارب روپے کی رقم فراہم کی جائے گی۔ حکومت نے روزگار اور آشیانہ سکیمیں جاری رکھنے کا فیصلہ کیا ہے خود روزگار سکیم کے تحت 50 ہزار گاڑیاں تقسیم کی جائیں گی۔ لیپ ٹاپ سکیم کے لئے 5 ارب رکھے گئے ہیں۔ وزیر خزانہ نے کہا کہ روزگار کے 10 لاکھ مواقع پیدا کئے جائیں گے۔ پنجاب حکومت نے صوبے کے ہونہار طلبا کو لیپ ٹاپس تقسیم کرنے کیلئے 5 ارب 40 کروڑ روپے آئندہ مالی سال میں مختص کئے گئے ہیں اور ایک لاکھ لیپ ٹاپ خریدے جائیں گے۔ پینشنرز کیلئے ایک کھرب 14 ارب روپے آئندہ مالی سال کیلئے مختص کئے گئے ہیں۔ حکومت پنجاب بے روزگار مرد و خواتین کو باعزت روزگار کی فراہمی کے لئے اپنا روزگار سکیم کے تحت گاڑیاں فراہم کر رہی ہے۔ حکومت پنجاب کی طرف سے اس بجٹ کے لئے 6 ارب 37 کروڑ روپے کی سبسڈی موجودہ میزانیے میں فراہم کی جائیگی۔ پنجاب میں آئندہ مالی سال میں کم وسیلہ افراد کو بلاسود قرضے فراہم کرنے کے لئے مزید 2 ارب روپے مختص کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے جس سے بلاسود قرض لے کر کاروبار کرنے والوں کی تعداد 10 لاکھ سے بڑھ جائے گی۔ حکومت پنجاب نے کم آمدن والے افراد کو معاشی اور معاشرتی تحفظ فراہم کرنے کے لئے پنجاب سوشل اتھارٹی قائم کی ہے جو صوبہ بھر میں معذور افراد کی امداد، انکی معاشی اور سماجی بحالی کے لئے ماہانہ وظائف دینے کے پروگرام کے منصوبے پر عمل کرے گی جس کے لئے 2 ارب مختص کئے گئے ہیں۔ پنجاب کے آئندہ مالی سال 2015-16ء کے بجٹ میں ٹیکس اور نان ٹیکس آمدنی کا تخمینہ 256.1 ارب روپے لگایا گیا ہے جو رواں مالی سال 2014-15ء کے نظرثانی شدہ ٹیکس اور نان ٹیکس آمدنی 215.75 ارب روپے کے ہدف کے مقابلے میں 40.35 ارب روپے زائد ہے۔ آئندہ مالی سال 2015-16ء کے بجٹ میں مقامی حکومتوں کے لئے 2 کھرب 69 ارب 20 کروڑ روپے مختص کئے گئے ہیں جو رواں مالی سال 2014-15ء کے لئے مقامی حکومتوں کے لئے مختص کئے گئے نظرثانی شدہ 2 کھرب 61 ارب 82 کروڑ 22 لاکھ روپے کے مقابلے میں 7 ارب 37 کروڑ 75 لاکھ روپے زائد ہے۔ بجٹ دستاویز کے مطابق صوبے کی ضلعی حکومتوں کے لئے 245 ارب روپے، تحصیل ایڈمنسٹریشنوں کے لئے 17 ارب روپے، یونین ایڈمنسٹریشنوں کے لئے 6 ارب روپے اور کنٹونمنٹ بورڈز کے لئے 1.2 ارب روپے رکھے گئے ہیں۔ پنجاب اسمبلی کے ایوان میں 42 ارب 95 کروڑ 33 لاکھ 74 ہزار روپے کا ضمنی بجٹ بھی پیش کر دیا گیا۔ صوبائی وزیر خزانہ ڈاکٹر عائشہ غوث پاشا نے آئندہ مالی سال 2015-16 کا بجٹ پیش کرنے کے بعد ضمنی بجٹ گوشوارہ برائے سال 2014-15 ایوان میں پیش کیا۔ ضمنی بجٹ کے تحت مختلف شعبوں کو دی جانے والی ریلیف کی مد میں 18ارب57کروڑ99لاکھ 68ہزار روپے،سڑکوں اور پلوں کی تعمیرات کی مد میں 9ارب12کروڑ68لاکھ83ہزار روپے ،خود مختار اداروں اور میونسپل کارپوریشنوں کے قرضوں کی مد میں 2ارب 51کروڑ17لاکھ57ہزار روپے ،مختلف مدات میں 1 ارب 62 کروڑ 78لاکھ56ہزار روپے خرچ کئے گئے ہیں۔ ضمنی بجٹ میں بتایا گیا جنرل ایڈمنسٹریشن کی مد میں 1ارب 92کروڑ 92لاکھ 89ہزار روپے، پبلک ہیلتھ کی مد میں 4ارب97کروڑ روپے،انڈسٹری کی مد میں 28 کروڑ 69لاکھ روپے ،سول ورکس کی مد میں 56کروڑ روپے اور پراونشل ایکسائز کی مد میں 54کروڑ42لاکھ کے اخراجات ہوئے۔غریب طبقہ کے لئے ہیلتھ انشورنس سکیم شروع کرنے کا بھی اعلان کیا گیا ہے جس کے لئے پہلے مرحلے میں 8اضلاع کو شامل کیا گیا ہے اور اس کے لئے 2ارب 50کروڑ روپے رکھے گئے ہیں، ایک لاکھ مزید لیپ ٹاپ دیئے جائیں گے جس کے لئے 5ارب روپے رکھے گئے ہیں۔
لاہور( کامرس رپورٹر)پنجاب کے آئندہ مالی سال 2015-16ء کے لئے فنانس بل میں انفراسٹرکچرڈویلپمنٹ سیس کے نام سے نیا ٹیکس عائد کرنے کی تجویز دی گئی ہے جبکہ شہری علاقوں میں 10 لاکھ روپے تک کی پراپرٹی کی خرید و فروخت پر کیپٹل ویلیو ٹیکس کا استثنیٰ ختم اور کلبوں پر عائد ایجوکیشن سیس ختم کر دیا گیا جبکہ کلبوں سے صرف 16فیصد جی ایس ٹی آن سروسز وصول کیا جائے گا۔ ٹرانسفر آف لیز ہولڈنگ رائٹس پر ڈی سی ریٹ (ویلیو ایشن ٹیبل) میں دئیے گئے ریٹس کے مطابق سٹیمپ ڈیوٹی عائد کر دی گئی جبکہ پنجاب میں دس نئی سروسز پر جنرل سیلز ٹیکس عائد کر دیا گیا ہے جن میں پبلک ریلیشن سروسز، چارٹرڈ اکائونٹنٹس، آڈیٹرز، کارپوریٹ لاء کنسلٹنٹ وغیرہ، ائیر ٹریولز، ٹرانسپورٹیشن آف گڈز بذریعہ ہوائی جہاز، سڑک، چارٹرڈ فلائٹس، ہائرنگ آف ایکوپمنٹ اینڈ مشینری سروسز، ڈیٹ کولیکشن سروسز، سپلائی چینز، مینجمنٹ سروسز، فوٹو گرافی سروسز اور سپانسر شپ سروسز شامل ہیں۔ فنانس بل کے مطابق پنجاب ریونیو اتھارٹی کو نئے اختیارات تفویض کئے گئے ہیں جن کے تحت وہ ٹیکس دہندگان کے آڈٹ کے دوران ان سے معلومات اکٹھی کر سکے گی، علاوہ ازیں ٹیکس چھپانے اور ٹیکس چوری کرنے والوں کی اطلاع دینے والوں کے لئے انعامی سکیمیں بھی شروع کرنے کی تجویز دی گئی ہے۔ تفصیلات کے مطابق پنجاب میں عائد کئے جانے والے نئے ٹیکس انفراسٹرکچر ڈویلپمنٹ سیس کا نفاذ پنجاب بھر کی ڈرائی پورٹس پر ہوگا جہاں سے برآمد و درآمد کی جانے والی اشیاء پر یہ ٹیکس 0.9فیصد کی شرح سے وصول کیا جائے گا ۔ شہری علاقوں میں دس لاکھ روپے تک کی پراپرٹی کی خریدوفروخت پر کیپٹل ویلیو ٹیکس کا استثنیٰ تھا جسے آئندہ مالی سال کے فنانس بل میں ختم کرنے کی تجویز دی گئی ہے۔ یہ اقدام اسکے غلط استعمال کو دیکھتے ہوئے عمل میں لایا گیا ہے جسکے لئے تجویز کیا گیا ہے کہ شہری علاقوں میں دس لاکھ روپے تک کی پراپرٹی کی خرید و فروخت پر کیپٹل ویلیو ٹیکس عائد کیا جائے۔ پنجاب بھر کے کلبوں پر ایجوکیشن سیس ختم کرنے کی تجویز دی گئی ہے۔ پنجاب ریو نیو اتھارٹی ان کلبوں پر 16فیصد کے حساب سے جی ایس ٹی آن سروسز وصول بھی کر رہی تھی، حکومت نے دوہری ٹیکسیشن کو ختم کرنے کا فیصلہ کرتے ہوئے تجویز کیا ہے کہ اب کلبوں پر صرف16فیصد جی ایس ٹی آن سروسز ہی وصول کیا جائے گا۔ ٹرانسفر آف لیز ہولڈنگ رائٹس پر متعلقہ پارٹیوں کے ظاہر کردہ جائیداد کی مالیت کے مطابق سٹیمپ ڈیوٹی وصول کی جاتی تھی جسے آئندہ مالی سال کے فنانس بل کے تحت ختم کر دیا گیا ہے اور اب سٹینمپ ایکٹ 1899ڈسٹرکٹ کنٹرولر انڈر سیکشن 27-Aمیں درج کئے گئے ریٹس کے مطابق سٹیمپ ڈیوٹی وصول کی جائے گی ۔پنجاب میں گڈز کی ٹرانسپورٹیشن پر 16 فیصد کے حساب سے جی ایس ٹی عائد کرنے کی تجویز دی گئی ہے۔ شہروں کے درمیان اشیاء کی نقل و حمل بذریعہ سٹرک و ریل کی سروسز فراہم کرنے والے افراد پر 16فیصد جی ایس ٹی ‘ ویزا پراسیسنگ سروسز پر16فیصد ‘مشینری سمیت دیگر اشیاء سپلائی کرنے والی سروسز پر 16فیصد جی ایس ٹی عائد کرنے کی تجویز دی گئی ہے۔ پبلک ریلیشنز سروسز پر 16فیصد، چارٹرڈ اکائونٹٹس،آڈیٹرز ،ٹیکس کنسلٹنٹ کی سروسز پر بھی 16فیصد، ڈومیسٹک اشیاء کی نقل و حمل بذریعہ ہوائی جہاز کی سروسز پر 16فیصد ، ائیر ٹریولز پر پنجاب سے لمبے ہوائی سفر پر فی ٹکٹ 2500روپے، چھوٹے سفر کے لئے 1500روپے فی ٹکٹ ، اکانومی اور اکانومی پلس کلاس کے لئے 5ہزار روپے فی ٹکٹ ،کلب بزنس اور فرسٹ کلاس ہوائی سفر کے لئے فی ٹکٹ 10ہزار روپے جی ایس ٹی عائد کرنے کی تجویز دی گئی ہے۔ جبکہ حج ، عمرہ ،ڈپلومیٹس اوراعلیٰ سرکاری حکام اس ٹیکس سے مستثنیٰ ہوں گے۔ پنجاب سے چارٹرڈ فلائٹس پر 16فیصد ،ڈوبا ہوا قرض اکٹھا کرنے کی خدمات فراہم کرنے والوں پر 16فیصد ،سپلائی چین مینجمنٹ پر 16فیصد ،فوٹو گرافی سٹوڈیوز ،تقاریب کی فوٹو گرافی اور فلم بنانے والوں پر 16فیصد جی ایس ٹی عائد کرنے کی تجویز دی گئی ہے۔ تاہم انفراد ی فوٹو گرافر اور چھوٹی دکانوں جنہیں پنجاب ریونیو اتھارٹی چھوٹے دکاندار ڈیکلیئر کرے گی وہ اس ٹیکس سے مستثنیٰ قرار دئیے گئے ہیں۔ علاوہ ازیں سپانسر شپ سروسز پر 16فیصد جی ایس ٹی عائد کرنے کی تجویز دی گئی ہے ۔بیرون ملک تعلیم اور امیگریشن کی خدمات پر بھی 16 فیصد ٹیکس لگانے کی تجویز ہے۔ ائرکنڈیشنڈ پارلرز، سلمنگ کلینکس اور ہیئر ٹرانسپلانٹ سنٹرز پر ٹیکس 400 سے بڑھا کر ایک ہزار روپے کردیا گیا۔ پنجاب میں درآمد کی جانے والی تازہ سبزیوں اور پھلوں پر ٹیکس کا نفاذ نہیں ہو گا۔ قبل ازیں وزیراعلیٰ پنجاب محمد شہباز شریف کی زیرصدارت گزشتہ روز صوبائی کابینہ کا اجلاس منعقد ہوا جس میں صوبہ پنجاب کے مالی سال 2015-16 کے بجٹ تجاویز کی منظوری دی گئی۔ اجلاس میں مالیاتی بل 2015 اور مالی سال 2014-15 کے نظرثانی شدہ تخمینہ جات کی بھی منظوری دی گئی۔ کابینہ کے اجلاس میں انٹرنیٹ سروسز پر سیلز ٹیکس کے نفاذ کی تجویز کو متفقہ طورپر مسترد کردیا گیا۔فنانس بل میں پراپرٹی ٹیکس، ٹوکن ٹیکس اور سٹامپ ڈیوٹی میں کسی قسم کا اضافہ نہیں کیا گیا۔ پنجاب ریونیو اتھارٹی نے صوبے میں چھوٹے کاروبار کرنے والے افراد کیلئے کم ریٹ سکیم رائج کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ اس کے علاوہ ریسٹورنٹس سیکٹر میں ٹیکس کے نام کو صاف و شفاف بنانے کیلئے ریسٹورنٹ انوائس مانیٹرنگ سسٹم کے اجراء کا بھی فیصلہ کیا گیا ہے۔ پنجاب ریونیو اتھارٹی کے ٹیکس نظام کو بہتر بنانے اور ٹیکس دہندگان کی سہولیات کیلئے راولپنڈی،گوجرانوالہ، ملتان اور فیصل آباد میں نئے کمشنریٹ قائم کئے جائیں گے۔