پنجاب اسمبلی کے اندر اور باہر اپوزیشن کا احتجاج، دھرنا، سپیکر کے ڈائس کا گھیرائو

پنجاب اسمبلی کے اندر اور باہر اپوزیشن کا احتجاج، دھرنا، سپیکر کے ڈائس کا گھیرائو

لاہور (خصوصی رپورٹر+سپورٹس رپورٹر+ نیوز ایجنسیاں) پنجاب اسمبلی کے بجٹ اجلاس سے قبل اپوزیشن ارکان نے ایوان سے باہر آ کر سیاہ پٹیاں باندھ کر نعرے بازی کی۔ اس موقع پر اپوزیشن لیڈر میاں محمود الرشید کا کہنا تھا کہ حکمران جماعت ہمارے ساتھ توہین آمیز سلوک کر رہی ہے۔ جن حلقوں سے ہمارے امیدوار جیتے ہیں ان حلقوں میں ہارنے والے ارکان کو ترقیاتی بجٹ کے فنڈز دیئے جا رہے ہیں جبکہ ہمیں بالکل نظرانداز کیا جا رہا ہے۔ وفاقی بجٹ میں عوام پر اڑھائی سو ارب کے ٹیکسز کا بوجھ ڈال دیا گیا جس پر ہمارا احتجاج جاری رہے گا۔ اس دوران وزیراعلیٰ پنجاب بجٹ اجلاس میں شرکت کے لئے آئے تو اپوزیشن ارکان نے شدید نعرے بازی کرنا شروع کر دی، ظلم کے ضابطے ہم نہیں مانتے، نواز شریف اور شہباز شریف کے خلاف بھی نعرے بازی کرتے رہے۔ پنجاب اسمبلی میں (ق) لیگ ‘ پیپلزپارٹی اور تحر یک انصاف کے ارکان نے ایوان میں احتجاجی دھرنا اور سپیکر کے ڈائس کا گھیرائو کر لیا‘ ایوان ’’گو نوازگو‘‘ ’’گوشہبازشریف گو‘‘ بجٹ نہ منظور ‘ اور جھوٹے جھوٹے کے نعروں سے گونجتا رہا ‘حکو متی ارکان ’’رو عمران رو ‘‘کے نعرے لگاتے رہے جبکہ سپیکردونوں اطراف کے اراکین کو خاموش کروانے کی کوشش کرتے رہے۔ پنجاب اسمبلی میں جماعت اسلامی کے پارلیمانی لیڈر ڈاکٹر وسیم اختر اپوزیشن کے احتجاج سے لاتعلق رہے۔ محمود الرشید کی قیادت میں میاں اسلم اقبال، خدیجہ فاروقی اور پیپلز پارٹی کے پارلیمانی لیڈر سردار شہاب سمیت انکے دیگر ساتھی ’’جھوٹے جھوٹے‘‘ جبکہ تحریک انصاف کے ممبران اسمبلی ’’گو نواز گو‘‘ کے نعرے لگاتے رہے جبکہ مسلم لیگ (ن) کی فرزانہ زبیر بٹ اور عبدالرزاق ڈھلوں نے ’’شیم شیم‘‘ اور ’’رو عمران رو‘‘ کے نعرے لگائے تاہم حکومتی وزراء راجہ اشفاق سرور، رانا مشہود اور میاں مجتبیٰ شجاع نے انہیں ایسا کرنے سے روکدیا۔ وزیراعلیٰ شہبازشریف نے وزارت سے محروم مسلم لیگ (ن) کے رکن پنجاب اسمبلی سید زعیم حسین قادری کو اپنے ساتھ نشست پر بٹھا لیا۔ وزیر خزانہ ڈاکٹر عائشہ غوث نے ٹیکنو کریٹ ہونے کے باوجود بہت اعتماد کے ساتھ لگ بھگ سوا گھنٹہ تقریر کی۔ وزیراعلیٰ شہبازشریف اور حکومتی ممبران ڈیسک بجاکر انہیں داد دیتے رہے۔ وزیراعلیٰ پنجاب محمد شہبازشریف نے تقریر کے اختتام پر ڈاکٹر عائشہ غوث کو ’’شاباش‘‘ کہا۔ وزیرقانون رانا ثناء اللہ خان نے بھی وزیر خزانہ کو ’’بہترین‘‘ کہہ کر داد دی۔ وزیراعلیٰ کے دست راست منشاء اللہ بٹ نے وزیر خزانہ کو تقریر پر داد دیتے ہوئے ’’ویلڈن میڈم‘‘ کہا۔