ترقیاتی بجٹ 4 کھرب‘ جنوبی پنجاب کیلئے 303 ارب کے منصوبے‘ توانائی پراجیکٹس پر 258 ارب خرچ ہونگے

ترقیاتی بجٹ 4 کھرب‘ جنوبی پنجاب کیلئے 303 ارب کے منصوبے‘ توانائی پراجیکٹس پر 258 ارب خرچ ہونگے

لاہور (کامرس رپورٹر + خصوصی نامہ نگار) آئندہ سال ترقیاتی کاموں پر چار سو ارب روپے خرچ ہوں گے، جاری اخراجات میں 7.6 فیصد اور ترقیاتی بجٹ میں 15.9 فیصد اضافہ تجویز کیا گیا ہے۔ 67ارب 50کروڑ روپے دیہی سڑکوں کی تعمیر و مرمت کا منصوبہ ہے۔ مرحلہ وار پروگرام کے تحت ایک سو پچاس ارب روپے کی مالیت سے نئی سڑکیں تعمیر کرنے اور پرانی سڑکوں کی مرمت اور توسیع کا منصوبہ بنایا ہے۔ دیہی ترقی کے لئے 117ارب روپے مختص کئے گئے ہیں۔ حکومت پنجاب نے جنوبی پنجاب کی تعمیروترقی کے لئے 303 ارب 6کروڑ روپے کا تاریخی بجٹ مختص کیا ہے۔ صوبائی وزیرخزانہ ڈاکٹر عائشہ غوث پاشا نے بجٹ میزانیہ پیش کرتے ہوئے بتایا کہ مسلم لیگ (ن) کی حکومت نے جنوبی پنجاب کی ترقی و خوشحالی کو مقدم رکھتے ہوئے آبادی سے زیادہ فنڈز مختص کئے ہیں۔ بجٹ برائے مالی سال 2015-16ء میں جنوبی پنجاب کے لئے 10 میگا پراجیکٹس کے لئے 300 ارب روپے سے زائد کا تخمینہ پیش کیا گیا۔ ملتان میں میٹروبس پراجیکٹ کے لئے 26 ارب روپے مختص کئے گئے ہیں۔ جنوبی پنجاب کے 11 اضلاع میں عوام کو پینے کے صاف پانی کی فراہمی کے منصوبے کے لئے 30 ارب روپے کا تخمینہ ہے۔ بہاولپور میں قائداعظم سولر پارک کے قیام پر 150 ارب روپے خرچ ہوں گے۔ دیہات میں سڑکوں کی تعمیرومرمت پر 67 ارب 50 کروڑ روپے صرف کئے جائیں گے۔ خواجہ فرید انجینئرنگ اینڈ انفارمیشن ٹیکنالوجی یونیورسٹی، بہاولپور ویٹرنری یونیورسٹی‘ میاں محمد نوازشریف یونیورسٹی ملتان اور مظفر گڑھ میں طیب اردگان ہسپتال کی 500بیڈز تک توسیع کے منصوبے پر 9 ارب 38 کروڑ روپے خرچ ہوں گے۔ بہاولپور‘ بہاولنگر اور مظفر گڑھ کے علاقوں میں 4 ارب روپے کی لاگت سے غربت کے خاتمے کے لئے ’’جنوبی پنجاب غربت مکائو‘‘ پروگرام شروع کیا جا رہا ہے۔ چولستان میں خصوصی وزیراعلیٰ ترقیاتی پیکج کے تحت تعمیروترقی پر ایک ارب 30 کروڑ روپے خرچ ہوں گے۔ ڈیرہ غازی خان اور راجن پور میں رودکوہیوں سے آنے والے سیلابی ریلوں کی روک تھام کے منصوبوں پر 10 ارب 60 کروڑ روپے صرف کئے جائیں گے۔ ڈیرہ غازی خان کے قبائلی علاقوں کی تعمیروترقی کے لئے 3 ارب 38 کروڑ روپے مختص کئے گئے ہیں جبکہ بہاولپور سے حاصل پور تک 70کلومیٹر دورویہ سڑک کی تعمیر پر 4 ارب 90 کروڑ روپے خرچ ہوں گے۔ شہروں میں 16ارب 56کروڑ روپے انفراسٹرکچر پر خرچ ہوں گے، سڑکوں اور پلوں کے لئے 105ارب روپے تجویز کئے گئے ہیں۔ جنوبی پنجاب کے 11 اضلاع میں عوام کو پینے کے صاف پانی کی فراہمی کے منصوبے کے لئے 30 ارب روپے کا تخمینہ ہے۔ ’’جنوبی پنجاب غربت مکائو‘‘ پروگرام شروع کیا جا رہا ہے۔ چولستان میں خصوصی وزیراعلیٰ ترقیاتی پیکج کے تحت تعمیروترقی پر ایک ارب 30 کروڑ روپے خرچ ہوں گے۔ ڈیرہ غازی خان اور راجن پور میں رودکوہیوں سے آنے والے سیلابی ریلوں کی روک تھام کے منصوبوں پر 10 ارب 60 کروڑ روپے صرف کئے جائیں گے۔ ڈیرہ غازی خان کے قبائلی علاقوں کی تعمیروترقی کے لئے 3 ارب 38 کروڑ روپے مختص کئے گئے ہیں جبکہ بہاولپور سے حاصل پور تک 70کلومیٹر دورویہ سڑک کی تعمیر پر 4 ارب 90 کروڑ روپے خرچ ہوں گے۔ سڑکوں کی تعمیر پر کل 114 ارب روپے خرچ ہوں گے۔ صوبائی وزیر خزانہ نے بتایا پنجاب میں اس وقت مجموعی طور پر توانائی کے 618 ارب روپے کے منصوبے زیر تکمیل ہیں ان منصوبوں میں حکومت پنجاب 258 ارب روپے کی خطیر رقم کی سرمایہ کاری کر رہی ہے جبکہ پنجاب میں لگنے والے ان منصوبوں میں چین کی طرف سے 360 ارب روپے کی سرمایہ کاری کی جائے گی۔ زیر تکمیل توانائی کے منصوبوں کے بارے میں انہوں نے کہاکہ ساہیوال میں ایک ہزار تین سو بیس میگاواٹ کے کوئلے سے چلنے والے بجلی گھر پر کام کا آغاز ہوچکا ہے جس پر ایک سو اسی ارب روپے لاگت آئے گی۔ جنوبی پنجاب میں بہاولپور کے ریگستانی علاقے میں پاکستان کا سب سے پہلا اور سب سے بڑا شمسی توانائی پر مبنی ’’قائداعظم سولر پارک‘‘ قائم کیا جاچکا ہے، جہاں سے ایک سو میگاواٹ بجلی حاصل کی جارہی ہے۔ اس سولر پارک میں مزید نوسو میگاواٹ کا شمسی توانائی کا منصوبہ شروع کر دیا گیا ہے۔ اس منصوبے پر تقریبا ایک سو پینتیس ارب روپے لاگت آئے گی۔ یہ منصوبہ انشاء اللہ اگلے سال مکمل ہو جائے گا۔ پنڈ دادن خان کے مقام پر تین سو میگاواٹ بجلی کا پراجیکٹ لگایا جا رہا ہے، پینتالیس ارب روپے مالیت کے اس منصوبے میں بجلی پیدا کرنے کے لیے مقامی کوئلہ استعمال کیا جائے گا۔ حکومت پنجاب بھکھی، ضلع شیخوپورہ میں ایک سو دس ارب روپے کی لاگت سے گیس سے چلنے والا ایک ہزار دوسو میگاواٹ کا پاور پلانٹ شروع کررہی ہے۔ یہ منصوبہ مارچ 2017ء میں بجلی فراہم کرنا شروع کردے گا اور 2017کے آخر تک اس منصوبے سے پوری بجلی حاصل کی جاسکے گی۔ آئندہ مالی سال میں اس منصوبے کے لیے پندرہ ارب روپے مختص کرنے کی تجویز ہے۔ وزیرخزانہ عائشہ غوث پاشا نے بتایا کہ حکومت پنجاب چھوٹے منصوبوں پر بھی کام کررہی ہے۔ سندر انڈسٹریل اسٹیٹ لاہور اور فیصل آباد انڈسٹریل اسٹیٹ میں ایک سو دس میگاواٹ کے کوئلے سے چلنے والے منصوبوں پر عملدرآمد کا آغاز کردیا گیا ہے۔ ان دونوں منصوبوں پر تینتیس ارب روپے کی لاگت آئے گی۔ پنجاب میں لوڈ سنٹرز کے قریب ایک سو پچاس میگاواٹ کے کوئلے سے چلنے والے چار پاور پلانٹس لگائے جارہے ہیں جن پر نوے ارب روپے لاگت آئے گی۔ یہ پاور پلانٹس لاہور، ملتان، فیصل آباد اور سیالکوٹ میں لگائے جائیں گے۔ حکومت پنجاب نے دس ارب روپے کی لاگت سے بیس میگاواٹ بجلی کے چار ہائیڈرل پاور پراجیکٹس مرالہ، پاکپتن، چیانوالی اور Deg Outfall میں شروع کئے ہیں۔ رحیم یار خان اور مظفر گڑھ میں ایک ہزار تین سو بیس میگاواٹ کے کوئلے سے بجلی پیدا کرنے والے دو منصوبوں پر ابتدائی کام شروع ہوچکا ہے۔ رمضان پیکج اور ٹرانسپورٹ پر سبسڈی کیلئے 8 ارب 54 کروڑ روپے مختص کئے گئے ہیں۔ یوتھ انٹرن شپ کیلئے 2 ارب روپے مختص کئے گئے ہیں۔ سوشل سیکٹر کے لئے 119 ارب روپے رکھے گئے ہیں۔