بجٹ صرف پنجاب حکومت کے دعوے ہیں : اپوزیشن جماعتوں نے مسترد کر دیا

بجٹ صرف پنجاب حکومت کے دعوے ہیں : اپوزیشن جماعتوں نے مسترد کر دیا

لاہور (خصوصی رپورٹر+خصوصی نامہ نگار)پنجاب اسمبلی میں اپوزیشن لیڈر میاں محمودالرشید نے کہا ہے کہ اپوزیشن جماعتیں صوبائی بجٹ2015/16 کو مسترد کرتی ہیں۔ مسلم لیگ (ن) کی حکومت نے 7سالوں میں7 وزیر خزانہ بنائے ہیں جس حکومت کے پاس مستقل وزیر خزانہ نہیں وہ عوامی امنگوں کے مطابق بجٹ کیسے بناسکتی ہے۔ تحریک انصاف کے صوبائی آرگنائزر چوہدری محمد سرور نے کہا ہے کہ صوبائی بجٹ میں پولیس کیلئے12ارب سے زائد کا اضافہ ’’ظالم پولیس‘‘ کو ’’حکومتی انعام‘‘ ہے‘ پنجاب کا بجٹ ’’ہو جائیگا‘‘ اور ’’کر دینگے‘‘ کے سوا کچھ نہیں‘ حکمرانوں کو بجٹ کے وقت غریب مہنگائی اور بیروزگاری سے تنگ آکر خودکشیاںکرنیوالوں کے مسائل نظر نہیں آئے‘ مہنگائی میں 100 فیصد اضافے کے بعد سرکاری ملازمین کی تنخواہوں اور پنشن میں ساڑھے 7فیصد اضافہ کسی مذاق سے کم نہیں‘ تحریک انصاف پنجاب کے بجٹ کو مکمل طور پر مستردکرتے ہوئے اس بجٹ کو عوام دشمن سمجھتی ہے جس کو کسی بھی صورت منظور نہیں ہو نا چاہئے۔ چوہدری محمد سرور نے کہا کہ پنجاب حکومت کا بجٹ2015/16 صرف الفاط کا ہیر پھیر ہے۔ انہوں نے کہا کہ صوبے میں امن وامان کے قیام میں مکمل ناکام ہو نے والی اور بے گناہوں کی ظالم پولیس کے بجٹ میں12ارب سے زائد کا اضافہ اصل میں ’’قاتل پولیس‘‘ کیلئے حکومتی انعام ہے۔ پیپلزپارٹی کے رہنماؤں نے صوبائی بجٹ کو اعدادوشمار کا گورکھ دھندہ قرار دیا ہے۔ نوید چودھری نے کہا کہ پنجاب کا بجٹ وعدوں اور دعوؤں کا بجٹ ہے، شرح نمو 8 فیصد کرنے کے دعویداروں کا پچھلے سال بھی یہی دعویٰ تھا لیکن شرح نمو 4 فیصد سے بھی کم رہی۔ ذاتی شہرت کے منصوبوں کو فوقیت دی گئی۔ دیوان غلام محی الدین نے کہا کہ جنوبی پنجاب کے لئے ماضی کی نسبت سب سے زیادہ رقوم مختص کرنے کے دعویدار بتائیں کہ پچھلے برس بجٹ میں جنوبی پنجاب کے لئے جو رقوم منصوبوں کیلئے رکھی گئی تھیں ان میں سے کتنی رقوم خرچ کی گئیں۔ لبنیٰ چودھری ایڈووکیٹ نے کہا کہ خادم اعلیٰ صاحب نے میٹرو بس، دانش سکول، لیپ ٹاپ، پیلی ٹیکسی کے بعد اورنج لائن میٹرو کا منصوبہ دیا ہے جو سوائے شہرت کے حصول کے کچھ اور نہیں ہے۔ حاجی عزیزالرحمن چن نے کہا کہ یہ امیروں کا بجٹ ہے، غریبوں کی حالت ابتر ہی رہے گی۔ علاوہ ازیں عوامی تحریک نے پنجاب کے بجٹ پر اپنے ردعمل میں کہا ہے کہ پنجاب کا نہیں ’’شہباز‘‘ کا بجٹ پیش ہوا۔ وزیراعلیٰ نے ذاتی شہرت کے منصوبوں کیلئے 100ارب رکھے، جن میں 50ارب کا خادم پنجاب روڈ پروگرام، 5ارب کا لیپ ٹاپ، 3ارب کا دانش سکول، 10ارب کا اورنج،17 ارب کا میٹرو بس اور 15 ارب کا پیلی ٹیکسی کا ہوائی منصوبہ شامل ہے۔ ماڈل ٹائون ،ڈسکہ اور راولپنڈی جیسے سانحات میں ملوث دہشت گرد پولیس فورس کو بھاری بجٹ دینے کی بجائے اسے کالعدم تنظیموں کی فہرست میں ڈال کر بین کر دینا چاہئے۔ ڈاکٹر رحیق عباسی نے کہا کہ تجربہ کار وزیراعلیٰ پنجاب اپنی 25سالہ سیاسی زندگی میں اپنی جماعت کے اندر پنجاب کیلئے ایک وزیر خزانہ بھی پیدا نہ کر سکے۔ پنجاب میں 7برس میں 7 وزیر خزانہ آئے ۔بجٹ لوڈشیڈنگ، بیروزگاری اور دہشت گردی کے خاتمے کے ویژن سے خالی ہے۔پنجاب کا بجٹ فرضی آمدن اور فرضی اخراجات کا مجموعہ ہے۔اس بجٹ سے غریب ، مزدور، صنعت اور زراعت کے شعبے میں کوئی بہتری کی توقع نہیں ۔ خرم نواز گنڈاپور نے کہا کہ وزیراعلیٰ پنجاب 7سال سے ترقیاتی بجٹ کو سیاسی جیب خرچ کے طور پر استعمال کررہے ہیں۔ لاہور سے باہر نکل جائیں تو ہر طرف بھوک اور دھول اڑتی دکھائی دیتی ہے۔ جنوبی پنجاب کیلئے تاریخ کا سب سے بڑا بجٹ مختص کرنے والے بتائیں کہ جو بجٹ پچھلے سال مختص کیا گیا تھا اس میں سے کتنی رقم جنوبی پنجاب میں خرچ ہوئی؟ق لیگ نے صوبائی بجٹ 2015-16ء کو صرف ’’تسلیاں‘‘ قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ صوبائی بجٹ وفاقی حکومت کا ’’پارٹ ٹو‘‘ ہے۔ صوبے میں مہنگائی اور بیروزگاری کے خاتمے کیلئے حکومتی منصوبے کہیںنظر نہیں آ رہے۔ سردار وقاص حسن موکل، عامر سلطان چیمہ اور خدیجہ عمر فاروقی نے پنجاب بجٹ پر اپنے ردعمل میں کہا ہے کہ پنجاب حکومت بجٹ کسی بیوروکریٹ نے نہیں، کسی سپرنٹنڈنٹ نے بنایا ہے۔عمران خان کے پولیٹیکل ایڈوائزر عبدالعلیم خان نے کہا کہ بجٹ میں عوام دشمنی کے سوا کچھ نہیں ہے، عوام کو ترقی اور خوشحالی کے سبز باغ دکھائے گئے، ق لیگ کے چوہدری ظہیرالدین نے کہا کہ بجٹ میں مٹھی بھر مراعات یافتہ طبقے کو نوازا گیا عام آدمی کو ماسوائے مہنگائی کچھ حاصل نہیں ہوگا، استقلال پارٹی کے چیئرمین سید منظور علی گیلانی نے کہا کہ بجٹ غریب عوام پر خودکش حملہ ہے، عوامی نیشنل پارٹی کے احسان وائیں ایڈووکیٹ نے کہا کہ عام آدمی کے ریلیف کے لئے خصوصی اقدامات اٹھانے کی بجائے سستی شہرت کے حصول کے لئے منصوبے پیش کئے گئے ہیں۔