میڈیا پر تصاویر میں وزیراعلی کا ہاتھ نہیں تھاتو رانا ثناء اللہ کو اسمبلی سے نکال کر ہتھکڑیاں لگاتے: گورنر پنجاب

میڈیا پر تصاویر میں وزیراعلی کا ہاتھ نہیں تھاتو رانا ثناء اللہ کو اسمبلی سے نکال کر ہتھکڑیاں لگاتے: گورنر پنجاب

لاہور (مانیٹرنگ ڈیسک) گورنر پنجاب سلمان تاثیر نے کہا ہے کہ وزیر قانون رانا ثناء اللہ کی جانب سے میرے خاندان کے حوالہ سے میڈیا پر دکھائی جانے والی تصاویر اگر مسلم لیگ (ن) کی قیادت کی پالیسی نہیں تھی تو اس پر ایکشن کیوں نہیں لیا گیا‘ میں رانا ثناء اللہ کی معذرت سے مطمئن نہیں ہوں اور نہ ہی اس حوالہ سے میں نے نوازشریف‘ شہباز شریف کا کوئی مذمتی بیان پڑھا ہے۔ ایک نجی چینل سے بات چیت کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ وزیراعلیٰ یہاں چھوٹے چھوٹے سینیٹری ورکرز کو ہتھکڑیاں لگا کر گرفتار کروا رہے ہیں اگر ان کا مذکورہ عمل میں ہاتھ نہ تھا تو پھر وہ رانا ثناء اللہ کو اسمبلی سے نکال کر ہتھکڑیاں لگا کر برطرف کرتے۔ پنجاب کے صوبائی محتسب کے حلف لینے کے بارے میں گورنر نے کہا کہ قائم مقام گورنر مستقل نوعیت کے فیصلے نہیں کرسکتا۔ پیپلزپارٹی کی فراخدلی ہے کہ (ن) لیگ کے سپیکر کو اعتبار کرکے گورنر بنایا مجھے ان کی طرف سے صوبائی محتسب کا حلف لینے پر افسوس ہوا۔ قانونی طور پر یہ چیلنج ہوسکتا ہے۔ بطور قائم مقام گورنر صوبائی محتسب اعلیٰ سے حلف جمہوریت کے خلاف سازش ہے۔ ہمارا معاہدہ تھا کہ پراسیکیوٹر جنرل پیپلزپارٹی کا ہوگا‘ محستب اعلیٰ (ن) لیگ کا انہوں نے پراسیکیوٹر جنرل کا تقرر نہیں کیا۔ سپیکر پنجاب اسمبلی گورنر کے معیار کے نہیں آئندہ ہم چیف جسٹس کو گورنر مقرر کریں گے۔ مسلم لیگ (ن) والے تو میرے حلف پر بھی نہیں آئے۔ میری صدر نے تقرری کی ہے مجھے جو وہ کہیں گے کروں گا۔ پبلک اکائونٹس کمیٹی کا چیئرمین اور پارلیمانی سیکرٹریز اپائنٹ نہیں ہوئے‘ اس میں میری تو کوئی رکاوٹ نہیں۔ انہوں نے کہا کہ پنجاب میں کوئی مخلوط حکومت نہیں‘ پنجاب حکومت کے 32ڈیپارٹمنٹس ہیں ان میں 6پیپلزپارٹی کے منسٹرز کے پاس ہیں باقی سب وزیراعلیٰ چلارہے ہیں۔ پنجاب کابینہ کی ابھی تک میٹنگ نہیں ہوسکی‘ میں نے اس بارے میں بھی وزیراعلیٰ کو خط لکھا ہے۔ افتخار محمد چودھری کو چیف جسٹس کا پروٹوکول دینا غلط بات تھی۔ مسلم لیگ (ن) کی طرف سے وکلاء تحریک کا ساتھ دینا وفاقی حکومت کو دبائو میں لانے کی سیاسی چال ہے۔ بڑے میاں تو جب وزیراعظم تھے تب بھی کسی سے مطمئن نہیں ہوئے۔ انہوں نے کہا کہ میری میڈیا ٹیم بہت پاور فل ہے میری میڈیا ٹیم نواز شریف اور شہباز شریف ہیں۔ میں ان سے بہت خوش ہوں۔ گورنر بننے سے لے کر آج تک میاں برادرز اور ان کی ٹیم نے بلاوجہ میرے خلاف آسمان سر پر اٹھا رکھا ہے۔ حکومت پنجاب نے سوائے میری ذات پر سیاسی حملوں کے کوئی اور کام نہیں کیا۔ گورنر نے کہا کہ میں پہلے دن سے ہی مسلم لیگ (ن) کی حکومت کی بھرپور مدد کررہا ہوں۔