لاکھوں بچے تعلیم اور سینکڑوں خاندان کفالت سے محروم ہو گئے

لاہور (اعظم چودھری) اقوام متحدہ‘ امریکہ اور بھارت کے دباؤ پر گذشتہ دس برسوں میں پاکستان‘ افغانستان اور مقبوضہ کشمیر میں کام کرنے والی نصف درجن سے زائد اسلامی فلاحی تنظیموں پر پابندیاں لگنے سے لاکھوں افراد متاثر ہوئے‘ ان تنظیموں کے زیر اہتمام چلنے والے سکول‘ کالج‘ ہسپتال اور دیگر فلاحی ادارے بند ہونے سے لاکھوں کی تعداد میں بچے تعلیم و علاج اور سینکڑوں مظلوم خاندان کفالت سے محروم ہو چکے ہیں۔ تفصیلات کے مطابق سابق صدر پرویز مشرف کے دور میں غیر ملکی قوتوں کے دباؤ پر پابندیوں کا سامنا کرنے والے الرشید ٹرسٹ‘ الامین ٹرس‘ حکیم الاختر ٹرسٹ سمیت دیگر اسلامی فلاحی ادارے مقبوضہ کشمیر اور افغانستان میں شہید ہونے والے مسلمانوں کے خاندانوں کی کفالت اور زخمیوں کے علاج کے علاوہ دیگر فلاحی کام کر رہے تھے۔ حکیم الاختر ٹرسٹ کا محض یہ قصور تھا کہ اس ادارے سے ڈاکٹروں کی بڑی تعداد منسلک تھی‘ ان لوگوں نے افغان جنگ اور مقبوضہ کشمیر میں بھارتی مظالم کے نتیجے میں زخمی ہونے والوں کا علاج کیا تھا۔ جماعۃ الدعوۃ نے ملک بھر میں 160 سکول‘ 52 دینی مدرسے اور 4 یونیورسٹیاں اور 8 بڑے ہسپتال اور 157 ڈسپنسریاں قائم کر رکھی ہیں۔ ذرائع کے مطابق شمالی علاقہ جات کے زلزلہ میں سب سے زیادہ فلاحی کام بھی اسی تنظیم نے کئے۔ اپنی خدمات کے صلہ میں اقوام متحدہ جماعۃ الدعوۃ کو تعریفی سرٹیفکیٹ بھی دے چکی ہے۔ مذکورہ تنظیم نے 2 برس قبل صوبہ سندھ میں آنے والے سیلاب میں مذہب سے بالاتر ہو کر متاثرین کی خدمت کی جس کے نتیجے میں کئی ہندو متاثرین نے اسلام بھی قبول کیا۔ جماعۃ الدعوۃ نے خشک سالی کے شکار علاقوں میں 274 کے قریب کنویں کھودے اور ہینڈ پمپ نصب کئے۔ علاوہ ازیں جماعۃ الدعوۃ نے سکھوں کی تنظیم خالصہ انٹرنیشنل اور بدھ ازم کی تنظیم کے ساتھ بھی کام کیا‘ یہ بھی معلوم ہوا ہے کہ زلزلہ زدگان کے لئے کام کرتے ہوئے نیٹو کے فوجی دریائے نیلم عبور کرنے کے لئے جماعۃ الدعوۃ کی کشتی استعمال کرتے رہے۔