صوبے بھر میں تبادلوں پر پابندی‘ ڈیڑھ کھرب کی کرپشن کرنیوالے ناظمین کیخلاف کارروائی ہو گی: پنجاب کابینہ

لاہور (خبرنگار خصوصی) وزیراعلیٰ شہبازشریف کی صدارت میں گذشتہ روز پنجاب کابینہ کا اجلاس منعقد ہوا جس میں بتایا گیا کہ سابق دور میں ناظمین نے ڈیڑھ کھرب روپے کی کرپشن کی‘ کابینہ کے اجلاس میں فیصلہ کیا گیا کہ کرپٹ ناظمین اور دیگر حکام کے خلاف کارروائی کی جائے گی۔ دریں اثناء پنجاب کابینہ کے اجلاس میں سرکاری ملازموں کے جی پی فنڈ سے متعلق ترمیم شدہ بل منظور کر لیا گیا جبکہ تمام صوبائی محکموں میں تبادلوں پر پابندی عائد کر دی گئی۔ وزیراعلیٰ نے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہاکہ ناظمین نے جو ڈیڑھ کھرب روپے کی لوٹ مار اور کرپشن کی وہ اگر عوام کے فلاحی منصوبوں پر لگائی جاتی تو پنجاب میں خوشحالی کی لہر آ جاتی۔ دریں اثناء وزیراعلیٰ نے کہا ہے کہ صوبے کو15 جنوری تک جعلی ادویات سے پاک کر دیا جائے اور اس گھنائونے کاروبار میں ملوث افراد کیخلاف مہم کو مزید تیز کیا جائے۔ اُنہوں نے بدعنوان و نااہل ڈرگ انسپکٹروں کو فوری طور پر اُن کے عہدے سے ہٹانے اور ڈرگ انسپکٹروں کی خالی اسامیوں کو جلد از جلد پُر کرنے کا بھی حُکم دیا۔ یہ بات اُنہوں نے گذشتہ روز جعلی ادویات کے سدِ باب کیلئے قائم کی گئی ٹاسک فورسوں کے چیئرمینوں کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہی۔ اُنہوں نے کہا کہ عوام کی جانوں سے کھیلنے والے کسی رعایت کے مستحق نہیں ہیں اس مقصد کیلئے جعلی اور زائد المیعاد ادویات کے خاتمے کیلئے تین خصوصی ٹاسک فورسیں تشکیل دی ہیں۔اُنہوں نے کہا کہ جعلی ادویات بنانے والے افراد کا سراغ لگانے کیلئے خُفیہ ایجنسیوں کی بھی مدد لی جائے۔ انہوں نے کہا کہ صوبے میں قائم 6 ڈرگ کورٹس کو بھی ضروری سہولتیں فراہم کی جائیں جبکہ تین مزید ڈرگ کورٹس کے قیام کیلئے وفاقی حکومت سے بات چیت کرکے ان کے قیام کو جلد از جلد یقینی بنایا جائے۔ اُنہوں نے کہا کہ صوبہ میں مزید لیبارٹریاں بھی تعمیر کی جائیں اور اُنہیں مکمل بااختیار کیا جائے۔ اُنہوں نے سرگودھا میں ڈرگ انسپکٹر کو فرائض کی ادائیگی کے دوران تشدد کا نشانہ بنانے والے افراد کیخلاف بھی فوری کارروائی کی ہدایت کی۔ اے پی پی کے مطابق ڈیرہ غازیخان کی ضلعی ترقیاتی کمیٹی کے اجلاس میں بتایا گیا ہے کہ وزیراعلیٰ شہبازشریف نے ضلع ڈیرہ غازیخان اور اس کے مضافاتی علاقوں میں ترقیاتی کاموں کیلئے 111ملین روپے کی منظوری دی ہے۔ دریں اثناء وزیراعلیٰ نے چیئرمین پی اینڈ ڈی کو ہدایت کی کہ نیسپاک پر کام کے بوجھ کی بنا پر مزید کمپنیوں کو بھی اس نظام میں لایا جائے۔ اجلاس میں پرائیویٹ سیکٹر میں قائم کی جانے والی یونیورسٹی ہیوی انڈسٹری ایجوکیشن سٹی ٹیکسلا کو چارٹر و ڈگری دینے کے بل کے علاوہ واہ کینٹ یونیورسٹی کو بھی چارٹر دینے کا بل منظور کیا گیا۔