جماعۃ الدعوۃ پر بغیر ثبوت پابندی ناانصافی ہے‘ حکمران بزدلی ترک کر دیں: سیاسی و مذہبی رہنما

لاہور (خبرنگار خصوصی) جماعۃ الدعوۃ پر پابندی کیخلاف سیاسی جماعتوں کے رہنمائوں نے شدید ردعمل کا اظہار کیا ہے‘ جماعت اسلامی کے امیر قاضی حسین احمد نے منصورہ میں نماز جمعہ کے اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے کہا ہے کہ اقوام متحدہ کا کردار اب یہ رہ گیا ہے کہ کمزور اقوام پر امریکہ اور مغربی طاقتوں کا تسلط قائم کیا جائے‘ بھارت امریکہ کا سٹریٹجک پارٹنر ہے اس لئے جماعۃ الدعوۃ پر بغیر کسی ثبوت کے اور فریق ثانی کا نقطہ نظر سنے بغیر پابندی لگا دی گئی‘ حکمران اتنے بزدل ہو گئے ہیں کہ اقوام متحدہ کی سکیورٹی کونسل نے جماعۃ الدعوۃ کے خلاف فیصلہ کیا ہی تھا کہ انہوں نے اپنی وفاداری دکھانے کے لئے فوری طور پر اس پر پابندی لگا دی‘ سکیورٹی کونسل میں پاکستان کو اپنا کیس پیش کرنے کا موقع ہی نہیں دیا گیا۔ انہوں نے کہاکہ بھارت نے پاکستان کی مغربی سرحد کے قریب افغانستان میں 26قونصل خانے کھول رکھے ہیں جو پاکستان کے اندر تخریبی کارروائیوں کی سرپرستی کرتے ہیں اور روپیہ تقسیم کرتے ہیں۔ انہوں نے کہاکہ ہماری بیورو کریسی کے اندر دشمن کے ایجنٹ بیٹھے ہیں جو پاکستان کو توڑنا چاہتے ہیں۔ ڈیرہ اسماعیل خان اور کراچی میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے مولانا فضل الرحمن نے کہاکہ جماعۃ الدعوۃ دہشت گرد نہیں بلکہ رفاعی تنظیم ہے اسکے خلاف کریک ڈائون سے حکومتی ساکھ کمزور ہوئی‘ پاکستان کو جماعۃ الدعوۃ کے حوالے سے اپنا مئوقف سلامتی کونسل میں دوبارہ پیش کرنا چاہئے۔ مولانا نے کہاکہ ہمیں بھارت کے جھوٹے الزامات کے جوابات کی ہر گز ضرورت نہیں کیونکہ بھارت اور امریکہ دونوں ممبئی دھماکوں کی آڑ میں پاکستان پر دبائو بڑھا رہے ہیں۔ صدر آصف علی زرداری اپنے اعصاب مضبوط رکھیں‘ جمعیت علماء اسلام (س) کے سربراہ مولانا سمیع الحق نے کہا کہ بغیر ثبوت پابندیاں لگا کر حکمران ملک وقوم کا اپنے ہاتھوں سے نقصان کر رہے ہیں‘ بھارتی دبائو پر پابندی ناانصافی پر مبنی ہے‘ ماضی میں کبھی بھارتی الزامات صحیح ثابت نہیں ہوئے۔ تحریک حرمت رسول کے چیف آرگنائزر حافظ خالد ولید نے کہا کہ جماعۃ الدعوۃ پر پابندی محض چند افراد یا ایک جماعت کا مسئلہ نہیں جماعۃ الدعوۃ کی رفاہی سرگرمیاں بند ہونے سے لاکھوں لوگ متاثر ہونگے‘ زیارت میں بلوچستان کے زلزلہ متاثرین کیلئے جاری ریلیف آپریشن کو بھی شدید نقصان ہو گا۔ جمعیت علماء اسلام (ف ) کے مرکزی رہنما حافظ حسین احمد نے کہا کہ حکومت کو پابندی سے قبل تنظیموں کا موقف بھی سننا چاہیے ۔ انہوں نے کہا کہ حکمران بزدلی کا راستہ ترک کر دیں۔ جماعت اسلامی کے مرکزی نائب امیر پروفیسر غفور نے کہا کہ جماعۃ الدعوۃ پر پابندی سے غلامانہ طرز عمل کی عکاسی ہوتی ہے حکومت کو چاہیے تھا کہ وہ بھارت سے ٹھوس ثبوت فراہم کرنے کا مطالبہ کرتی محض الزامات کی بنیاد پر پابندی درست نہیں۔تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان نے کہا ہے کہ بھارت اور امریکہ اپنے اوپر لگائے گئے الزامات مٹانے کے لئے پاکستان کو استعمال کر رہے ہیں‘ وہ ایک نجی ٹی وی کے پروگرام میں اظہار خیال کر رہے تھے۔