کوئٹہ دھماکے کے شہدا سپرد خاک، دہشتگردی کے مکمل خاتمے کیلئے اداروں کو ملکر کام کرنا ہوگا، آرمی چیف

خبریں ماخذ  |  ویب ڈیسک
کوئٹہ دھماکے کے شہدا سپرد خاک، دہشتگردی کے مکمل خاتمے کیلئے اداروں کو ملکر کام کرنا ہوگا،  آرمی چیف

 کوئٹہ میں فوجی گاڑی پر خود کش حملے میں شہید ہونے والے افراد کو سپر د خاک کر دیا گیا ہے، آرمی چیف نے شہدا کی نماز جنازہ میں شرکت کی دھماکے کے بعد دوسرے روز فضا سوگوار رہی،شہر بھر کی دکانیں ، کاروباری مراکز، ٹرانسپورٹ بند رہی تفصیلات کے مطابق گزشتہ روزہونے والے کوئٹہ دھماکے کے بعد علاقے کی فضا تاحال سوگوار ہے، شہر کے تمام چھوٹے بڑے کاروباری مراکز اور تجارتی علاقے بند رہے۔دوسری جانب وزیراعلی بلوچستان ثنا اللہ زہری کی زیر صدارت اعلی سطحی اجلاس ہوا۔ وفاقی وزیر داخلہ احسن اقبال اور کمانڈر سدرن کمانڈ لیفٹیننٹ جنرل عامر ریاض، صوبائی وزیر داخلہ میر سرفراز بگٹی، آئی جی پولیس احسن محبوب سمیت اعلی سول اور عسکری حکام بھی اجلاس میں شریک تھے۔اجلاس میں فیصلہ کیا گیا کہ تمام سیکیورٹی ادارے مل کردہشت گردوں کی پناہ گاہوں کا خاتمہ کریں گے اور صوبے میں دہشت گردوں کےخلاف کارروائیاں جاری رہیں گے۔ شرکا نے بزدلانہ حملوں سے مرعوب نہ ہونے کے عزم کا بھی اظہار کیا۔ اجلاس میں مزید فیصلہ کیا گیا کہ شہر کے نواحی علاقوں میں سرچ آپریشن تیز کئے جائیں گے۔کوئٹہ میں گزشتہ روز ہونے والے خود کش حملے کی تحقیقات جاری ہیں تا ہم اب تک دھماکہ کا مقدمہ درج نہ ہو سکا۔ پشین اسٹاپ کے قریب گزشتہ رات سکیورٹی فورسز پر خود کش حملے میں 8اہلکاروں سمیت15افراد جاں بحق اور32زخمی ہو گئے تھے۔آئی ایس پی آر کے مطابق آرمی چیف قمر جاوید باجوہ نے کوئٹہ کا دورہ کیا، انہوں نے خود کش دھماکہ میں شہید فوجیوں کی نماز جنازہ میں شرکت کی ۔ نماز جنازہ میں گورنر اور وزیر اعلیٰ بلوچستان نے بھی شرکت کی۔ نماز جنازہ میں وفاقی وزیر داخلہ احسن اقبال اور کمانڈر سدرن کمانڈ نے بھی شرکت کی ۔آرمی چیف نے سی ایم ایچ کوئٹہ میں دھماکہ کے زخمیوں کی بھی عیادت کی ، آرمی چیف کو دھماکہ سے متعلق بریفنگ دی گئی۔ آرمی چیف نے اس موقع پر کہا کہ دیر پا امن و استحکام کے حصول تک جنگ جاری رہے گی، دہشتگردوں کو مکمل شکست دینے کیلئے تمام اداروں کو مل کر کام کرنے کی ضرورت ہے، شہداءکی قربانیوں کو خراج عقیدت پیش کرتے ہوئے پاکستانی قوم جشن آزادی منائے گی۔شہداءنے پر امن اور خوشحال پاکستان کیلئے اپنی جانوں کا نذرانہ پیش کیا۔دریں اثناءوفاقی وزیر داخلہ چوہدری احسن اقبال نے کہا ہے کہ گذشتہ چار سالوں میں ہمیں دہشت گردی کے خلاف نمایاں کامیابیاں حاصل ہوئی ہیں البتہ گاہے بگاہے چند خودکش حملہ آور سرحد پار سے آ کر ہمارے ملک میں کچھ نشانوں پر حملے کرتے ہیں جن میں سکیورٹی کے ادارے اور سویلین اہداف شامل ہیں، ہم اس طرح کے ہر بزدلانہ حملے کے بعد دہشت گردی کے خاتمے کے لئے اور زیادہ پرعزم ہو جاتے ہیں، پاکستان میں دہشت گردی کو جڑ سے اکھاڑنا ہمارے مستقبل کا سوال ہے، وہ وقت دور نہیں جب دہشت گردی کی کارروائیاں 100 فیصد ختم ہو جائیں گی۔ وہ لوگ جو آج پاکستان کے اندرونی اتحاد کو پامال کرنے کے درپے ہیں وہ پاکستان کے ساتھ دوستی نہیں دشمنی کر رہے ہیں، تمام سیاسی قیادت اور اپوزیشن سے اپیل کروں گا کہ یہ وقت ایک دوسرے کو نیچا دکھانے کا نہیں بلکہ دہشت گردی کو نیچا دکھانے کا ہے، سکیورٹی کے تمام ادارے چوکس ہیں، نہ صرف اس واقعہ کے محرکین تک پہنچیں گے بلکہ اس سے قبل بھی جتنے واقعات ہوئے ہیں ہمارے سکیورٹی اداروں نے ان کے مرتکب افراد تک رسائی حاصل کی ہے اور انہیں کیفرکردار تک پہنچایا ہے۔کوئٹہ میں وزیراعلیٰ بلوچستان نواب ثناءاللہ زہری اور صوبائی وزیر داخلہ میر سرفراز خان بگٹی کے ہمراہ میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کیا۔ احسن اقبال کا کہنا تھا کہ ہم نے زخمیوں کی عیادت کی ہے اور مسلح افواج کے شہید ہونے والے جوانوں کی نماز جنازہ میں شرکت بھی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ پاکستان اس وقت حالت جنگ میں ہے، 2013ءسے ہم نے اس جنگ کو جیتنے کے لئے ایک مضبوط ایجنڈے کی بنیاد پر قدم بڑھانے شروع کئے۔ گذشتہ چار سالوں میں ہمیں دہشت گردی کے خلاف نمایاں کامیابیاں حاصل ہوئی ہیں۔ البتہ گاہے بگاہے چند خودکش حملہ آور سرحد پار سے آ کر ہمارے ملک میں کچھ نشانوں پر حملے کرتے ہیں جن میں سکیورٹی کے ادارے اور سویلین ٹارگٹس ہیں جنہیں نشانہ بنایا جاتا ہے۔ اس کا مقصد نفسیاتی دباؤ کی صورت پیدا کرنا ہے لیکن ہمارا دشمن یہ نہیں جانتا کہ ایسا ہر بزدلانہ حملہ پاکستانی قوم کے حوصلے اور عزم کو اور زیادہ پختہ کرتا ہے۔ ہم اس طرح کے ہر بزدلانہ حملے کے بعد دہشت گردی کے خاتمے کے لئے اور زیادہ پرعزم ہو جاتے ہیں۔ احسن اقبال کا کہنا تھا کہ پاکستان میں دہشت گردی کو جڑ سے اکھاڑنا ہمارے مستقبل کا سوال ہے۔ اگر ہم نے ایک ترقی یافتہ ملک بننا ہے۔ اپنے عوام کو خوشحالی دینی ہے تو اس کے لئے امن پہلی شرط ہے۔ امن اور ترقی کا براہ راست آپس میں تعلق ہے۔ اس لئے حکومت نے گذشتہ چار سالوں کے دوران پہلے آپریشن ضرب عضب اور اب آپریشن ردالفساد کے تحت فیصلہ کن کارروائیاں کی ہیں جس سے بڑی حد تک ان عناصر کی کمر ٹوٹ چکی ہے۔ اب یہ اپنی بقا کے لئے گاہے بگاہے بزدلانہ کارروائیاں کر کے اپنے وجود کو قائم رکھنے کی کوشش کرتے ہیں اور وہ وقت دور نہیں کہ جب یہ کارروائیاں بھی 100 فیصد ختم ہو جائیں گی۔ احسن اقبال کا کہنا تھا کہ یہ واقعہ ہمیں اس بات کی پھر یاد دلاتا ہے کہ ہم حالت جنگ میں ہیں اور جب قوم حالت جنگ میں ہو تو اسے اندرونی اتحاد کی زبردست ضرورت ہوتی ہے۔ وہ لوگ جو آج پاکستان کے اندرونی اتحاد کو پامال کرنے کے درپے ہیں وہ پاکستان کے ساتھ دوستی نہیں دشمنی کر رہے ہیں۔ جب بھی کوئی قوم کسی محاذ پر برسرپیکار ہو تو اسے اپنے تمام اختلافات کو بھول کر اتحاد، یکجہتی اور یگانگت کے ساتھ اس جنگ کو جیتنا ہوتا ہے۔ ہمارے ہاں گذشتہ چند ماہ اور سالوں سے کچھ سیاسی عناصر مسلسل اس کوشش میں ہیں کہ پاکستان داخلی طور پر کمزور ہو، داخلی طور پر تقسیم ہو اور جہاں ہم اتنی بڑی بڑی قربانیاں دے رہے ہیں۔ اتنی بڑی جنگ لڑ رہے ہیں وہ آپس کے سیاسی تنازعات کے نتیجہ میں قوم کو تقسیم کرنے کے درپے ہیں۔ میں ملک کی تمام سیاسی قیادت اور اپوزیشن سے اپیل کروں گا کہ یہ وقت ایک دوسرے کو نیچا دکھانے کا نہیں ہے یہ وقت دہشت گردی کو نیچا دکھانے کا ہے یہ وقت پاکستان کے دشمنوں نیچا دکھانے کا ہے یہ وقت پاکستان کے مستقبل کی جنگ کو جیتنے کا ہے۔ اس کے لئے ہم سب کو مل کر کام کرنا ہے اور سب کو مل کر ملک کے مستقبل کو محفوظ کرنا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ وفاقی حکومت تمام صوبائی حکومتوں کے ساتھ اپنے تعاون کو یقینی بنائے گی اور میرے آنے کا مقصد بھی یہی تھا کہ حکومت اور سکیورٹی اداروں کو وفاقی حکومت کی طرف سے وزیراعظم کی طرف سے مکمل حمایت کی یقین دہانی کروائیں اور ہم کوشش کرینگے کہ انہی کوششوں کو مزید مربوط کریں کیونکہ ہم یہ جنگ ایک ٹیم ورک کے ذریعے جیت سکتے ہیں۔ ہمارا دشمن بہت چالاک ہے۔ ہمارا دشمن پاکستان کے حوالے سے واضح عزائم رکھتا ہے۔ لہٰذا ہمیں بھی کسی ابہام سے ہٹتے ہوئے مکمل وضاحت کے ساتھ اور مکمل اتحاد کے ساتھ ان کا مقابلہ کرنا ہے اور ان کو شکست دینی ہے احسن اقبال کا کہنا تھا کہ 2013ءاور 2017ءمیں دہشت گردی کے واقعات دیکھیں تو ان میں نمایاں کمی واقع ہو چکی ہے۔ بڑی حد تک دہشت کردوں کی کمر ٹوٹ چکی ہے۔ 2013ءمیں دہشت گرد چڑھائی پر تھے اور ریاست محاصرے میں تھی۔ آج ریاست چڑھائی پر ہے اور وہ محاصرے میں ہیں۔ باقی ماندہ عناصر کے ساتھ ہائیڈ اینڈ ٹیک چل رہی ہے۔ پاکستان کے مخصوص حالات ہیں۔ افغانستان کے اندر ڈھانچہ بہت کمزور ہے۔ کچھ علاقے ہیں جہاں حکومت کی رٹ نہیں ان چیلنجز کے ہوتے ہوئے ہم نے گذشتہ تین چار سالوں میں نمایاں کامیابیاں حاصل کی ہیں اور مزید کامیابیاں حاصل کرینگے۔ اس موقع پر میر سرفراز بگٹی کا کہنا تھا کہ دہشت گردی کے واقعہ میں 14 افراد شہید ہوئے ہیں اور 46 زخمی ہوئے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ دہشت گردی کے واقعہ کے حوالے سے خطرات موجود تھے۔ ان کا کہنا تھا کہ دہشت گرد ایک ہدف مقرر کرتے ہیں جبکہ سکیورٹی ایجنسیز اور ریاست پاکستان نے ایک ایک انچ کی حفاظت کرنا ہوتی ہے۔ یہ بڑی مشکل لڑائی ہے سکیورٹی فورسز نے ایسے بہت سے واقعات کو بروقت حفاظتی اقدامات کے ذریعے روکا بھی ہے۔ اس واقعہ کو سکیورٹی کی ناکامی کہنا بالکل مناسب نہیں۔ سرفراز بگٹی کا کہنا تھا کہ خودکش حملہ آور کا ہمیں سر مل گیا ہے اور پنجاب کی فرانزک لیبارٹری کو ہم نے درخواست کر دی ہے لیبارٹری کے لوگ پہلی دستیاب فلائٹ پر کوئٹہ آ رہے ہیں۔ پنجاب فرانزک لیبارٹری اور آرمی کی فرانزک لیبارٹری سے مل کر اس تحقیقات کو آگے بڑھائیں گے۔وزیر خارجہ خواجہ آصف نے کوئٹہ خود کش حملے کی مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ دہشت گردوں کی بزدلانہ کارروائیاں ہمارے عزم اور ہمت کو کمزور نہیں کر سکتیں۔ پوری قوم دہشت گردی کے خلاف متحد ہے اور دہشت گرد مذموم مقاصد میں ناکام ہوں گے۔