کراچی: اچار فیکٹری کے کیمیکل ٹینک میں گر کر مالک سمیت6 افراد جاں بحق، ایک کو زندہ نکال لیا

کراچی: اچار فیکٹری کے کیمیکل ٹینک میں گر کر مالک سمیت6 افراد جاں بحق، ایک کو زندہ نکال لیا

کراچی (کرائم رپورٹر+ ایجنسیاں) کورنگی کے علاقے اللہ والا ٹائون میں فیکٹری کا مالک اور پانچ مزدور زہریلی گیس کے سبب دم گھٹنے سے جاں بحق ہو گئے جبکہ ایک مزدور کیمیکل کے ٹینک سے زندہ نکل آیا۔ پولیس نے اچار فیکٹری کو سیل کردیا اور ہلاک ہونے والے فیکٹری مالک شہاب کے بھتیجے اور چوکیدار کو حفاظتی تحویل میں لیکر تفتیش شروع کردی۔ اللہ والا ٹائون کے رہائشی علاقے میں اچار فیکٹری چار سو گز پر محیط ایک مکان میں غیر قانونی طور پر قائم تھی اور اس میں کئی فٹ گہرے کیمیکل ٹینک بنے ہوئے تھے۔ جائے وقوعہ سے نعشیں اٹھاکر جناح ہسپتال لے جانے کے لئے ایدھی اور چھیپا ویلفیئر کے رضا کاروں میں کھینچا تانی ہوئی۔ ڈی آئی جی ایسٹ منیر شیخ نے ابتدائی طور پر واقعہ کو حادثاتی قرار دیا۔ ابتدائی تفتیش کے بعد بتایا گیا فیکٹری کے مالک شہاب نے ملازمین کو فیکٹری کی صفائی کے لئے بلایا تھا۔ صفائی کیلئے کیمیکل ٹینک میں اترنے والے دو ملازمین کے بے ہوش ہونے کے بعد جب فیکٹری مالک شہاب اور دیگر ملازمین نے انہیں نکالنے کی کوشش کی تو وہ بھی زہریلی گیس سے دم گھٹنے کے نتیجے میں جاں بحق ہوگئے فیکٹری سے نعشوںکو نکالا گیا تو وہاں لوگوں کی بڑی تعداد موجود تھی جبکہ علاقے کی فضا انتہائی سوگوار تھی۔ وزیر اعلیٰ اور گورنر سندھ نے سانحہ اچار فیکٹری کا سخت نوٹس لیتے ہوئے کمشنر کراچی کو اس بارے میں تحقیقات کرکے رپورٹ پیش کرنے کا حکم دیا ہے۔ آئی این پی کے مطابق جاں بحق ہونے والے پانچ افراد کی عمریں 20 سے 30 سال کے درمیان ہیں، قائم مقام ڈی آئی جی پیر محمد شاہ کا کہنا ہے رہائشی علاقے میں فیکٹری قائم کرنے کی تحقیقات کی جائیں گی۔ وزیراعلیٰ سندھ نے لیبر ڈویژن کو واقعہ کی تحقیقات کا حکم دیا ہے۔ نوائے وقت رپورٹ کے مطابق فیکٹری میں پیش آنے والے واقعہ کی تحقیقات کیلئے کمیٹی بنا دی گئی۔ ڈی آئی جی ایسٹ منیر شیخ کے مطابق کمیٹی ایس ایس پی انویسٹی گیشن ایسٹ حبیب افضل بیگ کی سربراہی میں رپورٹ مرتب کرے گی۔ تحقیقاتی کمیٹی کو تین روز میں رپورٹ جمع کرانے کی ہدایت۔ آن لائن کے مطابق ایس ایس پی کورنگی کا کہنا ہے واقعے میں جاں بحق ہونے والوں کی شناخت کر لی گئی ہے جس میں فیکٹری مالک مہتاب اور 6مزدور شامل ہیں جن کی شناخت سہیل، سلیم، عمران، عدنان، نواب اور رفیق کے نام سے ہوئی ہے۔ اے پی پی کے مطابق وزیراعظم محمد نوازشریف نے کراچی میں فیکٹری سے نعشیں ملنے پر گہری تشویش کا اظہار کیا ہے۔ وزیراعظم نے متعلقہ حکام کو ہدایت کی وہ اس واقعہ کی رپورٹ ارسال کریں جبکہ اس واقعہ میں ملوث شرپسندوں کی نشاندہی کی جائے۔ وزیراعظم نے متاثرہ خاندانوں کے ساتھ تعزیت کا اظہار بھی کیا ہے۔