ایران ہمیں کیسے یمن میں لڑائی بند کرنے کے لیے کہہ سکتا ہے: سعود الفیصل

ایران ہمیں کیسے یمن میں لڑائی بند کرنے کے لیے کہہ سکتا ہے: سعود الفیصل

دارالحکومت ریاض میں فرانسیسی وزیرخارجہ لوراں فابیئس کے ساتھ ملاقات کے بعد مشترکہ نیوز کانفرنس میں شہزادہ سعود الفیصل نے کہا کہ یمن میں ایران کے کردار نے مسئلے کو بگاڑ دیا ہے، ایران باغیوں کو اسلحہ اور دیگر مدد فراہم کرنا بند کردے۔ شہزادہ سعود الفیصل کا کہنا تھا کہ ایران سعودی اتحاد کو یمن میں لڑائی ختم کرنے کے لیے کیسے کہہ سکتا ہے۔ ہم یمن میں ایک مجاز اتھارٹی کے دفاع کے لیے گئے تھے، سعودی وزیر خارجہ نے ایران ایٹمی فریم ورک سمجھوتے کے حوالے سے کہا کہ یہ خطے کی سکیورٹی میں اضافے کی جانب اہم قدم ثابت ہوسکتا ہے۔ادھرسعودی قیادت میں اتحادی فورسز نے یمن میں ’تیز‘ کے علاقے پر حوثیوں کے ایک ملٹری کیمپ پر بم باری کی ہے جس کے نتیجے میں 8 افراد کے مارے جانے کی اطلاع ہے۔عدن پر کیے جانے والے حملوں میں پندرہ افراد ہلاک ہوچکے ہیں، یمن کے وسطی علاقوں پر بھی حوثی باغیوں اور سابق صدر کے حامی فوجیوں کے متعدد ٹھکانوں پر بمباری کی جارہی ہےریاض میں پریس بریفنگ کے دوران سعودی فوج کے ترجمان بریگیڈیئر جنرل احمد عسیری کا کہنا تھا کہ اتحادی فوج کے لیے یمن میں مقامی جنگجوؤں کی حمایت بڑھ رہی ہے۔اب تک ریڈکراس کے تین طیارے امدادی سامان متاثرہ علاقوں تک پہنچاچکے ہیں اور اس کے لیے حوثی باغیوں سے بھی تعاون لیا گیا ہے۔