پنجاب حکومت اور نوارٹس فارما کے مابین کینسر کے مریضوں کے علاج اور ادویات کی فراہمی کیلئے مفاہمتی یادداشت پر دستخط، مہمان خصوصی شہباز شریف تھے

خبریں ماخذ  |  ویب ڈیسک
پنجاب حکومت اور نوارٹس فارما کے مابین کینسر کے مریضوں کے علاج اور ادویات کی فراہمی کیلئے مفاہمتی یادداشت پر دستخط،  مہمان خصوصی  شہباز شریف تھے

محکمہ صحت پنجاب حکومت اور انٹرنیشنل دوا ساز کمپنی نوارٹس فارما پاکستان کے مابین مفاہمت کی یادداشت پر دستخط کئے گئے اور اس معاہدے سے کینسر کے مریضوں کو علاج معالجہ کی سہولت ملے گی۔ معاہدے کی رو سے کینسر کے مرض میں مبتلا مریضوں کے علاج معالجے پر آئندہ پانچ سالوں میں 44 ارب روپے خرچ ہوں گے جس میں سے4 ارب 40 کروڑ روپے پنجاب حکومت جبکہ 39 ارب60 کروڑ روپے انٹرنیشنل ادویہ ساز کمپنی نوارٹس فراہم کرے گی اور اس پروگرام سے 9 ہزار کینسر کے مریض مستفید ہوں گے ۔ ماڈل ٹاؤن میں منعقد ہونے والی تقریب کے مہمان خصوصی وزیر اعلی پنجاب محمد شہباز شریف تھے ۔ پنجاب حکومت کی طرف سے سیکرٹری میڈیکل ایجوکیشن و سپیشلائزڈ ہیلتھ کیئر نجم شاہ جبکہ نوارٹس فارما پاکستان کی جانب سے کمپنی کے کنٹری ہیڈ شفیق احمد نے معاہدے پر دستخط کئے۔ وزیر اعلی محمد شہباز شریف نے اس موقع پر گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ پنجاب حکومت اور انٹرنیشنل دوا ساز کمپنی کے مابین طے پانے والے معاہدہ خوش آئند ہے اور اس سے کینسر کے مریضوں کو بے پناہ فائدہ ہو گا ۔ انہوں نے کہا کہ پنجاب حکومت اور نوارٹس فارما کے اشتراک سے جاری پروگرام کے تحت 3600 مریضوں کو علاج معالجہ فراہم کیا گیا ہے اور اب ہم اس حوالے سے مزید آگے بڑھ رہے ہیں ۔ یہ پروگرام انتہائی شفاف ہے اور فرگوسن کمپنی سے اس کا آڈٹ کرایا گیا ہے ۔ اس پروگرام کا حجم 44 ارب روپے ہے اور اس کا دورانیہ 5 سال ہے جس سے 9 ہزار کینسر کے مریض فیض یاب ہو ں گے ۔ انہوں نے کہا کہ یہ انقلابی پروگرام ہے جس کے دور رس اثرات مرتب ہوں گے ۔ وزیر اعلی نے میڈیا کے نمائندوں کے سوالات کے جوابات دیتے ہوئے کہا کہ کینسر کا علاج بہت مہنگا ہے اور پنجاب میں کینسر کے علاج کے حوالے سے مختلف ادارے کام کر رہے ہیں ۔ شہریوں کو بہتر علاج معالجہ اور تعلیمی سہولیات کی فراہمی ریاست کی ذمہ داری ہے ۔ اگر ریاست یہ نہیں کرسکتی تو وہ پھر کس کام کی ہے ۔ عوام کو اگر آج علاج اور تعلیم کی سہولتیں میسر نہیں ہیں تو اس کی وجہ اربوں ، کھربوں روپے کی کرپشن ہے ۔ کاش غریب قوم کے وسائل پر ڈاکہ نہ ڈالا جاتا اور قومی وسائل کو بے دردی سے نہ لوٹا جاتا تو آج ملک کے ہر شہری کو بہترین تعلیم اور علاج کی سہولتیں میسر ہو تیں ۔ انہوں نے کہا کہ پنجاب حکومت سٹیٹ آف دی آرٹ پاکستان کڈنی اینڈ لیور ٹرانسپلانٹ انسٹی ٹیوٹ بنا رہی ہے جہاں گردے اور جگر کے کینسر کا علاج ہو گا ۔ انہوں نے کہا کہ پنجاب حکومت نے صحت کے شعبہ کی بہتری کے لئے بے مثال اقدامات کئے ہیں تا ہم اگر قوم کے بچے اور بچیوں کو آج بھی معیاری تعلیم اور علاج نہیں مل رہا تو اس کی وجہ اربوں ، کھربوں کی کرپشن ہی ہے ۔ معیاری تعلیم اور معیاری علاج ہر شہری کا بلا امتیاز حق ہے اور اگر یہ حق اسے نہیں مل رہا تو اس کی وجہ صرف اور صرف کرپشن ہے ۔70 برس کے دوران سیاسی و آمرانہ حکومتوں نے ذمہ داری نہیں نبھائی اور اداروں نے بھی اس جانب اپنا کردار ادا نہ کیا ۔ پاکستان مسلم لیگ (ن) کی حکومت نے وسائل کے شفاف استعمال کو یقینی بنایا ہے اور شفافیت ہی مسلم لیگ (ن) کا طرہ امتیاز ہے ۔ ایک سوال کے جواب میں وزیر اعلی نے کہا کہ اگر آج کے پاکستان کا 12 اکتوبر 1999ء کے پاکستان کے ساتھ موازنہ کیا جائے تو آج کا پاکستان کہیں بہتر اور مضبوط ہے ۔ دور آمریت ، اس کی کٹھ پتلی حکومتوں اور بعد میں آنے والی حکومتوں نے ملک میں بجلی نہ ہونے کی بنا پر اندھیرے پھیلائے اور ملک کو مسائل اور بحرانوں میں دھکیلا۔ نواز شریف اور مسلم لیگ (ن) کی حکومت کو اس بات کا کریڈٹ جاتا ہے کہ ہم نے توانائی بحران کے خاتمے کے لئے دن رات کام کیا اور وقت قریب ہے جب ملک سے ہمیشہ کیلئے اندھیرے چھٹ جائیں گے اور ہم اضافی بجلی پیدا کرکے ہمسائیہ ممالک بھارت ، افغانستان اور ایران کو بھی فروخت کر رہے ہوں گے۔ 9 سالہ دور آمریت میں ملک دہشت گردی اور انتہا پسندی میں جکڑا ہوا تھا ۔ ہم نے بڑی حد تک دہشت گردی وانتہائی پسندی کے جن پر قابو پا لیا ہے ۔ اگر چہ یہ سیاسی حکومت کی سیاسی عزم کا منہ بولتا ثبوت ہے تا ہم محاذوں پر لڑنے والی پاک افواج کے افسران و جوانوں ، پولیس کے افسران اور جوانوں اور سیکورٹی اداروں کے افسران و اہلکاروں نے اپنا خون دیا ہے ۔ یہ عظیم قربانیوں کی عظیم داستان ہے ۔ گزشتہ 70 سالوں میں کئے گئے غلط فیصلوں کا قوم کو آج بھی خمیازہ بھگتا پڑرہا ہے ۔ لیکن اب ماضی کی غلطیوں پر رونے دھونے کی بجائے محنت اور عزم کے ساتھ آگے بڑھنا ہے ۔ ایک اور سوال کے جواب میں وزیر اعلی نے کہا کہ پنجاب حکومت نے پشاور میں ڈینگی سے متاثرہ اپنے بہن بھائیوں کی خلوص دل کے ساتھ مدد کرنے کی پیشکش کی ۔ ہم نے ڈاکٹروں ، نرسوں اور میڈیکل سٹاف کی ٹیمیں بھجوائیں ۔ موبائل ہسپتال بھی بھجوایا ۔ جنہوں نے اپنے بھائیوں کی مدد کی ، ہمارے صوبائی وزراء بھی پشاور کے بہن بھائیوں کی مدد کیلئے وہاں پہنچے ۔ ہم جس حد تک ان کی مدد کر سکتے تھے ان کی مدد کی تا ہم وہاں کی حکومت نے ہمیں چلے جانے کے لئے کہا اور ہم چلے آئے لیکن وہ جب بھی ہمیں یاد کریں گے اور ہمیں بلائیں گے تو ہم ان کی خدمت کے لئے حاضر ہو جائیں گے ۔ ایک اور سوال کے جواب میں وزیر اعلی نے کہا کہ ہیپاٹائٹس فلٹر کلینکس کا پورے پنجاب میں جال بچھایا جا رہا ہے اور یہاں ہیپاٹائٹس کے مریضو ں کو بہترین علاج معالجہ ملے گا ۔ اس کے علاوہ ہسپتالوں میں بھی ہیپاٹائٹس کے علاج کی سہولتیں دے رہے ہیں ۔ہیپاٹائٹس کے بچاؤ کیلئے بھی اقدامات کئے جا رہے ہیں کیونکہ ہم سمجھتے ہیں کہ اگر آج اس مرض کے روک تھام کیلئے اقدامات نہ کئے گئے تو پھر آگے چل کر ہمیں زیادہ وسائل صرف کرنا پڑیں گے ۔ انہوں نے کہا کہ صوبے سے جعلی ادویات کے خاتمے کیلئے بھی موثر اقدامات کئے گئے ہیں اور سرکاری ہسپتالوں میں مریضوں کو اعلی معیار کی ادویات فراہم کی جا رہی ہیں ۔ انہوں نے کہا کہ امن ، تعلیم ، علاج معالجہ اور دیگر بنیادی سہولتوں کی فراہمی کے لئے وسائل کی کوئی کمی نہیں۔ ہمارے رفقاء اور اداروں کی ذمہ داری ہے کہ وہ عوام کو صحت عامہ کی بہتر سے بہتر سہولتوں کی فراہمی کیلئے ان وسائل کا برق رفتاری سے شفاف استعمال یقینی بنائیں۔ ایک سوال کے جواب میں کہا کہ نجی سکولوں سے بڑی تعداد میں بچے سرکاری سکولوں میں آرہے ہیں جس کی وجہ ہمارے فروغ تعلیم کے لئے زبردست اقدامات ہیں ۔ انہوں نے کہا کہ اگر چہ نجی تعلیمی ادارے فروغ تعلیم کے حوالے بہت اہم کردار ادا کر رہے ہیں تا ہم انہیں بے جا فیسیں بڑھا کر عوام کا استحصال نہیں کرنے دیں گے ۔ ایک اور سوال کے جواب میں وزیر اعلی نے کہا کہ میں نے آج گورنمنٹ رجب طیب اردوان ہسپتال کا دورہ کیا ہے اور یہ ہسپتال شیشے کی طرح صاف ستھرا تھا ۔ اس ہسپتال کے لئے وسائل پنجاب حکومت دے رہی ہے اور یہاں بھی وہی پاکستانی کام کر رہے ہیں جو پنجاب کے دیگر سرکاری ہسپتالوں میں موجو د ہیں۔ فرق صرف مینجمنٹ کا ہے ۔ اس ہسپتال کی مینجمنٹ انڈس ٹرسٹ کے سپرد ہے ۔ میرے ہسپتال کے دورے کے دوران مریضوں نے بہترین طبی سہولتوں کی فراہمی پر مکمل اطمینان کا اظہار کرتے ہوئے اظہار تشکر بھی کیا ہے اور ہم اس ہسپتال کے توسیع منصوبے پر کام کر رہے ہیں ۔ 25 دسمبر تک 250 بستروں کا توسیع منصوبہ مکمل ہو جائے گا ۔ کاش یہ ماڈل نہ صرف پورے پنجاب بلکہ پاکستان اپنا لے ۔ انہوں نے کہا کہ ہسپتالوں کو پرائیویٹائز کرنے کے حوالے بے بنیاد باتیں کی جا رہی ہیں ۔دراصل یہ پراپیگنڈہ وہ لوگ کر رہے ہیں جوپشیمان ہیں کہ حکومت پنجاب نے جو یہ شاندار ماڈل متعارف کرایا ہے وہ کامیابی سے آگے بڑھ رہا ہے ۔ انہوں نے کہا کہ وائی ڈی اے والے بھی اسی قوم کے بیٹے اور بیٹیاں ہیں ۔ انہیں ہڑتالوں کی بجائے دکھی انسانیت کی خدمت کرنی چاہیے ۔ انہوں نے کہا کہ میرے دور میں ایسا نہیں ہو گا کہ کوئی ہڑتال یا بلیک میل کر کے دکھی انسانیت کے زخموں پر مرہم نہ رکھے۔ قوم باشعور ہے اب وہ ایسے کسی دھوکے میں نہیں آئے گی۔ وزیر اعلی نے کہا کہ میں پنجاب حکومت اور نوارٹس فارما کے اشتراک سے کامیابی سے جاری پروگرام اور نئے معاہدہ طے پانے پر پوری قوم ، پنجاب کے عوام اور کینسر کے مریضوں کو مبارکباد دیتا ہوں اور یہ پروگرام کینسر کے مریضوں کے علاج معالجہ کے حوالے سے انتہائی سودمند ثابت ہو گا ۔ صوبائی وزراء خواجہ سلمان رفیق ، خواجہ عمران نذیر ، مشیر ڈاکٹر عمر سیف ، چیف سیکرٹری ، سیکرٹریز صحت ، ماہرین صحت اور متعلقہ حکام بھی اس موقع پر موجود تھے۔