دہشت گرد افغانستان سے آ رہے ہیں‘ مسلم لیگ ن نے ججز بحالی کا مائنس ون فارمولا پیش کیا تھا‘ ہم نے انکار کردیا : رحمن ملک

اسلام آباد (سجاد ترین/ خبرنگار خصوصی) وزیر داخلہ رحمن ملک نے کہا ہے کہ بھوربن معاہدے کے دوران مسلم لیگ (ن) کی جانب سے مائنس ون ججز کی بحالی کا فارمولا بھی پیش کیا گیا تھا مگر ہم نے انکار کر دیا تھا، صدر آصف علی زرداری نے کہا تھا کہ جسٹس عبدالحمید ڈوگر کی مدت ملازمت پوری ہونے کے بعد ججزکو بحال کر دیا جائے گا، جب جسٹس عبدالحمید ڈوگر کی مدت ملازمت پوری ہوئی تو ہم نے ججز کو بحال کر دیا یہ بات غلط ہے کہ ججوں کو لانگ مارچ کی وجہ سے بحال کیا گیا ہے، پیپلز پارٹی کی قیادت اور مجھ پر جو مقدمات ہیں میثاق جمہوریت کے معاہدے کے وقت ان مقدمات کو جھوٹا قرار دیا گیا تھا ہم بی بی کی مفاہمت کی پالیسی کو جاری رکھیں گے، پاکستان کے دشمن طالبان کو اسلحہ اور پیسہ دے رہے ہیں دہشت گردی کینسر بن کر پھیل گئی علاج کے لئے وقت درکار ہو گا محترمہ بے نظیر بھٹو کے قتل بارے اقوام متحدہ نے جو رپورٹ دی ہے اس کے ثبوت بھی ان سے مانگے گئے ہیں کیونکہ جب مقدمہ عدالت میں چلے گا تو پھر ثبوت پیش کرنا ہوں گے۔ پاکستانی ایجنسیوں نے بھی بے نظیر بھٹو کے قتل کی تحقیقات شروع کر رکھی ہے جوآخری مرحلہ میں ہے محترمہ بے نظیر بھٹو نے اپنی شہادت سے قبل جنرل مشرف کے نام جو خط لکھا تھا‘ اس خط میں جن لوگوں کے نام لئے ان سے بھی تحقیقات کی گئی ہے ہم میڈیا کی آزادی کے حامی ہیں مگر ایک ٹی وی اینکر پرسن مڈٹرم الیکشن اور ایوان صدر سے لاش جانے کی باتیں کر رہا تھا یہ غیر ذمہ داری کا مظاہرہ ہے، میڈیاکو خود اپنے اندر احتساب کرنا ہو گا۔ اپنے دفتر میں ”نوائے وقت“ کو خصوصی انٹرویو دیتے ہوئے رحمن ملک نے کہا کہ جنوبی پنجاب سمیت جہاں حکومت کی رٹ چیلنج کی جائے گی وہاں کارروائی کی جائے گی۔ انہوں نے کہاکہ ہم حالت جنگ میں ہیں ہمارا دشمن ہمارے خلاف سازشیں کر رہا ہے مگر ہم دشمن کی ہر چال کو ناکام بنا رہے ہیں ہم دشمن کی جانب سے 98 فی صد دہشت گردی کے واقعات روکنے میں کامیاب ہو چکے ہیں مگر ایک آدھا حملہ کرنے میں دشمن کامیاب ہو جاتا ہے، دہشت گردی کے خلاف پوری قوم کو متحد ہوکر مقابلہ کرنا ہو گا۔ دہشت گردوںکی وجہ سے ہمارے ملک میں ترقی کا عمل رک گیا ہے، انہوں نے کہا کہ ہماری حکومت کی کارکردگی کو دیکھتے ہوئے ضمنی الیکشن میں عوام نے ہمارے امیدواروں کو کامیاب بنایا ہے۔ انہوں نے کہا کہ صدر آصف علی زرداری ایک بزرگ لیڈر نظر آتے ہیں، آئین کے مطابق تمام اداروں کو اپنے اپنے دائرہ کار میں کام کرنا ہو گا عدلیہ اور حکومت کے درمیان تصادم کا کوئی خطرہ نہیں ہے، ہم عدالتوں کا احترام کرتے ہیں، رحمن ملک نے کہا کہ چیف جسٹس پنجاب ہائی کورٹ نے جوسیاسی بیان دیا ہے میں اس پرکوئی تبصرہ نہیں کروں گا کیونکہ میرے خلاف ایک مقدمہ میں چیف جسٹس پنجاب نے فیصلہ دیا ہے میں ان کے بارے میں کوئی بات نہیں کروں گا میں ان کا احترام کرتا ہوں۔ انہوں نے کہا کہ میں طاقتور وزیر نہیں ایک ورکر ہوں، رحمن ملک نے کہاکہ اقتدار میں آنے سے قبل میری مختلف کمپنیاں تھیں مگر وزیر بننے کے بعد میں نے تمام کمپنیاں ختم کر دی ہیں اور میرے خلاف بے بنیاد خبریں شائع کی گئیں ہیں۔ رحمن ملک نے کہا کہ مجھے بی بی نے پارٹی کی سینٹرل ایگزیکٹو کمیٹی کا ممبر بنایا میں نے پرویز مشرف‘ نوازشریف‘ شہباز شریف سے بی بی کی ہدایت پر ملاقاتیں کیں۔ انہوں نے کہاکہ جب عام انتخابات میں ہماری پارٹی نے کامیابی حاصل کی تو مجھے گورنر پنجاب اورمشیر داخلہ بنانے کی دونوں تجاویز پیش کی گئیں۔میں دنیا کا واحد وزیر ہوں جس پر سات حملے ہو چکے ہیں اور میرے سر کی قیمت لگائی گئی۔ انہوں نے کہا کہ پنجاب حکومت کی واضح پالیسی ہے وہ ہمارے ساتھ مل کر کام کریں گے، دہشت گردی کے بارے میں ہمارے پاس جو بھی اطلاعات ہوتی ہیں ہم فوری صوبوں کو فراہم کرتے ہیں تاکہ دہشت گردوں پرکنٹرول حاصل کیا جائے، پنجاب حکومت نے دہشت گردوں کے خلاف کارروائی کرتے ہوئے خودکش جیکٹس اور 6 دہشت گرد پکڑے ہیں جو صدر آصف علی زرداری پر حملہ کرنا چاہتے تھے۔ اسلام آباد (خبرنگار خصوصی + ریڈیو نیوز + آن لائن) وفاقی وزےر داخلہ رحمن ملک نے کہا ہے کہ دہشتگرد افغانستان سے داخل ہو رہے ہےں،افغان حکومت کنڑ سے باجوڑ اور مہمند اےجنسی سے دہشت گردوں کا داخلہ روکنے کےلئے بارڈر سےل اور خفےہ معلومات کا تبادلہ کرے، کالعدم لشکر جھنگوی اور سپاہ صحابہ والوں کا کوئی مذہب نہےں وہ صرف اپنے آقاوں کی ہداےت پر کام کر رہے ہےں، اسلام آباد مےں مےڈےا سے گفتگو کرتے ہوئے وفاقی وزےر داخلہ نے داتادربار مےں خودکش حملوں کی مذمت کرتے ہوئے کہا کہ مجرموں کو کسی صورت نہےں چھوڑا جائے گا، انہوں نے کہا کہ دہشت گرد ملک مےں پہلے لسانی فسادات کرانا چاہتے تھے اس مےں ناکامی کے بعد اب فرقہ وارانہ فسادات چاہتے ہےں، وزےر داخلہ کا کہنا تھا کہ دہشتگردی کے واقعات مےں تےسری قوت کا ہاتھ ہے جو ملک کو عدم استحکام کا شکار کرنا چاہتی ہے، دہشتگردی پنجاب ہی کا نہےں بلوچستان،سندھ اور خےبر پی کے سمےت سب کا مسئلہ ہے ،انہوں نے کہا کہ داتادربار خودکش حملوں مےں ملوث اےک حملہ آور کی شناخت ہوگئی ہے۔ واقعہ کی تحقیقات کی جا رہی ہیں۔ اس میں سپاہ صحابہ اور لشکر جھنگوی کے ملوث ہونے کا امکان ہے۔ انہوں نے کہا کہ جنوبی پنجاب میں دہشت گردوں کیخلاف پنجاب حکومت کارروائی کررہی ہے۔ دہشت گرد ترقی کے دشمن ہیں۔ انہوں نے کہا کہ داتا دربار پر حملہ کرنیوالوں کو جلد بے نقاب کیا جائیگا۔ ریڈیو نیوز کے مطابق وزیر داخلہ نے کہا کہ افغان حکومت دہشت گردوں کی پاکستان آمد روکنے میں مدد کرے۔ دہشت گردی کی کارروائیاں فرقہ وارانہ نہیں، تیسری قوت کررہی ہے۔ جی این آئی کے مطابق وزیر داخلہ سے نواب اسلم رئیسانی نے ملاقات کی۔ ملاقات مےں بلوچستان مےں امن و امان کی صورتحال اور لاپتہ افراد کے معاملے سمیت دیگر امور پر تبادلہ خیال کیا گیا۔ وزیرداخلہ نے کہا کہ امن و امان اور لاپتہ افراد کے حوالے سے اعلیٰ سطح کا ایک اجلاس جلد بلوچستان مےں منعقد کیا جائے گا۔