اورکزئی : بمباری سے 32 شدت پسند جاں بحق۔۔ مہمند ایجنسی دھماکے کے 3 زخمی چل بسے

پشاور+ مہمند ایجنسی (مانیٹرنگ نیوز+ ایجنسیاں) اورکزئی ایجنسی میں جیٹ طیاروں کی بمباری سے 32شدت پسند جاں بحق، 11 زخمی ہو گئے جبکہ شدت پسندوں کے 9ٹھکانے بھی تباہ ہو گئے۔ بنوں کے متعدد علاقوں میں کرفیو نافذ کر دیا گیا۔ پشاور اور نوشہرہ میں سرچ آپریشن کے دوران 2اہم طالبان کمانڈروں سمیت 270مشتبہ افراد کو گرفتار کر لیا گیا۔ مہمند ایجنسی کے پولیٹیکل ایجنٹ امجد علی خان نے کہاکہ شدت پسندوں کو افغانستان سے مدد مل رہی ہے۔ مہمند ایجنسی میں خودکش دھماکے کے مزید 3 زخمی ہسپتال میں دم توڑ گئے جبکہ ملبے سے ایک بچے کی نعش ملی ہے۔ میرانشاہ میں فوجی قافلے پر بم حملہ کیا گیا۔ تفصیلات کے مطابق اپر اورکزئی ایجنسی کے مختلف علاقوں بلیانہ، تورسک اور تورسمت میں مشتبہ ٹھکانوں پر جیٹ طیاروں سے بمباری کی گئی۔ کارروائی کے نتیجے میں32 شدت پسند جاں بحق ہو گئے۔ علاقے میں سرچ آپریشن بھی جاری ہے۔ دوسری جانب میرانشاہ میں بنوں، میرانشاہ روڈ پر فوجی قافلے جب روانہ ہوئے تو گورا قبرستان کے قریب ریموٹ کنرٹول بم سے حملہ کیا گیا جس سے کسی جانی نقصان کی اطلاع نہیں ملی۔ سکیورٹی فورسز نے علاقے کو گھیرے میں لے لیا۔ ادھر مہمند ایجنسی خودکش حملے میں 95 زخمی پشاور کے مختلف ہسپتالوں میں زیر علاج ہیں جبکہ 14 افراد ابھی تک لاپتہ ہیں۔ وفاقی حکومت نے جاں بحق ہونیوالوں کیلئے 3-3لاکھ اور زخمیوں کیلئے ایک ایک لاکھ انعام کا اعلان کیا گیا ہے۔ آئی این پی کے مطابق ڈی پی او بنوں سجاد خان نے میرانشاہ روڈ‘ دو سڑک‘ ممش خیل‘ مہمند خیل‘ ایئرپورٹ روڈ‘ باران پل روڈ‘ آزاد منڈی اور ایف آر بکا خیل میں غیر معینہ مدت کیلئے کرفیو کے نفاذ کا اعلان کردیا ہے۔ پولیٹیکل ایجنٹ مہمند ایجنسی نے کہاکہ جیل دیوار گرنے سے فرار ہونیوالے 35قیدیوں میں سے اکثر کو دوبارہ گرفتار کر لیا گیا ہے۔