قومی اسمبلی: سپریم کورٹ ، پشاور ہائیکورٹ کا دائرہ کار فاٹا تک بڑھانے کا بل منظور، جے یو آئی (ف) کی ترمیم مسترد، ارکان کا احتجاج، واک آؤٹ

خبریں ماخذ  |  ویب ڈیسک
قومی اسمبلی: سپریم کورٹ ، پشاور ہائیکورٹ کا دائرہ کار فاٹا تک بڑھانے کا بل منظور، جے یو آئی (ف) کی ترمیم مسترد، ارکان کا احتجاج، واک آؤٹ

 قومی اسمبلی نے سپریم کورٹ اور پشاور ہائی کورٹ کا دائرہ کار وفاق کے زیر انتظام قبائلی علاقہ جات تک بڑھانے کا بل کثرت رائے سے منظور کرلیا۔  قومی اسمبلی میں پیپلز پارٹی کے پارلیمانی لیڈر سید نوید قمر نے قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے قانون و انصاف کی سپریم کورٹ اور پشاور ہائی کورٹ کی قبائلی علاقوں تک توسیع کے بل پر رپورٹ ایوان میں پیش کی۔ خورشید شاہ اور نویدقمر نے کہا یہاں بل میں اسلام آباد ہائی کورٹ کا ذکر تھا کمیٹی نے پشاور ہائی کورٹ کیا ہے۔ وزیر قانون محمود بشیر ورک نے تحریک پیش کی کہ سپریم کورٹ اور پشاور ہائی کورٹ کے دائرہ کار کو قبائلی علاقوں تک توسیع دینے کے بل 2017ءکو زیر غور لایا جائے۔ ایوان نے تحریک کی منظوری دے دی۔ اس کے بعد بل کی شق وار منظوری کا عمل شروع ہوا۔ نعیمہ کشور خان نے کہا یہ بل ایجنڈے میں شامل نہیں تھا اس کو بلڈوز کیا جارہا ہے۔ سپیکر نے کہا کہ ارکان کی اکثریت نے ایجنڈے کو معطل کرکے بل کو زیر غور لانے کی درخواست کی۔ بل میں غلطیاں ہیں‘ ہم اس پر بحث کرنا چاہتے تھے۔ نعیمہ کشور خان نے بل میں ترمیم پیش کی۔ وزیر قانون چوہدری محمود بشیر ورک نے اس کی مخالفت کی۔ ایوان نے ترمیم مسترد کردی۔ نعیمہ کشور خان نے کہا کہ ہم احتجاجاً اپنی ترمیم پیش نہیں کریں گے۔ قومی اسمبلی نے بل کی تمام شقوں کی منظوری دے دی۔ وزیر قانون چوہدری محمود بشیر ورک نے تحریک پیش کی کہ سپریم کورٹ اور پشاور ہائی کورٹ کے دائرہ کار کو وفاق کے زیر انتظام قبائلی علاقہ جات تک توسیع دینے کے بل 2017ءکو منظور کیا جائے۔ قومی اسمبلی نے بل کی کثرت رائے سے منظوری دے دی۔ بل جب قومی اسمبلی میں پیش ہوا تھا تو اس وقت سپریم کورٹ اور اسلام آباد ہائی کورٹ کے اختیار سماعت میں توسیع کا بل تھا تاہم بعد ازاں قائمہ کمیٹی میں اس میں ترمیم کی گئی اور اسے عدالت عالیہ پشاور کردیا گیا۔ اس بل کا مقصد فاٹا کے لوگوں کو ان کی خواہشات اور امنگوں کے مطابق مرکزی دھارے میں لانے کے لئے عدالت عظمیٰ اور عدالت عالیہ پشاور کے اختیار سماعت کو مذکورہ علاقے تک توسیع دی جارہی ہے تاکہ ان کے حقوق کا تحفظ ہو سکے اور انہیں دستور کی مطابقت میں انصاف کے صحیح انصرام کا اہتمام کیا جاسکے۔ جمعیت علماءاسلام (ف) کے ارکان نے بل کی منظوری کے دوران ایوان سے احتجاجاً واک آﺅٹ بھی کیا تاہم ان کی جماعت کے وزیر برائے پوسٹل سروسز اور محمد خان شیرانی نے اس میں حصہ نہیں لیا۔ اپوزیشن لیڈر خورشید شاہ نے کہا پہلے ہم نے انتخابی اصلاحات کیں۔ ایف سی آر کا خاتمہ کرتے ہوئے اعلی عدالتوں کا دائرہ کار بھی فاٹا تک بڑھا دیا۔ مطالبہ ہے کہ اسی دور میں پارلیمنٹ فاٹا کے انضمام کا تاریخی کام بھی انجام دے۔ فاٹا کے عوام کی بے مثال قربانیوں کے صلے میں فاٹا کا خیبر پی کے میں انضمام کیا جائے۔ اگلے سیشن میں فاٹا انضمام کا بل بھی ایوان میں لایا جائے۔ جمعہ کو سپیکر سردار ایاز صادق کی سربراہی میں قومی اسمبلی کا اجلاس ہوا۔ اجلاس کے آغاز پر معصوم زینب کے ایصال ثواب کے لیے دعا کرائی گئی۔ اپوزیشن کی جانب سے قومی اسمبلی کی معمول کی کارروائی معطل کرکے ننھی زینب کے ساتھ پیش آنے والے واقعے پر بحث کی تحریک پیش کی گئی جسے منظور کرلیا گیا۔ سپیکر نے کہا جو کچھ معصوم بچی کے ساتھ ہوا افسوسناک ہی نہیں شرم ناک ہے۔خورشید شاہ نے واقعے پر اظہار خیال کرتے ہوئے کہا کہ مر جانا یا مار دینا اتنی بڑی بات نہیں لیکن ہم سب بچوں والے ہیں، بچی کے ساتھ جو ظلم ہوا اسے بیان کرنے کے لیے الفاظ نہیں۔ قصور واقعہ پنجاب حکومت کی ناکامی ہے۔ موٹر سائیکلوں پر فورس دکھا رہے ہیں کہ پنجاب محفوظ ہے، کہاں ہے محفوظ پنجاب، یہ واقعہ ان واقعات کا تسلسل ہے جن پر کوئی کارروائی نہیں ہوئی۔ ہم اس کام میں کھو جاتے ہیں حکومت کیسے بچانی ہے۔ میں بچانے کی بات کر رہا ہوں چلانے کی نہیں۔اگر حکومت چلائی جاتی تو ایسے واقعات نہ ہوتے۔ ایک ایس پی کو ہٹا دینا بڑی بات نہیں۔ قصور کے واقعے نے پورے ملک کومتاثر کیا ہے، جن کی بیٹیاں ہیں وہ والدین تشویش میں ہیں۔ حکومت کی ذمہ داری ہے کہ لوگوں کوتحفظ دے، پارلیمنٹ اب نتائج مانگے گی۔صوبوں میں جرائم کی شرح سے متعلق اعداد و شمار پارلیمنٹ میں پیش کیے جائیں۔ جرائم کے اعدادوشمار سے واضح ہوگا کس صوبے کی حکومت ناکام ہے۔ وزیرمملکت پارلیمانی امور محسن شاہنواز رانجھا نے کہا قصور واقعے پر سیاسی پوائنٹ سکورنگ نہیں کرنی چاہیے۔ یہ سماجی اور معاشرتی دہشت گردی ہے۔ یہ برائی ہر جگہ موجود ہے جس کا تدارک کرنا ہو گا، اس طرح کے واقعات پاکستان کے کئی شہروں میں ہوئے ہیں۔کیا لاڑکانہ اور ڈیرہ اسماعیل خان میں ایسے واقعات نہیں ہوئے، ہمیں تسلیم کرنا ہو گا ایسے واقعات پر ہم نے خود توجہ نہیں دی۔سال پہلے قصور واقعے کے بعد ہمارے دور حکومت میں باقاعدہ قانون سازی ہوئی، عمرقید کافی نہیں، ایسے مجرموں کو سرعام پھانسی دی جائے۔پاکستان تحریک انصاف کی رہنما شیریں مزاری نے کہا ایسے واقعات میں عمر قید کی سزا قوم اور قوم کے بچوں کے ساتھ مذاق ہے۔انہوں نے مطالبہ کیا کہ قصور بچی کے قتل اور مظاہرے کے دوران دو افراد کے قتل میں بھی شفاف تحقیقات کی جائیں۔ قصور واقعے سے ظاہر ہے حکومت ناکام ہوچکی ہے اور اسے اس بات کا اعتراف کرنا چاہیے۔اس معاملے میں قرارداد پاس کرنا بے معنی ہے بلکہ اس معاملے میں عملی کارروائی کا مطالبہ ہونا چاہیے اور کارروائی کی نگرانی ایک پارلیمانی کمیٹی کو کرنی چاہیے۔شیریں مزاری نے مطالبہ کیا کہ بچوں کو جنسی ہراساں کرنے کے حوالے سے تعلیمات دی جائیں اور میڈیا پر اس حوالے سے آگاہی مہمات بھی چلائی جائیں۔جماعت اسلامی کے پارلیمانی لیڈر صاحبزادہ طارق اللہ نے کہا ہے زینب ہماری بچی ہے‘ ہماری ہمدردیاں اس کے خاندان کے ساتھ ہیں‘ واقعہ کے مرتکب ملزمان کو کیفر کردار تک پہنچایاجائے‘ اس ایوان کو قانون سازی کرکے اپنی ذمہ داریاں پوری کرنا ہوں گی۔قومی اسمبلی میں قصور میں زیادتی کے بعد قتل ہونے والی 7 سالہ زینب‘ جنرل خالد شمیم وائیں‘ ایئرمارشل (ر) اصغر خان اور سکیورٹی ایجنسیوں کے شہید اہلکاروں کے ایصال ثواب کے لئے فاتحہ خوانی کرائی گئی۔