ہزاروں فلسطینیوں کے قاتل سابق اسرائیلی وزیراعظم ایریل شیرون چل بسے

ہزاروں فلسطینیوں کے قاتل سابق اسرائیلی وزیراعظم  ایریل شیرون چل بسے

مقبوضہ بیت المقدس (نیٹ نیور) ہزاروں فلسطینی مسلمانوں کے قاتل اور بلڈوزر کے نام سے مشہور سابق اسرائیلی وزیراعظم ایریل شیرون 8 سال کومے میں رہنے کے بعد85 سال کی عمر میں انتقال کر گئے، وہ تل ابیب سے کچھ فاصلے پر واقع شیبا میڈیکل سینٹر میں زیر علاج تھے۔ غیرملکی خبررساں ادارے کے مطابق ایریل شیرون 2006 میں اپنی سیاسی زندگی کے عروج پر تھے کہ فالج کے بعد کومے میں چلے گئے جس کے بعد وہ کبھی کبھی اپنی آنکھیں کھولتے اور انگلیاں ہلاتے تھے، اسرائیلی میڈیا کے مطابق شیرون گردوں کے ناکارہ ہونے کے گہرے مسائل کا شکار ہوئے، سابق صیہونی وزیراعظم ایریئل شیرون مقبوضہ علاقوں میں یہودی بستیوں کے سخت ترین حامی تھے مگر ان کے آخری اقدامات میں سے ایک، غزہ پٹی سے اسرائیلی فوج کی واپسی نے ان کے مداحوں کو حیران کر دیا، ایریل شیرون 1928 میں فلسطین میں پیدا ہوئے جب یہ علاقہ برطانوی کنٹرول میں تھا، اپنی نوجوانی میں انہوں نے خفیہ یہودی مسلح تنظیم ہگانا میں شمولیت اختیار کی اور 1948-49 کی عرب اسرائیل جنگ میں بطور پلاٹون کمانڈر شرکت کی۔ ایریئل شیرون نے اسرائیل کے قیام سے لے کر اب تک ملک کی تمام جنگوں میں شرکت کی۔ 1956 میں سوئز جنگ میں انہوں نے چھاتہ برداروں کی ایک بریگیڈ کی قیادت کی اور میجرل جنرل کے عہدے تک پہنچے۔  ایریل شیرون ایک نئی دائیں بازو کی لیکود پارٹی کے ٹکٹ پر اسرائیلی پارلیمان کے رکن منتخب ہوئے تاہم اگلے سال ہی انہوں نے اسرائیلی وزیر اعظم اسحاق رابین کا مشیر برائے سکیورٹی بننے کے لئے رکنیت چھوڑ دی۔ جنوبی لبنان سے شمالی اسرائیل میں راکٹ حملوں کے بعد 1982  ایریئل شیرون نے ہمسایہ ملک پر حملے کی منصوبہ بندی کی۔اسرائیلی وزیرِاعظم کو مطلع کئے بغیر ہی انہوں نے اسرائیلی فوج کو بیروت تک بھیج دیا۔ اس کارروائی کے بعد پی ایل او کو لبنان سے نکال دیا گیا۔اس اقدام سے پی ایل او کو تو لبنان چھوڑنا پڑا مگر اس کارروائی کی وجہ سے اسرائیل کے زیرِ انتظام فلسطینی پناہ گزینوں کے دو کیمپوں صابرہ اور شتیلا میں لبنانی عیسائی مسلح افراد نے سینکڑوں فلسطینیوں کو ہلاک کر دیا۔ اس قتل عام کا براہ راست ذمہ دار اور منصوبہ ساز ایریئل شیرون کو ہی سمجھا جاتا تھا اور فلسطینی عوام اس قتل عام کے بعد ایریل شیرون  سے نفرت  کرنے لگے۔ 1983ء میں ایک اسرائیلی ٹربیونل نے صابرہ اور شتیلا میں ہزاروں فلسطینیوں کے قتل کی تحقیقات کرتے ہوئے ایریل شیرون کو براہ راست ذمہ دار قرار دیا اور انہیں فوجی عہدے سے ہٹا دیا۔ 1967ء میں فلسطینی علاقوں پر قبضے کے بعد وہاں یہودیوں کی سب سے زیادہ آباد کاری ایریل شیرون کے دور میں ہوئی۔