چودھری اشتیاق لاہور بار کے صدر منتخب ‘ سیکرٹری کی ایک نشست پر چودھری سلیم لادی کو سبق حاصل

چودھری اشتیاق لاہور بار کے صدر منتخب ‘ سیکرٹری کی ایک نشست پر چودھری سلیم لادی کو سبق حاصل

لاہور (اپنے نامہ نگار سے) ایشیا کی سب سے بڑی لاہور بار کا سالانہ دنگل گذشتہ روز پرامن طریقے سے اختتام پذیر ہو گیا۔ لاہور بار ایسوسی ایشن کے سالانہ انتخابات میں پروفیشنل گروپ کے نامزد امیدوار چوہدری محمد اشتیاق نے صدارت کی نشست جیت لی ہے۔ انہوں انڈیپنڈنٹ گروپ کے نامزد امیدوارجی اے خان طارق کو شکست دی ہے۔ چوہدری محمد اشتیاق نے 3063 ووٹ حاصل کئے جبکہ ان کے حریف جی اے خان طارق محض 1450ووٹ ہی حاصل کر سکے۔ دیگر نشستوں میں سے جائنٹ سیکریٹری کی نشست پر طاہر ریاض سلہریا 2222ووٹ لیکر کامیاب ہوئے جبکہ ان کے مدمقابل رانا احسن نے2174ووٹ حاصل کئے۔ رات گئے موصول ہونے والے غیر حتمی نتائج کے مطابق نائب صدر کی دو نشستوں پر ساحر عباس اعوان اور لبیب ظفر باجوہ کی پوزیشن بہتر تھی جبکہ نائب صدر ماڈل ٹائون کی نشست پر رانا ضمیر احمد جھیڈو کو اپنے مخالف پر واضح برتری حاصل تھی ۔ سیکرٹری کی دو نشستوں پر چوہدری محمد سلیم لادی کو اپنے حریفوں پر سبقت حاصل تھی جبکہ دوسری نشست کے لئے ادیب اسلم بھنڈر اور قسیم اسلم ہنجراء میں سخت مقابلہ جاری تھا ۔ فنانس سیکرٹری کی نشست پر پیر فرید الحق چشتی کو اپنے مخالف پر برتری حاصل تھی۔ آڈیٹر کی نشست پر انعام الحق پاشا کو بلا مقابلہ کامیاب قرار دے دیا جا چکا ہے۔ لاہور بار ایسوسی ایشن کے سالانہ انتخابات 2014-15ء خوش اسلوبی کے ساتھ اپنے اختتام کو پہنچ گئے۔سپورٹروں کی طرف سے نعرے بازی کاسلسلہ بھی وقفے وقفے سے جاری رہا۔ ممکنہ دہشت گردی کے پیش نظرسکیورٹی کے سخت اقدامات اٹھائے گئے تھے پولیس کی بھاری نفری سیشن کورٹ کے اندروباہر تعینات تھی، سراغ رساں کتوں کی بھی خدمات حاصل کی گئی تھیں۔ الیکشن بورڈ کے ارکان سیشن جج کی عدالت میں بنائے گئے کنٹرول روم سے پولنگ کاعمل دیکھتے رہے۔ دن بھر پولنگ کاعمل جوش و خروش سے جاری رہا، دوپہرایک بجے کھانے کاوقفہ ہوا۔ وکلا دور دراز سے آکر اپنے اپنے امیدوار کو ووٹ کاسٹ کرتے رہے، کوئی بھی نا خوشگوار واقعہ دیکھنے میں نہیں آیا۔ خواتین وکلاء کی سہولت کے لئے ایک مخصوص پولنگ بوتھ قائم کیا گیا۔ 13ہزار سے زائد وکلا نے اپنا حق رائے دہی استعمال کیا۔ پولنگ کے لئے 9 بوتھ قائم کئے گئے۔ الیکشن کی وجہ سے سیشن کورٹ میں ہونے والی سماعتیں آئندہ کیلئے ملتوی کردی گئی جبکہ جیلوں سے بھی حوالاتیوں کوسیشن کورٹ نہیں لایاگیا۔ لاہور بار ایسوسی ایشن کے سالانہ الیکشن میں ووٹ ڈالنے کے لئے معروف قانون دان اور سینئر وکلاء کی ایک بڑی تعداد دیکھنے میں آئی۔ سینئر وکلا  نے اپنے اپنے امیدوار کو کامیاب کروانے کے لئے انتخابی مہم میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیا۔ پروفیشنل گروپ کے سربراہ حامد خان، اینڈیپینڈنٹ گروپ کی چیئرپرسن عاصمہ جہانگیر ، پاکستان بار کونسل کے ارکان رمضان چودھری ، اعظم نذیر تارڑ ، برہان معظم ملک، لاہور ہائیکورٹ بار کے صدر عابد ساقی، سیکرٹری بلیغ الزماں، لاہور بار کے صدر نعمان قریشی، سیکرٹیریز سمیت معروف قانون دانوں نے  اپنے اپنے امیدواروں کے لئے بڑھ چڑھ کر زور لگایا۔ اس موقع پر پروفیشنل گروپ کے سربراہ حامد خان نے میڈیا سے بات چیت کرتے ہوئے کہا کہ اعلیٰ عدلیہ میں ججوں کی تقرری میرٹ پر ہونی چاہئے اور کسی جج کو سیاسی وابستگی سے بالا تر ہونا چاہئے۔آزاد گروپ کی سربراہ عاصمہ جہانگیر نے لاہور بار کے سالانہ انتخابات کے موقع پر صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ اعلیٰ عدلیہ سمیت ماتحت عدلیہ میں ججوں کی تعدا د اور عدالتیں بڑھانے کی اشد ضرورت ہے۔ ایڈووکیٹ جنرل پنجاب تو ہے نہیں جوڈیشل کمپلکس کیا تعمیر کریں گے۔ اسسٹنٹ ایڈووکیٹ جنرل ہی سے کام چلا رہے ہیں کیونکہ ان کی تقرریاں سیاسی بنیادوں پر ہیں۔ انہوں نے کہا کہ وکلاء اس بات پر متفق تھے کہ ججوں کی تقرری میرٹ پر نہیں ہو رہی، ججز کو چاہئے کہ وہ منتخب کیسز نہ کریں، مشرف کا کیس کینگرو ٹرائل ہے میں پہلے دن سے اس کی مخالفت کرتی رہی ہوں۔ انہوں نے کہا کہ جو مشرف کے بغلوں میں بیٹھے رہے وہ ہی مشرف کو سز ا دلوانے میں شور کر رہے ہیں۔ مجھے مشرف کا وکیل بننے کی پیشکش کی گئی لیکن میں نہیں بن سکتی تھی۔ انہوں نے کہا کہ سیاست ایک آرٹ ہے اگر مشرف کو سزا دی گئی تو آنے والا ڈکٹیٹر 20سال کے لئے آئے گا ۔ لاہور بار کے الیکشن کے حوالے سے پوچھے گئے سوال پر انہوں نے کہا کہ انتخابات میں کسی کی ہار جیت نہیں ایک نے ہارنا ہے اور ایک کامیاب ہو گا۔سیکورٹی پر مامور 300پولیس اہلکاروں کو تعینات کیاگیا تھا جبکہ 50افراد کو خصوصی طور پر پورے سیشن کورٹ میں تعینات کیا گیا تھا اسی طرح سکیورٹی کو فول پروف بنانے کے لئے  ایس پی سٹی کے زیرنگرانی 10مختلف تھانوں کے ایس ایچ اوز، تین ڈی ایس پیز، اپنے فرائض سر انجام دے رہے تھے۔ گذشتہ روز اس حوالے سے ایس ایس پی نے  لاہور سیشن کورٹ کا دورہ کیا اور تمام تر سکیورٹی کے انتظامات کا جائزہ لیا۔ شیخوپورہ سے ہمارے نامہ نگار خصوصی کے مطابق ڈسٹرکٹ بار ایسوسی ایشن شیخوپورہ کے سالانہ انتخابات میں سید ساجدالرحمن شاہ ایڈووکیٹ 423ریکارڈ ووٹ لیکر صدر منتخب ہوگئے ہیں جبکہ ان کے مدمقابل امیدوار شیخ عبدالکریم ایڈووکیٹ کو صرف 366ووٹ پڑے۔ شیخوپورہ بار کے الیکشن میں کل 1002میں سے850وکلاء نے اپنا ووٹ کاسٹ کیا انتخابی نتائج کے مطابق ملک فیصل مسعود خان 420ووٹ لیکر نائب صدر منتخب ہوئے انکا شمار سابق رکن پنجاب بار کونسل نصرالدین نیئر گروپ میں ہوتا ہے۔ ان کے مد مقابل امیدوار میاں ناصر علی کو 408ووٹ پڑے ہیں جنرل سیکرٹری کے عہدہ پر خان دائود احمد خان 441ووٹ لیکر کامیاب ہوگئے جن کے مد مقابل امیدوار میاں لیاقت علی کو 401ووٹ پڑے۔ قصور سے نامہ نگار کے مطابقڈسٹرکٹ بار ایسوسی ایشن قصورکے سالانہ انتخابات برائے سال2014ء میں محمد سلیم مہر صدر جبکہ انہی کے پینل کے امیدوار اسد علی چودھری جنرل سیکرٹری ہوگئے۔ تفصیلات کے مطابق  957 بار ممبران میں سے 827 ممبران نے اپنا حق رائے دہی استعمال کیا۔ چیئرمین الیکشن بورڈ محمد انور ہنجرا کے مطابق مہر محمد سلیم427ووٹ نائب صدر سلیم فرخ نے425 جنرل سیکرٹری اسد علی چودھری 464 ووٹ لیکر کامیاب قرار پائے جبکہ جوائنٹ سیکرٹری غلام مصطفی سبحانی 438 ووٹ فنانس سیکرٹری رانا جاوید 405اور لائبریری سیکرٹری عدنان اشرف 430 ووٹ حاصل کرکے کامیاب ہوئے ۔ حافظ آباد سے نمائندہ نوائے وقت کے مطابق ڈسٹرکٹ بار حافظ آباد کے سالانہ انتخابات میں چودھری عابد فیاض تارڑ صدر جبکہ ملک نزاکت علی پھلروان جنرل سیکرٹری منتخب ہو گئے۔ نومنتخب صدرعابد فیاض تارڑ نے251 انکے مد مقابل رانا محمد سلیم شاکر نے 227،جنرل سیکرٹری ملک نزاکت علی پھلروان نے 243اُنکے مد مقابل امان اللہ سندھو نے 235 ، نائب صدر ضیاء اللہ وڑائچ نے 246 انکے مد مقابل سہیل چٹھہ نے 222، جائنٹ سیکرٹری آصف زمان نے256اُنکے مد مقابل جاوید بھٹی نے218، فنانس سیکرٹری شفقات احمدنے240 اُنکے مد مقابل اعظم گجر نے 233 اور تیسری مرتبہ منتخب ہونے والے لائبریری سیکرٹری حاجی محمد عمران نے 251اور اُنکے مد مقابل علی حسن نے 214ووٹ حاصل کئے۔ نو منتخب عہدیداروں کو جسٹس لائرز، سینئر لائرز، پاکستان لائرز، ینگ سینئرلائرز، وزڈم لائرز فورم سمیت شیخ عطاء اللہ گروپ، تارڑ گروپ اور دیگر وکلاء گروپوں کی حمایت حاصل تھی۔کامیابی کے بعد عہدیداروں اور وکلاء کی بڑی تعداد نے ضلع کچہری سے ریلی نکالی جو فوارہ چوک،کچہری بازار، ڈاکخانہ روڈ، راجہ چوک سے ہوتی ہوئی اختتام پذیر ہوئی۔شرکاء ریلی نے ڈھول کی تھاپ پر بنگڑے ڈالے جبکہ شہریوں اور اُن کے حامیوں نے اُنہیں پھولوں کے ہار پہنائے اور گل پاشی بھی کی۔چیئرمین الیکشن بورڈ کے فرائض ملک منور لال خاں جبکہ دیگر ممبران محمد امین چٹھہ اور قاضی توقیر نے سر انجام دیئے۔ فیصل آباد کے نمائندہ خصوصی کے مطابق ڈسٹرکٹ بار کونسل کے الیکشن برائے سال 2014ء کے غیر حتمی نتائج کا اعلان کر دیا گیا۔ صدارت کی نشست تنویر الرحمن رندھاوا ایڈووکیٹ نے 971 ووٹ لے کر میدان مار لیا جبکہ ظفر الحق کموکا ایڈووکیٹ 820 ووٹ لے کر دوسرے نمبر پر رہے۔ نائب صدر کی نشست کیلئے عابد مقبول ایڈووکیٹ 946 ووٹ لیکر پہلے اور مظہر اقبال سندھو ایڈووکیٹ 775 ووٹ کے ساتھ دوسرے نمبر پر رہے۔ جنرل سیکرٹری کی نشست کیلئے اعجاز احمد واہلہ 721 ووٹ کے ساتھ پہلے‘ اظہر حنیف خاں 583 ووٹ لیکر دوسرے اور پرویز اقبال رامے ایڈووکیٹ 478 ووٹ کے ساتھ تیسرے نمبر پر رہے۔ فنانس سیکرٹری کی نشست کیلئے شمائلہ عبرین خٹک ایڈووکیٹ 1137 ووٹ لیکر پہلے اور میاں محمد افضال ضیاء 637 ووٹ کے ساتھ دوسرے نمبر رہے جبکہ جوائنٹ سیکرٹری کی نشست کیلئے سید زین العابدین 935 ووٹ لیکر پہلے‘ محمد کراساں خاں ایڈووکیٹ 678 ووٹ کے ساتھ دوسرے اور جبکہ عمران ملک ایڈووکیٹ 173 ووٹ کے ساتھ تیسرے نمبر پر رہے۔ ڈسٹرکٹ بار کونسل کے سالانہ الیکشن برائے سال 2014ء کیلئے ٹوٹل 2303 وکلا اپنا حق رائے دہی استعمال کرنے کا حق رکھتے تھے جن میں سے 1803 ووٹرز نے اپنے حق رائے دہی استعمال لیا جبکہ 500 ووٹرز نے اپنا ووٹ کاسٹ نہیں کیا۔ جیتنے والے امیدواروں کے حامیوں میں جوش و خروش دیکھنے میں مل رہا تھا۔ رزلٹ کا اعلان ہونے پر وکلا کی بڑی تعداد ڈانس اور بھنگڑے ڈالتی ہوئی میدان میں آگئی۔ ڈسٹرکٹ بار کونسل ایسوسی ایشن کے سالانہ الیکشن برائے سال 2014ء کے نتائج کے موقع پر جیتنے والے امیدواروں کے حامیوں نے زبردست ہوائی فائرنگ کی اور کھلے عام اسلحہ کااستعمال کیا۔ تفصیلات کے مطابق ڈسٹرکٹ بار کونسل ایسو سی ایشن کے سالانہ الیکشن برائے سال 2014ء کے نتائج کااعلان ہونے پرجیتنے والے امیدواروں کے حامیوں نے زبردست ہوائی فائرنگ کی اور کھلے عام اسلحہ کی نمائش کرتے رہے۔ قانون کاسبق سکھانے والے وکلاء خود قانون بھول کرناجائز اسلحہ کا کھلے عام استعمال کرتے ہوئے دکھائی دے رہے تھے جبکہ موقع پر موجود پولیس اہلکار وکلاء کے آگے بے بس نظر آرہے ہیں۔ بعدازاں فئارنگ کرنے والے وکلا کے خلاف تھانہ کوتوالی میں پولیس نے مقدمہ درج کر لیا۔ راولپنڈی بار انتخابات میں راجہ ناصر 1039ووٹ لے کر صدر منتخب ہو گئے۔ جنید اختر 650ووٹ لے کر جنرل سیکرٹری منتخب ہوئے ہیں۔ راجہ ناصر کو مسلم لیگ ق اور پیپلزپارٹی کی حمایت حاصل تھی۔