پاکستان اور افغانستان کو دہشت گردوں سے مل کر نمٹنا ہو گا : کرزئی ‘ نوازشریف سے ٹیلیفونک رابطہ‘ سہ فریقی مذاکرات جاری رکھنے پر اتفاق

پاکستان اور افغانستان کو دہشت گردوں سے مل کر نمٹنا ہو گا : کرزئی ‘ نوازشریف سے ٹیلیفونک رابطہ‘ سہ فریقی مذاکرات جاری رکھنے پر اتفاق

کابل (آن لائن+ آئی این پی+ اے این این) پاکستان اور افغانستان نے دوطرفہ اور سہ ملکی سطح پر دوطرفہ تعلقات کے فروغ اور اس حوالہ سے بات چیت جاری رکھنے پر اتفاق کیا، افغان صدر نے ہنگو میں بہادری کا مظاہرہ کرتے ہوئے خودکش حملہ ناکام بنانے والے اعتزاز حسین کی شہادت کے واقعہ پر دلی افسوس کا اظہار کیا اور اس کی بہادری کو سراہتے ہوئے کہا کہ دونوں ملکوں کو مل کر ہی دہشت گردی کا مقابلہ کرنا ہو گا۔ ذرائع کے مطابق افغان صدر حامد کرزئی اور وزیراعظم نواز شریف کے درمیان ہفتہ کو ٹیلی فونک رابطہ ہوا جس میں دونوں رہنماﺅں نے دوطرفہ تعلقات اور باہمی دلچسپی کے امور پر تبادلہ خیال کیا۔ اطلاعات کے مطابق دونوں رہنماﺅں کے درمیان ٹیلی فونک رابطے کے دوران دوطرفہ تعلقات زیر بحث لائے گئے، اس کے ساتھ ساتھ افغانستان‘ پاکستان اور ترکی کے درمیان سہ فریقی بات چیت جاری رکھنے کی ضرورت پر زور دیا گیا۔ دونوں رہنماﺅں نے مستقبل میں یہ بات چیت انقرہ میں کرانے پر اتفاق کیا۔ دریں اثناءصدارتی محل سے جاری ہونے والے ایک بیان میں افغان صدر حامد کرزئی نے کہا کہ دہشت گرد د ونوں ملکوں کی سرحدوں پر موجود ہیں جو افغان اور پاکستانی عوام کے لئے خطرہ ہیں ان سے مل کر ہی نمٹنا ہو گا۔ انہوں نے افغان پولیس افسر جان علی کی خدمات کو بھی سراہا جس نے ساتھیوں کی جان بچاتے ہوئے خودکش حملہ ناکام بنایا اور اپنی جان دیدی۔ افغان خبررساں ادارے کے مطابق وزیراعظم نواز شریف اور افغان صدر حامد کرزئی کے درمیان ہونے والی ٹیلیفونک گفتگو میں باہمی دلچسپی‘ پاکستان افغانستان دوطرفہ تعلقات‘ پاکستان اور افغانستان کے علاوہ ترکی افغانستان اور پاکستان کے درمیان سہ ملکی مذاکرات‘ خطے کی صورتحال اور افغانستان سے اتحادی افواج کے انخلا کے بعد کے تناظر سمیت مختلف امور پر تبادلہ خیال کیا گیا۔ دونوں رہنما¶ں نے اتفاق کیا کہ اپنی سرزمین ایک دوسرے کے ملکوں کیخلاف استعمال نہیں ہونے دی جائیگی۔ آئی این پی کے مطابق صدارتی محل کے بیان کے مطابق افغان صدر حامد کرزئی نے ہنگو میں خود کش حملہ آور کو سکول میں داخل ہونے کی کوشش سے روکنے کے دوران شہید ہونے والے طالب علم اعتزاز حسین کو اس کی بہادری پر خراج عقیدت پیش کرتے ہوئے کہا کہ دہشت گردی پاکستان اور افغانستان کے عوام کے لئے سب سے بڑا خطرہ ہے، اس کے خاتمے کے لئے مشترکہ کوششوں کی ضرورت ہے۔ صدارتی محل سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ 17 سالہ طالب علم اعتزاز حسین نے بہادری کا کارنامہ سر انجام دے کر دیگر ساتھیوں کو دہشت گردی سے بچا لیا اس پر وہ خراج عقیدت کے مستحق ہیں۔ سرحد کے دونوں اطراف دہشت گرد پاکستان اور افغانستان کے عوام کو ترقی اور اپنی زندگیوں کو خوشحال بنانے سے روکنے کے لئے نظریں گاڑھے ہوئے ہیں تاہم ہمیں ان کی کوششوں کو ناکام بنانے کی ضرورت ہے اس سلسلے میں پاکستان اور افغانستان کو مل کر جدوجہد کرنا ہو گی۔دریں اثناءسعودی وزیر خارجہ سعود الفیصل سے فون پر گفتگو کرتے ہوئے حامد کرزئی نے کہا کہ خطے میں امن کیلئے کوششیں جاری رکھے ہوئے ہیں تاہم طالبان کی جانب سے مثبت ردعمل کا انتظار ہے، پاکستان اور سعودی عرب امن عمل میں افغانستان کی مدد کریں۔ سعودی عرب، افغانستان میں قیام امن کے عمل میں مثبت کردار ادا کرے، ساتھ ہی ساتھ اپنے دوست ملک پاکستان کو بھی درخواست کرے کہ وہ خطے اور خصوصاً افغانستان میں امن عمل کے کردار میں خصوصی تعاون کرے تاکہ دہشت گردی کی لعنت سے چھٹکارا حاصل کیا جا سکے۔ انہوں نے کہا کہ ان کی حکومت کی ہمیشہ سے خواہش رہی ہے کہ طالبان سے مذاکرات کئے جائیں اور امن و امان قائم کیا جائے، افغانستان اور طالبان کے درمیان مذاکرات کے کئی دور ہوچکے ہیں، ہمیں افغان طالبان کی جانب سے مثبت ردعمل کا انتظار ہے اور رہے گا۔
کابل (آن لائن + اے این این + نوائے وقت نیوز) افغان حکومت اور طالبان کے درمیان پھر خفیہ رابطے کا انکشاف ہوا ہے۔ دو افغان وزیروں نے عرب ملک میں طالبان نمائندوں سے ملاقات کی۔ اطلاعات کے مطابق طالبان نے سوویت افواج کی واپسی کی طرز پر نیٹو انخلا کیلئے بالواسطہ ثالثی کی حامی بھر لی ہے۔ تحریک طالبان اور انکی مخالف تنظیمیں اتحادی فوج کے انخلا کے بعد آپس میں لڑائی کی تیاری کر رہی ہیں۔ دوسری جانب مشیر خارجہ سرتاج عزیز نے کہا ہے کہ طالبان کرزئی حکومت کے ساتھ مذاکرات میں دلچسپی نہیں رکھتے، سکیورٹی معاہدے کے تنازعہ کو ڈرامہ خیال کرتے ہیں۔ امریکی خبر رساں ادارے کی رپورٹ کے مطابق ایک طالبان رہنما کا کہنا ہے کہ افغان حکومت کے دو وزیروں نے ایک عرب ملک میں طالبان کے نمائندوں سے ملاقات کی تاہم تجزیہ کار اور خود طالبان رہنما مذاکرات کی کامیابی سے پرامید نظر نہیں آتے۔ طالبان رہنما کا کہنا ہے جس طرح 1989ء میں افغانستان سے سوویت افواج کی واپسی کا عمل ہوا تھا طالبان اسی طرز پر بالواسطہ ثالثی قبول کرنے کے لئے تیار ہیں۔ طالبان رہنما کا کہنا ہے کہ تحریک طالبان اور ان کی مخالف تنظیمیں اتحادی فوج کے انخلا کے بعد آپس میں لڑائی کی تیاری کر رہی ہیں۔ طالبان کی قیادت بات چیت کیلئے تیار ہے لیکن میدان جنگ میں موجود اس کے زیادہ تر کمانڈر مذاکرات کے مخالف ہیں۔ خاص طور پر نئی نسل کے کمانڈروں کو اعتماد ہے کہ وہ دوبارہ پورے افغانستان پر کنٹرول حاصل کرلیں گے۔ دوسری جانب قومی سلامتی کے مشیر سرتاج عزیز کا کہنا ہے کہ طالبان کرزئی حکومت کے ساتھ بات چیت میں دلچسپی نہیں رکھتے۔ طالبان سمجھتے ہیں کہ کرزئی اور امریکہ کے درمیان سکیورٹی معاہدے پر دستخط کا معاملہ صرف ایک ڈرامہ ہے، صدر کرزئی معاہدے پر دستخط کر دیں گے۔