قاسم ضیاء کی بیٹی نے گاڑی سے ایلیٹ فورس اہلکار کو ٹکر مار دی، گرفتار، ضمانت پر رہا

قاسم ضیاء کی بیٹی نے گاڑی سے ایلیٹ فورس  اہلکار کو ٹکر مار دی، گرفتار، ضمانت پر رہا

لاہور (سٹاف رپورٹر+ نیوز ایجنسیاں) ماڈل ٹائون میں وزیراعلیٰ کی رہائش کے قریب پیپلز پارٹی کے رہنما قاسم ضیاء کی بیٹی کی گاڑی کی ٹکر سے ایلیٹ فورس کا اہلکار شدید زخمی ہو گیا۔ پولیس نے مقدمہ درج کرکے گاڑی کی ڈرائیور انعم ضیاء کو گرفتار کر لیا۔ ضمانت پر چند گھنٹے بعد رہا کر دیا گیا جبکہ شدید زخمی ہونیوالے اہلکار اشفاق حیدر کو پرائیویٹ ہسپتال میں داخل کروا دیا گیا۔ پولیس کے مطابق ماڈل ٹائون پولیس کی جانب سے ناکہ لگایا گیا اور چیکنگ کا سلسلہ جاری تھا کہ اسی دوران گاڑی نمبر 1383 میں سوار انعم ضیاء کو رکنے کا اشارہ کیا گیا۔ اشفاق حیدر نے آگے بڑھ کر گاڑی کو روکنے کی کوشش کی تیز رفتاری کے باعث انعم ضیاء گاڑی کو روک نہیں سکی اور گاڑی کی ٹکر سے حیدر شدید زخمی ہو گیا جبکہ گاڑی کو بیک کرنے کے دوران گاڑی ایلیٹ فورس کی گاڑی سے جا لگی ناکے پر موجود اہلکاروںنے کار سوار خاتون کو حراست میں لیکرماڈل ٹائون تھانے کے حوالات میں بند کر دیا اور ملزمہ انعم ضیاء کے خلاف تیز رفتاری سے گاڑی چلانے کا مقدمہ درج کر لیا۔ ملزمہ کو 5گھنٹے تھانے کی حوالات میں رکھا گیا۔ انعم ضیاء کا کہنا ہے کہ وہ سہیلی کے گھرجا رہی تھی، ماڈل ٹائون میں وزیراعلیٰ ہائوس کے قریب گاڑی ریورس کرتے ہوئے پولیس اہلکارگاڑی کی زدمیں آ کر زخمی ہو گیا۔ ڈرائیونگ لائسنس پولیس کو دیدیا۔اطلاع ملتے ہی قاسم ضیاء اور دیگر بھی تھانے پہنچ گئے اور کاغذی کارروائی مکمل ہونے پر انعم ضیاء کو ضمانت پر رہا کر دیا گیا۔ اس موقع پرگفتگو کرتے ہوئے قاسم ضیاء نے کہا کہ کوئی بھی حادثہ جان بوجھ کر نہیں کرتا۔ حادثے میں جو اہلکار زخمی ہوا اس کی حالت خطرے سے باہر ہے۔ علاوہ ازیں بتایا گیا ہے کہ حادثے کا سبب بننے والی گاڑی پی ایچ ایف کی ملکیت ہے جس پرسیکرٹری پی ایچ ایف مجاہد رانا نے کہا ہے کہ سابق صدر ہاکی فیڈریشن قاسم ضیاء کا فیڈریشن کی گاڑی استعمال کرنا غیرقانونی نہیں ہے۔ انہوںنے بتایا کہ قاسم ضیاء نے گاڑی جنوری کے دوسرے ہفتے میں فیڈریشن کو واپس کرنا تھی۔