پارلیمنٹ کا مشترکہ اجلاس‘ 6 میں سے ساڑھے پانچ مطالبات مان لئے‘ دھرنے والے اب ملک کی جان چھوڑ دیں: اسحاق ڈار

پارلیمنٹ کا مشترکہ اجلاس‘  6 میں سے ساڑھے پانچ مطالبات مان لئے‘ دھرنے والے اب ملک کی جان چھوڑ دیں: اسحاق ڈار

اسلام آباد (خبر نگار+نیوز ایجنسیاں) وفاقی وزیر خزانہ سنیٹر اسحاق ڈار نے کہا ہے کہ چھ میں سے ساڑھے پانچ مطالبات مان لئے، وزیر اعظم کے استعفیٰ پر کسی قسم کا سمجھوتہ نہیں کیا جائیگا، تفتیشی ٹیم کے نتائج میں وزیر اعلیٰ سانحہ ماڈل ٹائون کے قصوروار ہوئے تو مستعفی ہو جائینگے تمام معاملات کو افہام و تفہیم کے ذریعے حل کر نا چاہتے ہیں، دھرنے والے ملک کی جان چھوڑ دیں اور معیشت کو مزید نقصان نہ پہنچائیں جبکہ وفاقی وزیر ریلوے خواجہ سعد رفیق نے کہا ہے کہ پی ٹی وی اور پارلیمنٹ پر حملہ آئین پر حملہ ہے۔ عمران اور طاہرالقادری کے خلاف آرٹیکل 6 کے تحت کارروائی ہو سکتی ہے۔ ملک نعشوں کا متحمل نہیں ہو سکتا۔ بدھ کو پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے وفاقی وزیر خزانہ اسحاق ڈار نے کہا کہ تحریک انصاف کے چھ مطالبات تھے ان میں سے ساڑھے پانچ مطالبات منظور کئے گئے۔ 30 اگست کو انہوں نے تحریری مطالبات پیش کئے ہم نے وزیراعظم کے استعفیٰ پر کسی قسم کا سمجھوتہ نہ کرنے کا پیغام دیا، ان کا یہ غیر آئینی مطالبہ تھا، پہلی میٹنگ کے بعد چار ستمبر کو اس کا جواب تیار کیا اور پانچ ستمبر کو پی ٹی آئی کو فراہم کردیا ہم اس معاملے کو پرامن طریقے سے حل کرنا چاہتے تھے۔ تین بیرونی ممالک کے سربراہوں نے پاکستان کے دورے کینسل کر دیئے، ان دھرنوں سے ملک کو معاشی نقصان سے دوچار ہونا پڑا۔ ہم نے انتخابی اصلاحات پر کام کا آغاز کر دیا، کمیٹی کی سفارشات پر عملدرآمد ہو گا۔ جوڈیشل کمشن میں سے دس میں سے ان کے آٹھ مطالبات قبول کر لئے، 14صفحوں کے نکات کی ایک ایک شق پر اتفاق ہوچکا ہے وہ ان تحقیقات کیلئے ٹائم پیریڈ کے خواہاں تھے، اتنے حلقوں کی انکوائری پر وقت درکار ہوگا، جوڈیشل کمشن  2013ء کے انتخابات میں مجوزہ دھاندلی کی رپورٹ پیش کریگا، وزیراعظم کی زیر صدارت اس حوالے سے صبح کے وقت اجلاس ہوا جس میں تمام جماعتوں کے پارلیمانی رہنمائوں نے شرکت کی، ان کو ناکامی کا سامنا کرنا پڑیگا ، سمری پروسیجر کو ہم نے قبول نہیں کیا، تیس حلقوں کی انکوائری کے نتائج کا باقی حلقوں پر کیا قصور ہوگا ؟ عوامی تحریک کی مرضی کے مطابق ایف آئی آر درج ہوچکی ہے، تفتیشی ٹیم پر عدم اعتماد کا اظہار کیا جارہا ہے، نیشنل ریفارمز کونسل کا مطالبہ فوری طور پر قبول نہیں کیا جاسکتا۔ وزیر خزانہ اسحاق ڈار نے بتایا کہ حکومت نے چیلنج کے طور پر اسے قبول کیا ہے۔انہوں نے بتایا کہ پی ٹی آئی کو ایک اور ٹی او آر بھجوایا ہے اور فوری کارروائی (سمری پروسیجر)کے مطالبے سے پی ٹی آئی دستبردار ہوگئی ہے۔  وفاقی وزیر ریلوے خواجہ سعد رفیق نے کہا کہ تحریک انصاف اور عوامی تحریک کے دھرنوں سے پوری دنیا میں ہماری جگ ہنسائی ہو رہی ہے، پوری پارلیمنٹ کا میڈیا ٹرائل کیا جا رہا ہے، عمران خان اتنے آگے نہ جائیں کہ سیاست سے ہی آئوٹ ہو جائیں، پارلیمنٹ پر حملہ کو نظر انداز نہیں کیا جائے گا، عمران خان آئین اور پارلیمنٹ کی روایات سے واقف  ہیں، ملک خون خرابے اور لاشیں اٹھانے کا متحمل نہیں ہو سکتا، تبدیلی ڈنڈے سے نہیں لائی جا سکتی۔  خواجہ سعد رفیق نے کہا کہ مسلسل دو ماہ سے ملک میں نفرت کی ایک ایسی لہر پھیلائی گئی ہے جس نے  اس ایوان کے اندر اور باہر سیاسی کارکنوں کی زندگیاں خطرے میں ڈال دی ہیں، ایک ایسا شخص  جس نے اڑھائی دن جیل کاٹی اور ایک دن بھوک کاٹی اور وہ اپنے گریبان میں جھانکے بغیر اس ایوان کے ایک ایک رکن کے لئے بازاری زبان استعمال کر رہا  ہیں۔ انہوں نے کہا کہ طاہر القادری نے تو کینیڈا سے ہی امام انقلاب بننے کا عندیہ ظاہر کر دیا تھا حالانکہ انہیں انقلاب کی الف ب بھی پتہ نہیں ہے، دونوں شخصیات نے دارالحکومت میں میلہ لگا رکھا ہے جس سے پوری  دنیا میں ہماری جگ ہنسائی ہو رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ ایشوز پر سیاست کرنے پر کوئی اعتراض نہیں ہے، مگر عمران خان اور طاہر القادری نے نفرتوں کے جو بیج بو دیئے ہیں اس کی فصل مدتوں تک ہمیں کاٹنی ہو گی، باہر سیاست نہیں بدکلامی ہو رہی ہے، ہم میں سے کوئی بھی لاوارث نہیں ہے، ہم نے بھی لاکھوں ووٹ لے رکھے ہیں، حکومت نے ذمہ داری کا مظاہرہ کیا اور دھرنے داروں نے غیر ذمہ داری کا مظاہرہ کیا۔ وفاقی وزیر نے کہاکہ پوری قوم نے اصولوں کا ساتھ دیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ عمران خان کو چینی صدر کے حوالے سے خطاب پر شرمندگی اٹھانا پڑی،  جن کے خلاف تبدیلی آنی چاہیے وہ سارے عمران خان کے ساتھ کھڑے ہیں۔ ان کے اپنے بچے لندن میں غیروں کے پاس پل رہے ہیں، ایک کے بچے لاہور میں بیٹھے ہیں، دوسروں کے بچوں کو مروانا چاہتے ہیں،  پاکستان پیپلزپارٹی کے سینیٹر ڈاکٹر عبدالقیوم سومرو نے کہا کہ پیپلزپارٹی کسی کے اشارے پر موجودہ حکومت اور نظام کا ساتھ نہیں دے رہی، ہم مفاہمت کی سیاست پر یقین رکھتے ہیں، عمران خان کو کسی کے خلاف غلط زبان استعمال نہیں کرنی چاہیے، انہیں مفاہمت کی سیاست سیکھنی چاہیے۔ ہمارا کسی پر احسان نہیں ہے بلکہ ہم تاریخی کردار ادا کر رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ پارلیمنٹ جمہوریت اور آئین نامساعد حالات سے گزر رہے ہیں۔ ملک کے خلاف سازشوں کا تسلسل محترمہ بے نطیر بھٹو کی شہادت سے اب تک چلا آ رہا ہے ملک دشمن عناصر پاکستان کو نقصان پہنچانا چاہتے ہیں  ، ہم کسی کی سازش کو کامیاب نہیں ہونے دیں گے، حکومت اور اپوزیشن مل کر مفاہمت کی سیاست کو آگے بڑھائے گی ہم ایک نظریئے کے تحت ایک ہو گئے ہیں، اسی پر کاربند رہیں گے۔ انہوں نے کہا کہ عمران خان کہتے ہیں کہ انہوں نے یورپ سے جمہوریت قوانین کا احترام سیکھا ہے، کاش کہ وہ وہاں سے تھوڑا اخلاق بھی سیکھ لیتے۔ بعدازاں ایم کیو ایم نے پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس میں وزیر اعظم کی مکمل حمایت کا اعلان کر دیا اور کہا کہ وزیر اعظم کو مستعفی نہیں ہونا چاہیے ۔ان خیالات کا اظہار ایم کیو ایم کے سینٹ میں پارلیمانی لیڈر کرنل(ر) طاہر حسین مشہدی نے خطاب میں کیا۔ انہوں نے کہا کہ جمہوریت میں تھرڈ امپائر کا تصور نہیں ہے۔ ملک میں بلدیاتی انتخابات کا حکومت فورا اعلان کرے۔ پارلیمنٹ کو کمزور کرنے والوں کو تاریخ کبھی معاف نہیں کرے گی۔ ملک میں بجلی بحران کے خاتمہ میں سیاسی جماعتوں کوکردار ادا کرنا چاہیے۔ عوام کے حقوق کا ہر  پلیٹ فارم پر دفاع کریں گے۔  دھرنے کو ختم کریں اور غریب عوام کو ریلیف دیں۔ ملک کو غیر مستحکم کرنے کی کسی سازش کا ایم کیو ایم حصہ نہیں بنے گی۔ان کا کہنا تھا کہ وزیر اعظم کو اپنی مدت آئین کے مطابق مکمل کرنی چاہیے ۔جمہوریت میں تھرڈ امپائر کا تصور نہیں ہے۔ وزیر اعظم سے استعفی کا مطالبہ غیر آئینی ہے۔ ہمیں عوام کے مسائل پر بھی بحث کرنی چاہیے۔ احتجاج اپوزیشن کا حق ہے مگر آئین کے دائرہ کار کی حدود میں ہونا چاہیے۔علاوہ ازیں اجلاس میں کراچی ڈاک یارڈ پر ہونے والے دہشت گردی کے حملے میں شہید ہو نے والے نیوی کے افسر کی روح کے ایصال ثواب کیلئے فاتحہ خوانی کی گئی۔ سپیکر قومی اسمبلی سردار ایاز صادق نے کہا کہ انتخابی اصلاحات پارلیمنٹ کا حصہ ہیں۔ مشترکہ اجلاس میں دونوں ایوانوں میں اتفاق رائے سے منظوری کے بعد پارلیمنٹ انتخابی اصلاحاتی کمیٹی کو حتمی شکل دیں گے۔ قبل ازیں جہانگیر بدر نے سیشن سے خطاب میں انتخابی اصلاحات کمیٹی کے حوالے سے کہا کہ دھرنا دینے والوں کا مطالبہ یہ کمیٹی نہیں بننا چاہئے یہ بلیک میل کرتے ہیں۔ تمام آئینی مطالبات پارلیمنٹ میں زیر بحث لائیں۔ علاوہ ازیں پشاور یونیورسٹی کے شعبہ پولیٹیکل سائنس کے پاکستان اور افغانستان سے تعلق رکھنے والے طلباء و طالبات کے وفد نے اپنی فیکلٹی کے ہمراہ پارلیمنٹ ہاؤس کا دورہ کیا اور پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس کی کارروائی بھی دیکھی۔ پیپلز پارٹی کی خاتون رکن قومی اسمبلی شازیہ مری نے عمران خان کے کنٹینر پر شدید اعتراض کرتے ہوئے کہا ہے کہ اگر عمران خان کو عوام کے مسائل کا اتنا ہی غم ہے تو وہ لگژری کنٹینر میں رہنے کی بجائے دھرنے میں منجی (چارپائی) لگائیں، اس سے دھرنا میں شریک لوگوں کو اپنے لیڈر کی سنجیدگی کا احساس ہو گا۔ انہوں نے کہا کہ یوٹیوب کی بندش سے تحقیق کاروں اور طالب علموں کو شدید مشکلات کا سامنا ہے، یوٹیوب فوری کھولی جائے۔ مشترکہ اجلاس میں اس وقت دلچسپ صورتحال پیدا ہوئی جب شازیہ مری کی طویل تقریر کے بعد وزیر مملکت برائے پارلیمانی امور شیخ آفتاب احمد نے نکتہ اعتراض پر سپیکر سردار ایاز صادق سے کہا کہ مجھے اس ایوان میں بیڈ لگانے کی اجازت دے دیں۔ اس پر سپیکر نے کہا کہ بیڈ لگانے کے حوالے سے مجھے رولز دیکھنے پڑیں گے کہ کیا میں اجازت دے سکتا ہوں۔ اس پر ایوان قہقہوں سے گونج اٹھا۔