پارلیمانی قائدین کا اجلاس‘ تحریک انصاف‘ عوامی تحریک سے مذاکرات کے جائزہ کیلئے 5 رکنی کمیٹی قائم

پارلیمانی قائدین کا اجلاس‘ تحریک انصاف‘ عوامی تحریک سے مذاکرات کے جائزہ کیلئے 5 رکنی کمیٹی قائم

اسلام آباد (وقائع نگار خصوصی) پارلیمانی جماعتوں کی قیادت نے ایک بار پھر وزیراعظم  محمد نواز شریف پر زور دیا ہے  کہ وہ استعفیٰ دینے کا غیر آئینی مطالبہ تسلیم کریں نہ ہی آئین اور قانون سے متصادم  کسی مطالبہ پر غور کریں یہ باب اب بند ہونا چاہئے۔ پوری پارلیمنٹ ان کے ساتھ ہے آئین اور پارلیمنٹ کی بالادستی پر کمپرومائز نہیں کیا جائے گا تاہم  حکومت پر زور دیا کہ وہ عوامی تحریک اور تحریک انصاف کے ساتھ  مذاکراتی عمل کو جاری رکھے دونوں جماعتوں کو مذاکرات کے میز پر بٹھائے رکھے۔  انہوں اس بات بھی زور دیا کہ دھرنے کے شرکاء کی واپسی اور شاہراہ دستور پر ان کا قبضہ ختم کرانے کے لئے موثر اقدامات کریں انہوں نے یہ بات پارلیمانی پارٹیوں کے  اجلاس  سے خطاب کرتے ہوئے کہی۔ اجلاس میں  قومی اسمبلی میں قائد  حزب اختلاف سید خورشید شاہ‘ سینٹ میں قائد حزب اختلاف چودھری اعتزاز احسن‘  سینٹ میں پیپلز پارٹی کے  پارلیمانی لیڈر سینیٹر رضا ربانی‘ قومی وطن پارٹی کے سربراہ آفتاب احمد خان شیرپائو‘ پختونخوا ملی عوامی پارٹی کے سربراہ محمود خان اچکزئی‘ جمعیت علمائے اسلام (ف) کے سربراہ مولانا فضل الرحمن‘ مسلم لیگ (ضیائ) کے سربراہ اعجاز الحق‘ ایم کیو ایم کے پارلیمانی  لیڈر  فاروق ستار‘ فاٹا کے پارلیمانی لیڈر غازی گلاب جمال‘ نیشنل پارٹی کے سربراہ  سینیٹر میر حاصل بزنجو‘ اے این پی کے حاجی غلام احمد بلور‘ مسلم لیگ (فنکشنل) کے  پیر صدر الدین راشدی کے علاوہ وفاقی وزراء اسحاق ڈار‘ خواجہ سعد رفیق‘ زاہد حامد اور عباس آفریدی  نے شرکت کی۔ اجلاس میں  شاہراہ دستور پر دو جماعتوں کے دھرنے سے پیدا ہونے والی صورت حال، پنجاب میں سیلاب کی تباہ کاریوں اور ملکی سیاسی  حالات پر غور کیا گیا۔ سیلاب کی صورت حال کے پیش نظر پارلیمنٹ کا اجلاس ایک ہفتے کے لئے ملتوی کرنے کی تجویز پیش کی گئی جسے وزیر اعظم محمد نوازشریف  نے منظور کر لیا۔  وزیر اعظم محمد نواز شریف نے کہا کہ حکومت نے دھرنے کے شرکاء کو منتشر کرنے کے لئے روز اول سے طاقت استعمال نہ کرنے کا فیصلہ کیا ہے حکومت صبر و تحمل  سے کام لے رہی ہے لیکن  شاہراہ دستور پر   ہر روز  پارلیمنٹ کا مذاق اڑایا جاتا ہے  قومی رہنمائوں کی منظم کردار کشی کی جا رہی ہے‘ حکومت  اشتعال انگیزی کے باوجود صبر و تحمل سے کام لے رہی ہے سیاسی تنازعات کو سیاسی انداز میں مذاکرات کی میز پر طے کرنا چاہتی ہے  حکومت نے  ریڈ زون پر یلغار کو بردباری اور تحمل سے نمٹا ہے اس کی مثال ملکی سیاسی تاریخ میں  نہیں ملتی   حکومت پارلیمنٹ کے فیصلوں  کی پابند ہے‘ کسی غیر آئینی اور غیر قانونی اقدام کو پہلے  تسلیم کیا نہ ہی آئندہ تسلیم کریں گے انہوں نے اس بات کا عندیہ دیا کہ  آئین اور قانون کی حدود میں رہتے ہوئے دھرنا دینے والوں کا ہر مطالبہ تسلیم کیا جائے گا وزیراعظم نواز شریف نے کہا کہ سیلاب  سے ہزاروں افراد متاثر ہوئے ہیں  لیکن  اس موقع پر بھی سیلاب سے متاثرہ افراد کی مدد کرنے کی بجائے  سیاست چمکانے میں مصروف  ہیں۔ پارلیمانی جماعتوں کے رہنمائوں نے وزیراعظم محمد نواز شریف سے  مطالبہ کیا کہ شاہراہ دستور میں  خیمہ بستی  فی الفور ختم کی جائے۔ مولانا فضل الرحمن‘ محمود اچکزئی‘ آفتاب شیرپائو اور دیگر رہنمائوں نے کہا کہ  دھرنوں کے نام  پر رات کے وقت گانے بجانے کی محفل سجائی جاتی ہے قومی  قیادت اور  پارلیمنٹ کی تضحیک  کی جارہی ہے  یہ صورت حال   نا قابل برداشت ہے۔  مولانا فضل الرحمن نے کہا کہ وہ لاکھوں لوگوں کو اسلام آباد اکٹھے ہونے کی کال دے سکتے ہیں   لیکن حکومت کی مجبوریوں کو پیش نظر رکھ ایسا نہیں کیا۔ تمام پارلیمانی رہنمائوں نے  متفقہ طور پر کہا کہ  پارلیمنٹ کسی  غیر آئینی  مطالبہ کے سامنے سرنڈر نہیں کرے گی۔ پارلیمانی رہنمائوں نے صبر و تحمل  کا مظاہرہ کرنے پر حکومت  کی تعریف کی۔ اجلاس میں کہا گیا کہ دھرنوں سے پیدا ہونے والی  صورتحال  ناقابل  برداشت  ہے حکومت  کو جلد اقدامات کرنے چاہئیں  قائدین  نے متفقہ طور پر وزیراعظم سے کہا کہ ان کا استعفیٰ  مانگنے کا باب اب ختم ہو جانا چاہیے  اس غیر آئینی مطالبہ  کو کسی صورت زیر غور نہ لایا جائے۔ آئی این پی کے مطابق مسلم لیگ (ن)  اس کی اتحادی جماعتوں اور اپوزیشن کے پارلیمانی لیڈروں نے عوامی تحریک اور تحریک انصاف کے ساتھ مذاکرات کے قانونی اور آئینی پہلوئوں کا جائزہ لینے کے لئے 5 رکنی کمیٹی تشکیل دیدی اور تحریک انصاف کی طرف سے انتخابات میں مبینہ دھاندلی کی تحقیقات کیلئے  سپریم کورٹ کے جوڈیشل کمشن کے قیام  اور تحقیقات کے  طریقہ کار  کیلئے دی گئی تجاویز کو ناقابل عمل قرار دیدیا‘ اسحق ڈار پارلیمانی جماعتوں کے اس متفقہ موقف سے تحریری طور پر  تحریک انصاف کو  آگاہ کر دیں گے۔ وزیر خزانہ اسحاق ڈار اور وفاقی وزیر زاہد حامد نے دھرنا دینے والی دونوں جماعتوں سے ہونے والے مذاکرات کی تفصیلات سے آگاہ کیا۔  ذرائع کے مطابق وزیر خزانہ نے بتایا کہ تحریک انصاف اس بات پر زور دے رہی ہے کہ سپریم کورٹ کے کمشن  کی نگرانی کے لئے اعلیٰ اختیاراتی کونسل قائم کی جائے جس کی آئین و قانون قطعاً اجازت نہیں دیتا وہ یہ بھی پابندی لگانا چاہ رہے ہیں کہ ایک ماہ کے اندر عدالتی کمشن اپنی رپورٹ مکمل کرے اور تیس نشستوں پر اگر دھاندلی  ثابت ہو جائے تو تمام انتخابات کالعدم قرار دیدیئے جائیں۔ اعتزاز احسن اور رضا ربانی نے یہ رائے دی کہ جوڈیشل کمشن کیلئے ٹرمز آف ریفرنس کے لئے تحریک انصاف کی تجاویز ناقابل قبول ہیں آئین اور قانون ایسی تجاویز پر عمل درآمد کرنے کی اجازت نہیں دیتا۔ سپریم کورٹ کے کمیشن کی نگرانی  کیلئے کونسل قائم نہیں کی جاسکتی  تحریک انصاف کی ایسی تجویز عدلیہ بھی کسی صورت قبول نہیں کرے گی۔ وفاقی وزراء نے شرکاء کو بتایا کہ تحریک انصاف کے پانچ مطالبات آئین و قانون کے مطابق تسلیم کرنے کیلئے تیار ہیں لیکن وزیراعظم کے مستعفی ہونے یا چھٹی پر جانے کا ان کا مطالبہ کسی صورت قبول نہیں کیا جائے گا اس نکتے پر تحریک انصاف سے کسی قسم کی کوئی بات چیت نہیں ہو سکتی۔  مولانا فضل الرحمن اور محمود خان اچکزئی نے تجویز دی کہ دھرنے کو ختم کرانے کیلئے سخت رویہ اختیار کرنے کی ضرورت ہے یہ پارلیمنٹ سے باہر بیٹھ کر روزانہ پارلیمنٹ کو گالیاں دیتے ہیں کس قانون کے تحت ان کے کارکن ناکے لگا کر گاڑیاں چیک کر رہے ہیں دیگر جماعتوں کے رہنمائوں نے وزیراعظم کو تجویز دی کہ حکومت کو چاہئے کہ  مذاکرات کا عمل جاری رکھا جائے اور صبر و تحمل کا مظاہرہ کیا جائے ایسا سخت رویہ نہ اختیار کیا جائے جس سے معاملات بگڑنے کا خدشہ ہو۔  قانونی اور آئینی پہلوئوں کا جائزہ لینے کے لئے پانچ رکنی کمیٹی قائم کی گئی جس میں وزیر خزانہ اسحاق ڈار‘ وفاقی وزیر سائنس و ٹیکنالوجی زاہد حامد‘ سینٹ میں قائد حزب اختلاف سینیٹر اعتزاز احسن‘ پیپلز پارٹی کے سینئر رہنما رضا ربانی اور  اٹارنی جنرل سلمان بٹ شامل ہیں۔  کمیٹی نے حکومت کی طرف سے تحریک انصاف کو تحریری جواب دینے کیلئے مسودہ تیار کر لیا ہے جو جلد تحریک انصاف کی مذاکراتی کمیٹی کے سپرد کر دیا جائے گا۔ اجلاس کے دوران سیلاب سے متاثرہ علاقوں میں امدادی سرگرمیاں تیز کرنے اور متاثرین سے اظہار یکجہتی کیلئے پارلیمنٹ کا مشترکہ اجلاس 17ستمبر تک ملتوی کر دیا گیا ہے۔ وزیراعظم نے وفاقی وزراء اور ارکان پارلیمنٹ کو اپنے اپنے علاقوں میں سیلاب متاثرین کی امداد کیلئے فوری طور پر دورے کرنے کی ہدایات جاری کر دیں‘ اپوزیشن جماعتوں کے ارکان بھی اس دوران اپنے  حلقوں میں جائیں گے۔ وزیراعظم نواز شریف نے شرکاء کو بتایا کہ وہ سیالکوٹ‘ حافظ آباد‘ گوجرانوالہ سمیت کئی علاقوں کا دورہ کر چکے ہیں‘ بارشوں اور سیلاب سے کافی نقصان ہوا ہے لوگوں کی مشکلات کم کرنے کیلئے فوری اقدامات کئے جا رہے ہیں۔