مٹی پائو والا تاثر ختم ہونا چاہئے‘ کیا یہ لوگ چاہتے ہیں کچھ بھی ہو حکومت ختم ہو جائے‘ دھرنوں سے دوسروں کے حقوق پامال نہ کریں: سپریم کورٹ

مٹی پائو والا تاثر ختم ہونا چاہئے‘ کیا یہ لوگ چاہتے ہیں کچھ بھی ہو حکومت ختم ہو جائے‘ دھرنوں سے دوسروں کے حقوق پامال نہ کریں: سپریم کورٹ

اسلام آباد (نمائندہ نوائے وقت+نوائے وقت رپورٹ +ایجنسیاں) ممکنہ ماورائے آئین اقدام روکنے سے متعلق کیس کی سماعت کے دوران اے این پی اور بی این پی کی جانب سے جواب جمع کرا دیا گیا۔ عدالت عظمیٰ نے عوامی نیشنل پارٹی اور بلوچستان نیشنل پارٹی کے وکیل رضا ربانی کی جانب سے اٹھائے گئے تین سوالات پر پاکستان تحریک انصاف اور عوامی تحریک سے تین دن میں جواب طلب کر لیا ہے۔ کیس کی سماعت ایک ہفتے کے لئے ملتوی کردی گئی ہے۔ دوران سماعت جسٹس ثاقب نثار نے کہا کہ اب مٹی پاؤ والا تاثر ختم ہو جانا چاہئے، اب چیزیں کارپٹ کے نیچے چھپ کر نہیں رہ سکتیںعدالت کا فرض ہے کہ وہ بنیادی حقوق کی فراہمی کو ممکن بنائے، جسٹس جواد ایس خواجہ نے کہا کہ سیاست میں مصلحت ہوتی ہے لیکن ہم نے آئین پاکستان کو دیکھنا ہے، سرکار کو اپنا اور عدالت کو اپنا کام کرنا ہے اگر 18کروڑ عوام میں سے صرف دس افراد کے بنیادی حقوق متاثر ہوں گے تو عدالت ان کا تحفظ کرے گی، کوئی شک نہیں باہر خیمہ بستی تو آباد ہے جس کے محرکات ایک کروڑ ہوسکتے ہیں مگر عدالت نے صرف رزلٹ دیکھنا ہے، چیف جسٹس ناصر الملک نے کہا کہ ہم سیاسی سوالات میں نہیں پڑنا چاہتے، رضا ربانی کے جواب میں کچھ سوالات اٹھائے گئے ہیں جو اوپن معاملہ ہے پی ٹی آئی اور پی اے ٹی اس کا جواب داخل کرائے۔ چیف جسٹس ناصر الملک کی سربراہی میں پانچ رکنی لارجر بینچ نے کیس کی سماعت کی تو لاہور ہائی کورٹ بار راولپنڈی کی جانب سے ایڈووکیت ذوالفقار نقوی نے کہا کہ گزشتہ کئی ماہ سے ہمارے اور بہت سے لوگوں کے بنیادی حقوق کی نفی ہو رہی ہے اس لئے لوگوں کے بنیادی حقوق کی فراہمی کو یقینی بنانا عدالت کا کام ہے۔ جسٹس ثاقب نثار نے کہا آپ عدالت کو یہ تو بتائیں کہ آپ کے کون کون سے بنیادی حقوق کی نفی ہوئی؟ جسٹس جواد ایس خواجہ نے کہا کہ آرٹیکل 184/3کے تحت بنیادی حقوق کو یقینی بنانے کے عمل میں تو ہم کو درخواست گزار کی بھی ضرورت نہیں، ہم اس آرٹیکل کا دائرہ اختیار سماعت درخواست گزار کے بغیر بھی استعمال کر سکتے ہیں، سرکار نے بنیادی حقوق کی فراہمی کو یقینی بنانا ہے سرکار اپنا کردار ادا کرے۔ گیلپ پول یا سروے وغیرہ ہمارا کام نہیں ہے۔ ہم کو بتایا جائے کہ عوام کی نبض کیا کہہ رہی ہے اگر اٹھارہ کروڑ میں سے 10لوگوں کے بھی بنیادی حقوق غصب ہوں گے تو بھی ہم ان کے بنیادی حقوق کا بھی تحفظ کریں گے، ہم اس سلسلے میں آئین کے مطابق فیصلہ کریں گے ہم کسی ایک پارٹی کے نظریات کے ساتھ نہیں، ججز اپنے نظریات اپنے کمرے میں چھوڑ آتے ہیں۔ اٹارنی جنرل سلیمان بٹ نے بتایا کہ ایک ادارے پر حملہ کیا گیا تو وفاق نے ضبط کا مظاہرہ کیا، اس کی کئی سیاسی وجوہات ہیں۔ جسٹس جواد ایس خواجہ نے کہا کہ سیاست میں مصلحت ہوتی ہے لیکن ہم نے قانون کو دیکھنا ہے، عدالت کے سامنے اس کی کوئی گنجائش نہیں ہوتی۔ دھرنے کی وجہ سے لوگوں کے حقوق متاثر ہو رہے ہیں دھرنے والوں کو یہ حق کس نے دیا ہے۔ جسٹس ثاقب نثار نے سماعت کے دوران ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ اب مٹی پاو والا تاثرختم ہو جانا چاہئے، اب چیزیں کارپٹ کے نیچے چھپ کر نہیں رہ سکتیں۔ ملک کی اصلاح کر نی ہے تو اپوزیشن نے کر نی ہے ،اگر تقاریر کے ذریعے اصلاح ہو گی تو انہوں نے کرنی ہے، دھرنے دینے سے کون روک رہا ہے احتجاج کرنا اور بات کرنا ان لوگوں کا حق ہے یہ ایک اچھی بات ہے اس میں نہ ہم کو مداخلت کر نی چاہئے نہ ہی یہ ہمارا مزاج ہے لیکن ہمارا فرض ہے کہ لوگوں کے بنیادی حقوق کو یقینی۔ کیا سپریم کورٹ کی چھت پر کپڑے لٹکانا آپ کا بنیادی حق ہے، مذاکرات سے ہمیں کوئی سروکار نہیں ہم نے قانون کو دیکھنا ہے،کون کہتا ہے کہ دھرنا نہ دیں اور تقریریں نہ کریں، اگر حکومت ٹھیک نہ چل رہی ہو تو اپوزیشن ہی اس کو ٹھیک کرتی ہے لیکن ان دھرنوں سے دوسروں کے حقوق پامال نہ کریں یہ حق آپ کو کس نے دیا ہے۔ ہمارامیڈیا چوبیس میں سے انیس گھنٹے اس کو فوکس کررہا ہے تو یہ عوامی نوعیت کا مسئلہ ہے، کیا یہ لوگ چاہتے ہیں کہ کچھ بھی ہو بس حکومت ختم ہوجائے، ہم جج صاحبان کو بھی سپریم کورٹ پندرہ جگہ سے چھپ کر آنا پڑتا ہے آپ لوگوں کو تلاشی لینے کا حق کس نے دیا؟ سرکاری ملازمین کی تلاشی اور گاڑیوں کی ڈگیاں کھول کر چیک کی جارہی ہیں۔  دوران سماعت سپریم کورٹ نے واضح کیا کہ اسلام آباد میں جاری دھرنوں کے باعث ماورائے آئین اقدام کے بارے میں 15 اگست کو واضح حکم دیدیا تھا۔ آئین کے آرٹیکل 184(3) کا بنیادی مقصد ملک کے شہریوں کے بنیادی حقوق کا تحفظ ہے لیکن درخواست گزاروں کو یہ بتانا ہوگا کہ ان کے کون کون سے حقوق متاثر ہوئے ہیں اور کس طرح متاثر ہوئے ہیں۔ رضا ربانی نے کہا کہ سپریم کورٹ سیاسی معاملات میں ضامن نہیں بن سکتی۔ امین کھوسہ نے کہا کہ عدالت فیصلہ کرے کہ دھرنے کے معاملات حل کرنا اس کا دائرہ اختیار ہے یا نہیں۔ نجی ٹی وی کے مطابق ق لیگ کے وکیل نے کہا کہ یہ معاملات سیاسی نوعیت کے ہیں، عدالت کو مداخلت نہیں کرنی چاہئے۔ جسٹس ثاقب نثار نے اپنے ریمارکس میں کہا کہ کہا کہ آپ تو واضح کہتے ہیں کہ مارشل لا آ جائے، آپ کہتے ہیں کہ کچھ بھی ہو جائے یہ حکومت چلی جائے۔ مٹی پائو والی بات اب ختم ہونی چاہئے۔ ملک کی اصلاح اپوزیشن نے کرنی ہے۔ پاکستان مسلم لیگ ن نے اپنا جواب جمع کرا دیا ہے۔ سنیٹر رفیق رجوانہ ایڈووکیٹ کے توسط سے دائر کئے جواب میں مؤقف اختیار کیا گیا ہے کہ عدالت پاکستان تحریک انصاف اور عوامی تحریک کے دھرنوں کو ختم کرنے کے احکامات جاری کرے، دھرنوں کے باعث ملکی معیشت کو اربوں کو نقصان ہو رہا ہے۔