داروغہ والا میں مسجد کی چھت گرنے سے شہید ہونے والے سپرد خاک‘ علاقہ سوگوار

داروغہ والا میں مسجد کی چھت گرنے سے شہید ہونے والے سپرد خاک‘ علاقہ سوگوار

لاہور (نامہ نگار+ خصوصی رپورٹر+ نیوز ایجنسیاں) داروغہ والا میں مسجد کے ملبے تلے دب کر شہید ہونے والے افراد کی اجتماعی نماز جنازہ گزشتہ روز مین جی ٹی روڈ پر ادا کرکے انہیں مقامی قبرستان میں سپردخاک کردیا گیا، لوگ میتوں سے لپٹ کر زار و قطار روتے رہے، دلاسہ دینے والے بھی غم سے نڈھال تھے۔ نماز جنازہ میں ایم پی اے وحید گل، شیخ خرم روحیل اصغر اور ڈی سی اوکیپٹن (ر) محمد عثمان سمیت بڑی تعداد میں لوگوں نے شرکت کی۔ اس موقع پر جی ٹی روڈ کو قناطیں لگا کر دونوں اطراف سے بند کر دیا گیا تھا اور پولیس کی بھاری نفری تعینات تھی۔ اس موقع پر ہر آنکھ اشکبار تھی۔ علاقہ میں لوگوں کی غیرضروری آمد ورفت روک دی گئی تھی۔گزشتہ صبح ڈی ایس پی باغبانپورہ اور ایس ایچ اور درجنوں اہلکار موقع پر موجود تھے  ملبہ ہٹانے کا کام دوبارہ شروع کیا گیا۔ حکام کے مطابق بلڈنگ کو مکمل طور پر گرا دیا جائے گا۔ اعلیٰ حکام کو بھجوائی گئی  رپورٹ میں لکھا گیا ہے کہ سنگل اینٹ پر کھڑی مسجد پر دوسرا پورشن تیار کر لیا گیا تھا  جو حادثے کی وجہ بنا۔ نیچے والے حصہ میں مٹی سنے چنائی کی گئی تھی۔ حالیہ بارشوں سے لینٹر بھاری ہوگیا تھا اور سنگل اینٹ کی دیواریں وزن برداشت نہ کرسکیں۔ دریں اثنا جامع مسجد حنیفہ کے گردونواح میں واقع گلیوں میں متوفین کے گھروں سے چیخ و پکار کی آوازیں آتی رہیں  اور علاقہ میں سوگواری کے علاوہ متوفین کے گھروں میں کہرام برپا تھا۔ دریں اثناء ہسپتال سے پانچ زخمیوں کو طبی امداد کے بعد فارغ کردیا گیا ہے جبکہ ہسپتال میں زیرعلاج 7زخمیوں میں سے دو کی حالت نازک بتائی جاتی ہے۔ واقعہ کو پولیس نے اتفاقی حادثہ قرار دے کر اپنی کارروائی مکمل کر لی۔ پولیس کے مطابق یہ ایک اتفاقیہ حادثہ تھا۔ ماہرین تعمیرات نے داروغہ والا کی جامہ مسجد حنفیہ کی باقی ماندہ عمارت کو ناقابل استعمال قرار دیدیا۔ شہید ہونے والوں میں دادا پوتا بھی شامل ہیں۔ 80سالہ خوشی محمد اپنے پوتے 19سالہ سلمان ریاض کے ہمراہ ظہر کی نماز ادا کرنے گئے تھے۔ ابتدائی رپورٹ وزیراعلیٰ پنجاب کو بھجوا دی۔ رپورٹ میں ناقص میٹریل اور عمارت کا ڈھانچہ مضبوط نہ ہونے کو حادثے کا سبب قرار دیا گیا ہے۔ علاوہ ازیں حکومت نے شہداء کے لواحقین کے لئے اعلان کردہ 5لاکھ فی کس امداد کو بڑھاکر 16لاکھ کر دیا ہے اور مسجد کو دوبارہ تعمیر کرنے کا اعلان بھی کیا گیا ہے۔شہدا کی اجتماعی نماز جنازہ گزشتہ روز جی ٹی روڈ پر مفتی رمضان سیالوی نے پڑھائی۔ ریسکیو ذرائع کا کہنا ہے کہ وزیراعلیٰ پنجاب کو بھجوائی جانے والی رپورٹ کے مطابق جامعہ مسجد حنفیہ کا سنگ بنیاد 1963ء میں رکھا گیا اور دیواریں مٹی کی چنائی سے تیار کی گئی تھیں۔