حیران ہوں عمران کو ساتویں روز سیلاب زدگان کا خیال کیسے آ گیا’ شہباز شریف

حیران ہوں عمران کو ساتویں روز سیلاب زدگان کا خیال کیسے آ گیا’ شہباز شریف

لاہور/ چنیوٹ/ لالیاں (خصوصی رپورٹر+ نامہ نگاران) وزیراعلیٰ شہباز شریف نے کہا ہے کہ پنجاب حکومت کے زیرانتظام سیلاب متاثرین کیلئے پاکستان کی تاریخ کا سب سے بڑا ریسکیو اور ریلیف آپریشن جاری ہے۔ آپریشن میں ہیلی کاپٹرز، بوٹس اور ہزاروں کی تعداد میں امدادی عملہ حصہ لے رہا ہے۔ اب تک ایک لاکھ 24 ہزار سے زائد لوگوں کو ریسکیو کرکے محفوظ مقامات پر منتقل کیا جا چکا ہے۔ متاثرہ اضلاع میں 360 ریلیف کیمپس اور 704 ہیلتھ کیمپس قائم کئے گئے ہیں۔ متاثرین میں 55 ہزار سے زائد فوڈ ہیمپرز تقسیم کئے جا چکے ہیں جبکہ ایک لاکھ منرل واٹر کی بوتلیں فراہم کی گئی ہیں۔ 38 ہزار ٹینٹ متاثرہ اضلاع کو بھجوائے جا چکے ہیں۔ ریسکیو 1122 کی تمام کشتیاں اور عملہ امدادی سرگرمیوں میں مصروف ہے۔ وزیراعلیٰ شہباز شریف نے گذشتہ روز چنیوٹ کی تحصیل لالیاں، تحصیل بھوانہ، ملحقہ دیہات، منڈی بہاؤالدین کی بستی قادر آباد کے سیلاب سے متاثرہ علاقوں کا دورہ کیا اور ایک اعلی سطح کے اجلاس کی صدارت کی۔ وزیراعلیٰ کا دورہ 12 گھنٹے پر محیط تھا۔ وزیراعلیٰ نے کہا کہ قادر آباد میں متاثرین سیلاب کیلئے اچھے اقدامات دیکھ کر خوشی ہوئی۔ انتظامیہ اسی جذبے سے کام جاری رکھے تو اس قدرتی آفت کا بخوبی مقابلہ کیا جا سکتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ سیلاب ایک بڑی آزمائش ہے، مشترکہ کوششوں سے نمٹیں گے۔ وزیراعلیٰ نے تحصیل بھوانہ کے موضع سلمان، حویلی مبارک شاہ، ٹھٹھہ محمد شاہ، رام دین کھوہ اور دیگر نواحی دیہات کا کشی کے ذریعے دورہ کیا اور امدادی سرگرمیوں کا جائزہ لیا۔ انہوں نے متاثرین میں امدادی سامان تقسیم کیا اور پانی میں گھرے لوگوں کو محفوظ مقامات پر منتقل کیا۔ وزیراعلیٰ 2 بچوں کو اپنی کشتی میں بٹھا کر محفوظ مقام پر لائے اور امدادی سرگرمیوں کی خود نگرانی کی۔  شہباز شریف نے کہا کہ پاک فوج، پولیس، ریسکیو 1122، ضلعی انتظامیہ اور متعلقہ اداروں کی بروقت کارروائی سے سینکڑوں قیمتی انسانی جانوں کو بچایا گیا ہے۔ میں پاک فوج، پولیس، ریسکیو 1122 اور انتظامیہ کا شکرگزار ہوں۔ وزیراعلیٰ نے کہا کہ لوگوں کو محفوظ مقامات پر منتقل کرنا پہلی ترجیح ہے۔ حکومت متاثرہ اضلاع کو فی ضلع امدادی سرگرمیوں اور متاثرین کو سہولتوں کی فراہمی کیلئے 10، 10 کروڑ روپے کی رقم جاری کر چکی ہے۔ وزیراعلیٰ نے ہدایت کی کہ بیمار ہونے والے لوگوں کا مقامی طور پر علاج کافی نہیں لہٰذا ایم پی اے خود انہیں ہسپتال لے کر جائیں۔ انہوں نے کہا کہ پانی خشک ہونے سے قبل متاثرین کے نقصانات کا معاوضہ ادا کیا جائے گا۔ مصیبت کی اس گھڑی میں معاشرے کے ہر فرد کو متاثرین کی مدد کیلئے آگے آنا چاہئے۔ سیاسی و انتظامی ٹیم متاثرین تک ان کا حق پہنچانے میں کوئی کسر اٹھا نہ رکھے۔ متاثرین کی بحالی اور انہیں سکون کی زندگی میسر آنے تک چین سے نہیں بیٹھوں گا۔ انہوں نے کہا کہ جن علاقوں سے پانی اتر رہا ہے وہاں سے مردہ مال مویشی ہنگامی بنیادوں پر ہٹائے جائیں اور علاقوں میں مکینوں کی واپسی سے پہلے جراثیم کش ادویات کا سپرے کرایا جائے۔ بیمار مویشیوں کے علاج معالجے کیلئے فول پروف انتظامات کئے جائیں۔ وزیراعلیٰ نے سیلاب متاثرین سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ میں حیران ہوں کہ عمران خان کو ساتویں روز سیلاب زدگان کا خیال کیسے آ گیا؟ عبادت میں تاخیر ممکن ہے مگر خدمت میں تاخیر کی کوئی گنجائش نہیں۔ ساتویں روز سیلاب زدہ علاقوں کا دورہ کرنے والے انسانی دکھوں کے احساس سے عاری ہیں۔ قدرت نے انہیں غریبوںکے مسائل پر دھڑکنے والا دل ہی نہیں دیا۔ انہوں نے کہا کہ کاش سیلاب متاثرہ علاقوں کے دورے کے موقع پر عمران خان اور ان کے حامیوں کے ہاتھوں میں پارٹی جھنڈوں کے بجائے مصیبت زدہ عوام کے لئے امدادی سامان ہوتا۔ ملتان میں اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ میں نے اپنی عملی زندگی میں کبھی اتنا بڑا سیلاب نہیں دیکھا۔ منتخب نمائندے اور انتظامیہ جنوبی پنجاب میں سیلابی صورتحال سے نمٹنے کیلئے پوری طرح چوکس رہیں۔ میں روز آؤں گا میرے ساتھ کوئی منتخب نمائندہ یا افسر نہیں ہوگا، سب متاثرین کیلئے امدادی سرگرمیوں کے حوالے سے فرائض سرانجام دیں، میں خود دورے کروں گا۔ دریا کی قریبی بستیوں سے لوگوں کا انخلاء ہر صورت یقینی بنایا جائے، ایک ایک زندگی قیمتی ہے۔ انتظامیہ انسانی جانوں کے تحفظ کیلئے ہر ممکن اقدام اٹھائے۔ جو لوگ دریا کی قریبی آبادیوں سے محفوظ مقامات پر منتقل نہیں ہوں گے تو حکومت اس ضمن میں سختی کرے گی- ملتان اور ڈیرہ غازی خان  کے لئے دو دو ہیلی کاپٹرز دیئے جائیں گے۔ وزیراعلیٰ نے ہدایت کی کہ ملتان اور جنوبی پنجاب کے دیگر اضلاع میں فوری طور پر ریلیف کیمپ لگائے جائیں۔ دریں اثناء وزیراعلیٰ شہبازشریف کی زیر صدارت را ت گئے 3گھنٹے تک کابینہ کمیٹی برائے فلڈکا اجلاس ہوا۔اجلاس کے دوران انہوں نے ویڈیو لنک کے ذریعے ملتان کی انتظامیہ سے بھی خطاب کیا۔وزیراعلیٰ نے کہاکہ ملتان اور جنوبی پنجاب میں سیلابی صورتحال سے نمٹنے کیلئے تمام پیشگی اقدامات کئے جائیں۔ وزیراعلی نے ہدایت کی کہ متاثرین کو پکا ہوا کھانا فراہم کیا جائے۔ متاثرین کے نقصانات کے ازالے کے لئے فوری سروے کا آغاز کیاجائے گا ۔