اٹھارہ ہزاری بند توڑنے سے 200 دیہات میں تباہی‘ ہیڈ تریموں بچا لیا گیا‘ جھنگ شہر کو بدستور خطرہ ملتان کے کئی گائوں خالی کرا لئے گئے

اٹھارہ ہزاری بند توڑنے سے 200 دیہات میں تباہی‘ ہیڈ تریموں بچا لیا گیا‘ جھنگ شہر کو بدستور خطرہ ملتان کے کئی گائوں خالی کرا لئے گئے

لاہور/ ملتان /کراچی (سپورٹس رپورٹر/ نیوز ایجنسیاں/ نوائے وقت رپورٹ) پنجاب میں سیلاب سے تباہی کا سلسلہ جاری ہے اور دریائے چناب اور جہلم کا بڑا ریلا تیزی سے آگے بڑھ رہا ہے، پانی کا بڑا ریلا کل پنجند کے مقام سے گزرے گا جو 7 لاکھ کیوسک تک ہو سکتا ہے اس حوالے سے ملتان، مظفر گڑھ میں حفاظتی انتظامات کئے جا رہے ہیں۔ اے ایف پی کے مطابق اب تک سیلاب سے 285 سے زائد افراد جاں بحق ہو چکے ہیں۔ گزشتہ روز مزید 54ہلاکتوں کی تصدیق ہوئی، مجموعی طور پر 11لاکھ 21ہزار سیلاب سے متاثر ہوئے ہیں، 2881مکانات تباہ ہو گئے، ملتان کے کئی دیہات خالی کرا لئے گئے ہیں۔ سیلابی پانی سے جھنگ کا بھکر، لیہ اور ملتان سے زمینی رابطہ منقطع ہو گیا۔  جھنگ اور ٹوبہ ٹیک سنگھ کا فیصل آباد سے بھی زمینی رابطہ ختم ہو گیا۔ اطلاعات کے مطابق چناب کا سیلابی ریلا ملتان میں ہیڈ محمد والا کے مضافاتی علاقوں میں داخل ہو گیا۔ ہیڈ محمد والا اور شیرشاہ بند توڑنے کی تیاریاں بھی کرلی گئیں۔ ملتان شہر کو سیلاب سے بچانے کے لئے گرے والابند  میں بھی بارودی مواد نصب کر دیا گیا۔ ممکنہ سیلاب کے پیش نظر ملتان میں 80 سرکاری سکولوں کو دو روز کے لئے بند کرا دیا گیا ہے۔ دریائے راوی میں طغیانی سے تاندلیانوالہ کے کئی علاقے زیرآب آ گئے۔ بہاولپور میں ہیڈ پنجند پر سیلابی صورتحال کے باعث فوج طلب کرلی گئی ۔سندھ میں سیلابی ریلا  13 ستمبر کو گدو بیراج سے گزریگا ٗ کچے کے علاقے زیر آب آنے کے خدشے پر مکینوں کو وارننگ جاری کردی گئی۔گزشتہ روز اٹھارہ ہزاری  پر قائم حفاظتی بند کو بارود سے اڑایاگیا جس کے بعد پانی کارخ تحصیل اٹھارہ ہزاری اور تحصیل احمد پور سیال کی طرف ہوگیا۔ تحصیل 18ہزاری اور تحصیل احمد پورسیال کے مزید 200 سے زائد دیہات  کو نقصان پہنچنے کاخدشہ ہے۔ جھنگ کے سینکڑوں دیہات اب بھی پانی میں گھرے ہوئے ہیں۔ ریسکیو ٹیمیں متاثرہ علاقوں میں امدادی کارروائیوں میں مصروف ہیں، طبی امداد کیلئے پاک فوج کے ڈاکٹرز کی ٹیم بھی پہنچ گئی ہے۔ پاک فوج سے ہیلی کاپٹرز اور 30 کشتیاں بھی حاصل کر لی  ہیں۔ ادھر سندھ میں سیلابی ریلا 13 ستمبر کو گدو بیراج سے گزرے گا۔ محکمہ موسمیات کے مطابق 12 سے 15 ستمبر کے دوران دریائے چناب میں پنجند کے مقام سے انتہائی اونچے درجے کا سیلابی ریلا گزرنے کا امکان ہے جس کے باعث ٹوبہ ٹیک سنگھ، خانیوال، لیہ، مظفر گڑھ اور ملتان کے اضلاع میں سیلابی پانی داخل ہونے کا خدشہ ہے۔ صوبائی ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی کے مطابق جھنگ میں سیلاب میں پھنسے افراد کو نکالنے کے لئے 91 کشتیاں اور 5 ہیلی کاپٹرز کام کررہے ہیں جن کے ذریعے اب تک 30 ہزار افراد کو ریسکیو کیا گیا ہے۔ اس کے علاوہ پاک فوج کے 5 ہیلی کاپٹر اور 14کشتیاں بھی امدادی کارروائیوں میں شریک ہیں۔بہاولنگر میں سیلابی پانی راجے والا بستی اور نئی آبادی میں داخل ہوگیا ہے اور نقصان کو کم سے کم کرنے کے لئے ہارون آباد، فورٹ عباس روڈ کو توڑ دیا گیا۔ ملتان کے چوک گیرے والا کے قریب 10 آبادیوں میں سیلابی پانی داخل ہوگیا ہے۔مظفرگڑھ میں بھی رنگ پور کے مقام پر دریائے چناب کے کنارے آباد بستیوں میں سیلابی پانی داخل ہوگیا ہے۔ دوآبہ بند پربارود نصب کردیا گیا ہے اور پانی کی سطح خطرناک حد تک بلند ہونے پر بند کو توڑا جاسکتا ہے۔ موسیٰ کھراورکچہ ملی خیل کے علاقوںمیںپانی میںڈوب کرتین معصوم بچے جاںبحق ہوگئے۔کڑی خیسورعلاقہ کے گائوںکچی ملی خیل میںسی آربی سی نہرمیںبھی ایک بچہ ڈوب کرجاں بحق ہوگیا۔ ادھر دریائے ستلج میں پانی کی سطح مسلسل بلند ہونا شروع ہو گئی۔ ہیڈ سلیمانکی کے مقام پانی کی آمد 18146کیوسک اور بہائو کیوسک  12934کیوسک اور ہیڈ گنڈا سنگھ کے مقام پانی کی آمد  3509کیوسک اور بہائو 3500کیوسک جاری ہے۔ دریائے ستلج میں پانی کی سطح مسلسل بلند ہو رہی ہے۔ حکومت پنجاب کے ترجمان نے کہا ہے صوبے میں 16 ہیلی کاپٹرز سیلاب متاثرین کے لئے امدادی سرگرمیوں میں حصہ لے رہے ہیں۔ آئی ایس پی آر کے مطابق پاک فوج نے  مزید 2500 متاثرین کو سیلاب زدہ علاقوں سے محفوظ مقامات پر منتقل کر دیا،امدادی کارروائیوں میں 7ہیلی کاپٹرز اور 90کشتیوں کے ذریعے منگلا کور کے جوان جھنگ اور چنیوٹ میں حصہ لے رہے ہیں۔ فیڈرل فلڈ کمیشن نے کہا ہے کہ دریائے چناب میں تریموں کے مقام پر انتہائی اونچے درجے جبکہ دریائے راوی میں بلوکی کے مقام پر اونچے درجے کا سیلاب ہے۔ منگلا ڈیم میں پانی کی بلند ترین سطح 1241.65 فٹ ریکارڈ کی گئی۔ ڈیم مینجمنٹ اتھارٹیز کو ہدایت کی گئی ہے کہ وہ موجودہ صورتحال میں انتہائی محتاط رہیں اور ڈیموں کی فلنگ کے طریقہ کار اور حفاظتی اصولوں پر سختی سے کاربند رہیں۔ دریائے چناب میں اس وقت تریموں کے مقام پر 6 لاکھ کیوسک سے زائد پانی کا بڑا ریلہ گذر رہا ہے۔ محکمہ موسمیات کے مطابق ملک 24 سے 26 گھنٹوں کے دوران تریموں کے مقام پر 8 لاکھ کیوسک پانی کا ریلہ گزرنے کا امکان ہے جبکہ 12سے 15ستمبر کے دوران دریائے چناب میں پنجند کے مقام سے انتہائی اونچے درجے 07لاکھ کیوسک کا سیلابی ریلہ گزرنے کا امکان ہے جس کے باعث ٹوبہ ٹیک سنگھ، خانیوال، لیہ، مظفر گڑھ اور ملتان کے اضلاع میں سیلابی پانی داخل ہونے کا خدشہ ہے۔
جھنگ/ اٹھارہ ہزاری/ ٹوبہ ٹیک سنگھ/ مریدکے/ جلالپور بھٹیاں/ ننکانہ/ شاہ جیونہ (نامہ نگاران+ نمائندگان) دریائے چناب اور جہلم کا سیلابی ریلا ہیڈ تریموں کے مقام پر اکٹھا ہوگیا اور ہیڈ تریموں سے 6 لاکھ کیوسک پانی کا اخراج ہو رہا ہے۔ ہیڈ تریموں کو بچانے کیلئے اٹھارہ ہزاری کا بند پہلے بدھ کی صبح دس بجے توڑ ا گیا لیکن پانی کا اخراج ناکافی ہونے کی وجہ سے دوبارہ 3 بجے توڑا گیا۔ اس سے 200 دیہات میں زبردست تباہی ہوئی۔ یاد رہے کہ موضع گینانہ کا حفاظتی بند پہلے ہی ٹوٹ گیا تھا جس سے 12 سے 14 کلومیٹر کے علاقہ میں پانی جمع ہو گیا۔ اٹھارہ ہزاری کا بند ٹوٹنے سے دو لاکھ ایکڑ پر کھڑی فصلیں دھان، گنا، کپاس، سبزیاں اور چارہ زیرآب آگئیں جن کے ضائع ہونے کا خدشہ ہے۔ تحصیل اٹھارہ ہزاری میں 115 دیہات جبکہ تحصیل احمد پور سیال میں 100 دیہات جبکہ دونوں تحصیلوں کی تقریبا 7 لاکھ 50ہزار افراد کا سیلاب سے متاثر ہونے کا خدشہ ہے۔ تحصیل اٹھارہ ہزاری کو پہلے ہی اعلانات کے ذریعے خالی کروایا جا چکا تھا۔ موضع کوٹ باقر میں ریسکیو 1122 کا ایک اہلکار محمد اعجاز کو سانپ نے ڈس لیا۔اٹھارہ ہزاری سے نامہ نگار کے مطابق ہزاروں کی تعداد میں مرد، خواتین اور بچے درختوں اور چھتوں پر بے یارومددگار بیٹھے ہیں جن تک ریسکیو کی ٹیمیں نہیں پہنچ سکیں۔ گائوں جبوآنہ، رشید پور، احمد پور کے چاروں اطراف پانی ہے جس سے لوگوں کو سخت مشکلات کا سامنا ہے۔ کھانے پینے کی اشیاء کی شدید قلت ہے۔جھنگ سے 10 کلومیٹر دور جھنگ بھکر روڈ پر رات کو بند ٹوٹنے سے موضع باغ، مدوکی، موضع گجلانہ وغیرہ بائی پاس میں پانی داخل ہو چکا ہے اور یہ پانی اب بھی جھنگ شہر میں بھی داخل ہونے کا خدشہ ہے تاہم تریموں ہیڈورکس کو بند توڑ کر بچا لیا گیا ہے۔ لالیاں سے نامہ نگار کے مطابق وسیع علاقے میں کھڑی فصلیں زیر آب آگئی ہیں۔گڑھ مہاراجہ میں دریائے چناب کے دو اطراف سے پانی داخل ہو گیا۔ ٹوبہ ٹیک سنگھ سے نامہ نگار کے مطابق کمالیہ پیرمحل کے علاقہ میں دریائے راوی میں بھینسوں کو دریا سے باہر نکالتے ہوئے 2 نوجوان سیلابی ریلے میں بہہ گئے، ایک جاں بحق جبکہ ایک کو زندہ نکال لیا گیا۔ نواحی گائوں سانگرہ سادات کے قریب مہمند نامی شخص سیلابی پانی کے بہائو کی نذر ہو گیا۔ ایک  دوسرے واقعہ میں کوٹ امیر شاہ کا رہائشی نیوی کا ملازم  سرفراز گذشتہ روز چھٹی پر گھر لوٹا اور کوٹ امیر شاہ کے قریب سیلاب پانی عبور کرتے دریائی موجوں کا شکار ہو گیا۔ تھانہ بڑانہ کے علاقہ ٹبی للیرہ میں ننھا بچہ جنید ولد افتخار سیلابی پانی میں بہہ گیا۔ تھانہ محمد والا کے علاقہ قل کا رہائشی بائیس سالہ نوجوان دلاور حسین اپنے دوستوں کے ہمراہ ڈیرے سے سامان منتقل کر رہا تھا کہ اچانک تیز لہروں کی نذر ہو گیا۔ بھیرہ سے نامہ نگار کے مطابق دریائے جہلم میں آنے والے سیلاب نے تحصیل بھیرہ کے 85ہزار سے زائد ایکڑ رقبہ پر تباہی پھیلا دی۔ شورکوٹ سے نامہ نگار کے مطابق پانی تحصیل شورکوٹ میں بدھوآنہ، ککووالہ، بدھ رجبانہ کھرانوالہ، اوبھان، ڈبکلاں سمیت مختلف علاقوں میں آگیا۔ ماموں کانجن سے نامہ نگار کے مطابق دریائے راوی میں پانی کی سطح بلند ہو رہی ہے۔شاہ جیونہ سے نامہ نگار کے مطابق دریائے جہلم کے سیلابی علاقہ موضع سیلیانہ کے رہائشی حق نواز ولد شمشیر بھٹی جس کو ہیلی کاپٹر کے ذریعے محفوظ مقام پر پہنچایا جا رہا تھا، اس دوران اس کا ہاتھ رسے سے چھوٹ گیا جس سے وہ موقع پر ہی جان بحق ہو گیا۔ دریں اثناء جھنگ میں تمام تعلیمی ادارے غیر معینہ مدت کے لیے بند کر دیئے گئے ہیں۔ ملتان میں بھی تعلیمی ادارے بھی بند کردئیے گئے ہیں۔ مریدکے سے نامہ نگار کے مطابق نالہ ڈیک سے نکلنے والے سیلابی ریلے اور غلط پل کی تعمیر کے باعث پانی کا بڑا ریلا 30 کے قریب دیہات میں داخل ہو گیا۔ حکومتی نمائندوں کی بے حسی پر سینکڑوں زمینداروں نے احتجاجی مظاہرہ کیا۔ ننکانہ صاحب سے نمائندہ نوائے وقت کے مطابق نالہ ڈیک میں طغیانی کے باعث پانی نے خیر پورگائوں کو چاروں اطراف سے گھیر لیا، لوگ گھروں میں محصور ہو کر رہ گئے، نواحی گائوں خیر پور کو نالہ ڈیک کے پانی نے چاروں طرف سے گھیر رکھا ہے، رابطہ سڑکیں پانی کی وجہ سے ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہو گئی ہیں۔سرائے مغل سے نامہ نگار کے مطابق سیلاب کے پیش نظر حفاظتی انتظامات سے زیادہ نقصان نہیں ہوا تاہم بارشوں سے جمع ہونے والے پانی سے فصلوں کو نقصان پہنچا ہے۔ جن مقامات سے پانی کا ریلہ گذر چکا ہے وہاں تباہی اب سامنے آنا شروع ہو گئی ہے اور ریلیف کے کاموں میں بھی تیزی لائی جا رہی ہے۔تحصیل پنڈی بھٹیاں کے گائوں نسو وال کھوکھراں کے ایک خاندان پر قیامت ٹوٹ پڑی۔ چار بھائیوں نے بچوں سمیت درختوں پر پناہ لیکر 10 فٹ اونچے سیلابی ریلے سے جان بچا لی۔ جلالپور بھٹیاں سے نامہ نگار کے مطابق طوفانی لہریں جلالپور بھٹیاں کے مختلف مواضعات کے تین افراد کو نگل گئیں۔ پنڈی بھٹیاں سے نامہ نگار کے مطابق نواحی گائوں لودہراں کا طالب حسین دریائے چناب میں ڈوب گیا۔ دیہاتیوں نے بڑی جدوجہد کے بعد اس کی لاش کو تلاش کر کے نکال لیا۔ شورکوٹ سے نامہ نگار کے مطابق ککووالا، کھرے والا اور ڈھب کلاں کے علاقوں میں دریائے چناب کا پانی داخل ہوگیا۔