نوازشریف کی زرداری سے ملاقات، سابق صدر نے رضا ربانی کی حمایت پر شکریہ ادا کیا

نوازشریف کی زرداری سے ملاقات، سابق صدر نے رضا ربانی کی حمایت پر شکریہ ادا کیا

اسلام آباد (سجاد ترین+ خبرنگار خصوصی + نوائے وقت رپورٹ) وزیراعظم نوازشریف نے سابق صدر آصف علی زرداری سے انکی رہائشگاہ پر جا کر ملاقات کی۔ نجی ٹی وی کے مطابق زرداری ہائوس میں ہونیوالے عشایئے میں وزیراعظم نواز شریف اور آصف علی زرداری کے درمیان ون آن ون ملاقات بھی ہوئی جس میں چیئرمین اور ڈپٹی چیئرمین سینٹ کے انتخاب سے متعلق گفتگو کی گئی۔ واضح رہے گزشتہ روز وزیراعظم ہائوس میں ظہرانے کے موقع پر وزیراعظم نے آصف علی زرداری سے شکوہ کیا تھا کہ آپ ہمارے ظہرانے میں نہیں آئے اور نہ ہمیں اپنے عشایئے پر بلایا جس پر آصف علی زرداری نے وزیراعظم کو عشایئے میں شرکت کی دعوت دی۔ وزیراعظم نوازشریف وفاقی وزرا اسحاق ڈار، پرویز رشید، خواجہ سعد رفیق اور عبدالقادر بلوچ کے ہمراہ عشائیے میں شرکت کیلئے زرداری ہائوس گئے۔ وزیراعظم نے چودھری شجاعت حسین سے بھی سلام دعا کی۔ وزیراعظم اور دیگر سیاسی رہنمائوں نے سینیٹر رضا ربانی کو مبارکباد دی۔ آصف علی زرداری نے رضا ربانی کی حمایت پر وزیراعظم کا شکریہ ادا کیا۔ وزیراعظم نے نومنتخب سینیٹرز اور سیاسی رہنمائوں سے مصافحہ کیا۔ وزیراعظم نواز شریف نے آصف علی زرداری کے عشایئے میں کھانا نہیں کھایا۔ پی پی کے رہنما رحمان ملک نے میڈیا سے گفتگو کرتے کہا کہ وزیراعظم چائے پر آئے تھے، میاں صاحب سب سے اجازت لینے کے بعد کھانا کھائے بغیر گئے، انہوں نے بتایا کہ میں نے کہیں اور کھانا کھانے جانا ہے، حکومت نے فاٹا کے حوالے سے صدارتی آرڈیننس کو واپس لے لیا ہے۔ ڈپٹی چیئرمین سینٹ کیلئے بلوچستان کی سیاسی جماعتیں فیصلہ کریں، ڈپٹی چیئرمین خاتون بھی ہو سکتی ہے۔ محمود اچکزئی نے فاروق ستار سے مصافحہ تک نہ کیا، نواز شریف نے ڈپٹی چیئرمین کے لئے اپوزیشن کے نام کی حمایت کرکے سب کو حیران کر دیا۔ عشایئے کے موقع پر سیاسی رہنما زرداری ہاؤس پہنچے تو بجلی چلی گئی۔ اس موقع پر سیاسی رہنما ایک دوسرے سے مصافحہ کرتے رہے۔ مولانا فضل الرحمن 21ویں ترمیم پر تنقیدکرتے رہے۔ آصف زرداری نے کہا کہ چاہتے ہیں حکومت اپنی 5 سالہ مدت پوری کرے۔ عشایئے کی اندرونی کہانی سامنے آئی ہے۔ سابق صدر آصف زرداری نے وزیراعظم سے ارکان کو فنڈز جاری کرنے کی سفارش کر دی۔ آصف زرداری نے دیگر عوامی منصوبوں کیلئے فنڈز دینے کی درخواست کی۔ آصف زرداری نے کہا میاں صاحب عوام کے ریلیف کیلئے بھی اقدامات کئے جائیں۔ دریں اثناء جے یو آئی ف نے زرداری ہائوس میں ہونے والے اجلاس میں ڈپٹی چیئرمین سینٹ کا عہدہ مانگ لیا۔ مولانا فضل الرحمن نے کہا کہ جے یو آئی ف بھی بڑی جماعت ہے، ڈپٹی چیئرمین کا عہدہ ملنا چاہئے۔ نجی ٹی وی کے مطابق اے این پی اور مسلم لیگ ق نے بھی ڈپٹی چیئرمین سینٹ کے عہدے کی خواہش ظاہر کی ہے۔