نوازشریف نے رضا ربانی کی حمایت کر دی، ڈپٹی چیئرمین سینٹ کے لئے بھی امیدوار نہیں لائیں گے: وزیراعظم

نوازشریف نے رضا ربانی کی حمایت کر دی، ڈپٹی چیئرمین سینٹ کے لئے بھی امیدوار نہیں لائیں گے: وزیراعظم

اسلام آباد (وقائع نگار خصوصی+ نوائے وقت رپورٹ+ نیوز ایجنسیاں) وزیراعظم نوازشریف نے سینٹ کے چیئرمین کے لیے اپوزیشن جماعتوں پیپلز پارٹی، ق لیگ، ایم کیو ایم اور اے این پی کے حمایت یافتہ امیدوار سینیٹر رضا ربانی کی حمایت کرنے کا اعلان کردیا۔ وزیراعظم ہاو¿س میں گزشتہ روز پارلیمانی جماعتوں کے اعزاز میں دیئے گئے ظہرانے سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعظم نے کہا کہ مسلم لیگ (ن) نہ تو سینٹ کے چئیرمین اور نہ ہی نائب چیئرمین کیلئے اپنا امیدوار نامزد کرنا چاہتی تھی۔ ظہرانے میں پی ٹی آئی اور ق لیگ شریک نہیں ہوئیں۔ انہوں نے کہا کہ چونکہ پیر کی شام فیصلہ ہوچکا ہے اسلئے بڑی خوشی کے ساتھ ہم اس فیصلے کی حمایت کرتے ہیں، یہ بالکل ٹھیک فیصلہ ہے۔ میں سمجھتا ہوں رضا ربانی ایک بڑے اچھے آدمی ہیں، پارلیمینٹیرین ہیں اور انکو یہ ذمہ داری سونپی جائیگی تو ہم سب بہت خوشی کے ساتھ اسے قبول کریں گے۔ وزیراعظم کی جانب سے حمایت کے اعلان کے بعد سینیٹر رضا ربانی نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ انکی کوشش ہوگی کہ وہ سب کو ساتھ لیکر چلیں اور جمہوری اداروں کو مضبوط کریں۔ میری کوشش یہ ہوگی کہ جمہوری قدروں کو آگے لیکر چلوں اور پارلیمان کے استحکام اور بالادستی کا دفاع بہت شدومد سے کروں۔ انہوں نے اس خواہش کا اظہار کیا کہ نائب چیئرمین کا انتخاب صوبہ بلوچستان سے ہونا چاہئے۔ اب یہ سیاسی جماعتوں پر منحصر ہے۔ انہوں نے کہا کہ متفقہ امیدوار بنانے پر تمام جماعتوں کا شکریہ ادا کرتا ہوں، میری نامزدگی کا کریڈٹ آصف زرداری کو جاتا ہے، میں ان کے اعتماد پر پورا اترنے کی کوشش کروں گا۔ ظہرانے کے دوران نواز شریف نے یہ شکوہ بھی کیا کہ پیر کی شب پیپلز پارٹی کے شریک چیئرمین آصف زرداری نے جب مسلم لیگ ق، ایم کیو ایم، اے این پی اور جمعیت علمائے اسلام ف کی قیادت کو مشاورت کے لیے عشائیے پر بلایا تو حکمران جماعت کو نظرانداز کر دیا۔ ان کا کہنا تھا کہ وہ چاہتے تھے کہ سب مل کر سینٹ کے چیئرمین اور ڈپٹی چیئرمین کا انتخاب کرتے اور اس سلسلے میں آصف زرداری سے رابطہ بھی ہوا تھا۔ وزیراعظم نواز شریف نے بتایا کہ انہوں نے ظہرانے کی دعوت تمام پارلیمانی جماعتوں کو دی تھی اور انہیں معلوم نہیں تھا کہ ایک روز پہلے ہی کھانے کے بعد یہ فیصلہ ہو جائے گا۔ یاد رہے کہ پیر کو اسلام آباد میں اپوزیشن جماعتوں کے رہنماو¿ں کا اہم اجلاس پیپلز پارٹی کے شریک چیئرمین آصف زرداری کی زیرِصدارت منعقد ہوا جس کے بعد رات گئے صحافیوں سے بات کرتے ہوئے اے این پی کے سربراہ اسفندیار ولی نے اعلان کیا کہ رضا ربانی کی نامزدگی تمام جماعتوں کا متفقہ فیصلہ ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ڈپٹی چیئرمین کے لیے امیدوار بلوچستان سے ہو گا اور وہاں کی جماعتوں سے مشاورت کے بعد اس عہدے کے لیے امیدوار کے نام کا اعلان منگل کو (یعنی آج) کر دیا جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ فاٹا سے متعلق صدارتی آرڈیننس واپس لینے کا فیصلہ ہو گیا ہے۔ اجلاس کے بعد رحمن ملک نے بھی کہا کہ فاٹا میں سینٹ سے الیکشن کے حوالے سے صدارتی آرڈیننس واپس لے لیا گیا ہے جبکہ مولانا فضل الرحمن نے کہا ہے کہ حکومت نے 21ویں آئینی ترمیم پر بھی اتفاق رائے پیدا کرنے کا کہا ہے، وزیراعظم نے کہا کہ چاہتے ہیں سینٹ کے چیئرمین کا انتخاب اتفاق رائے سے ہو، مشاورت میں کوئی حرج نہیں۔ انتخابی اصلاحاتی پیکج تیار کرنے کی رفتار کو تیز کیا جائے، سب جانتے ہیں کہ کون پیسے کی بنیاد پر ممبر بن کر آئے۔ یہ دکھ کی بات ہے کہ پیسوں سے بعض ممبران ایوان بالا میں آئے۔ سینٹ الیکشن میں پیسے کی کھیل کو ختم کیا جائے۔ اپوزیشن کی جانب سے مثبت تنقید قبول کرنی چاہئے۔ پاکستان مزید ٹھوکریں کھانے کا متحمل نہیں ہو سکتا۔ اس موقع پر پارلیمانی رہنماﺅں نے وزیراعظم کی جانب سے رضا ربانی کی حمایت کے فیصلے کی تعریف کی۔ قبل ازیں جے یو آئی (ف) کے سربراہ مولانا فضل الرحمٰن نے وزیراعظم سے ملاقات کی۔ مولانا فضل الرحمن نے رضا ربانی کی حمایت کی۔ مولانا نے کہا کہ رضا ربانی موزوں ترین امیدوار ہیں۔ انہوں نے وزیراعظم کو قائل کیا وزیراعظم نواز شریف سے اے این پی کے سربراہ اسفند یار ولی نے بھی ملاقات کی۔ وزیراعظم کے فیصلے کی ظہرانے میں موجود تمام رہنماﺅں نے تعریف کی۔ شاہ گل آفریدی نے کہا کہ آپ نے ایسا فیصلہ کیا ہے کہ ہماری آئندہ نسلیں بھی اس پر فخر کریں گی۔ رﺅف صدیقی نے کہا کہ ہم آپ کو اتنے بڑے فیصلے پر الطاف حسین کی طرف سے مبارکباد پیش کرتے ہیں۔ مولانا فضل الرحمٰن نے کہا کہ وزیراعظم نے کشادہ دلی سے جمہوری عمل کو تقویت دی ہے۔ حاصل بزنجو نے کہا کہ آپ نے نئی تاریخ رقم کی۔ ایسی مثال تاریخ میں نہیں ملتی۔ اسفند یار ولی نے کہا کہ آپ نے پاکستان کی جمہوری تاریخ میں پہلی بار اتنا عظیم قدم اٹھایا ہے۔ خورشید شاہ نے کہا کہ آپ نے فراخ دلی سے شاندار روایت قائم کی ہے۔ صحافیوں سے بات چیت کرتے ہوئے ڈاکٹر عبدالقیوم سومرو نے بتایا کہ مولانا فضل الرحمن نے وزیراعظم کو منانے میں اہم کردار ادا کیا ہے۔ وزیراعظم نے میاں رضا ربانی کو حکومت اپوزیشن کی جانب سے چیئرمین سینٹ کیلئے متفقہ نامزدگی پر مبارکباد دی۔ دریں اثناءوزیر اطلاعات پرویز رشید نے کہا ہے کہ رضا ربانی پر تمام سیاسی جماعتوں نے اعتماد کا اظہار کیا ہے۔ سینٹ کے نئے سال کی ابتدا مفاہمت سے ہو رہی ہے۔ انہوں نے کہا ہمیں ریاست کے معاملات درست کرنا ہیں۔ تحریک انصاف ہر چیز پر بائکیات کر رہی ہے، اسے بھی مشاورت میں شامل ہونا چاہئے، جوڈیشل کمشن کے حامی ہیں، آپریشن ضرب عضب پر پوری قوم اکٹھی ہوئی ہے۔ ہم نے کبھی نہیں کہا سینٹ چیئرمین کا الیکشن جیتیں گے، مشاورت سے سینٹ چیئرمین لانے کا کہا۔ ڈپٹی چیئرمین کیلئے تمام جماعتیں نام تجویز کریں، حکومت حمایت کرے گی۔ دریں اثناءایم کیو ایم کے قائد الطاف حسین نے سابق صدر آصف علی زرداری کو فون کرکے رضا ربانی کی نامزدگی پر مبارکباد دی، دونوں رہنماﺅں نے سندھ میں مل جل کر کام کرنے پر اتفاق کیا۔ آصف زرداری نے کہا کہ رضا ربانی کا انتخاب جمہوریت کی فتح ہے۔ دریں اثناءسابق وزیراعظم راجہ پرویز اشرف نے کہا کہ رضا ربانی کی حمایت پر وزیراعظم کا شکریہ ادا کرتے ہیں، ملک کو مخاصمت کی نہیں، مفاہمت کی ضرورت ہے۔ فرحت اللہ بابر نے کہا کہ میثاق جمہوریت پر آج صحیح معنوں میں عمل ہوا۔ دریں اثناءنومنتخب سنیٹرز کو کل اجلاس میں شرکت کیلئے دعوت نامے جاری کر دیئے گئے۔ 12 مارچ بروز جمعرات سینیٹرز کی حلف برداری ہو گی۔