جن سے ماضی میں غلطیاں ہوئیں اورمطلوب تھے انہیں نائن زیروکومصیبت میں نہیں ڈالنے چاہیئے تھا: الطاف حسین

خبریں ماخذ  |  خصوصی نامہ نگار
 جن سے ماضی میں غلطیاں ہوئیں اورمطلوب تھے انہیں نائن زیروکومصیبت میں نہیں ڈالنے چاہیئے تھا: الطاف حسین

کراچی میں ایم کیوایم کےمرکز نائن زیروپر کارکنوں سے ٹیلیفونک گفتگو کرتے ہوئے الطاف حسین کا کہنا تھا کہ رینجرز نے نائن زیرو اورمیری بہن سائرہ بیگم کے گھر پرچھاپہ مارا،جبکہ رینجرز اہکاروں نے طالبعلم وقاص شاہ کوگولی مارکرقتل کیا،انہوں نے کہا کہ نائن زیروسے ساٹھ سے زائد افراد کوگرفتارکیا گیا،مرکز سے برآمد ہونیوالے اسلحےسے ایم کیوایم کاکوئی تعلق نہیں،اگراسلحہ ہماراہوتا توکیا نائن زیرو میں رکھتے،انہوں نے الزام عائد کیا کہ رینجرز اہلکارکمبل میں چھپاکراسلحہ لائے-
الطاف حسین نے رابطہ کمیٹی کومخاطب  کرتے ہوئے کہا کہ وہ کان کھول کرسن لیں،ایم کیوایم میں دہشت گردوں کی کوئی گنجائش نہیں،اگرماضی میں کسی سے غلطی ہوئی اوروہ مطلوب تھے تونائن زیروکومصیبت میں نہ ڈالتے،اتنی دنیاپڑی ہے کہیں اورچلے جاتے-
الطاف حسین کا کہنا تھا سپریم  کورٹ کے مطابق تمام سیاسی جماعتوں کے عسکری ونگ ہیں لیکن کارروائی صرف ایم کیوایم  کیخلاف کی گئی، اسٹیبلشمنٹ ایم کیوایم کوقبول نہیں کرتی ،رابطہ کمیٹی  پارٹی سے الگ کردے ،اورانہیں خدمت خلق فاؤنڈیشن میں رہنے دیا جائے-
انہوں نے کہا کہ  کچھ لوگ قانون کی زد میں آتے ہیں،جبکہ کچھ لوگ قانون سے بالاتر ہیں،،الطاف حسین نے کہا کہ  ٹارگٹ کلنگ کیخلاف فوجی آپریشن کامطالبہ ایم کیوایم نے ہی کیا تھا ،فوج تو نہیں آئی لیکن رینجرز سے آپریشن کرادیا گیا،ایم کیوایم کے کارکنوں پرتشدد کرکے ان کی لاشیں سڑک پرپھینک دی جاتی ہیں،ہمارے کیخلاف ظلم کی انتہاہوچکی ہے-