کالا باغ ڈیم سیاست کی نذر نہ ہوتا تو تھر میں بچے قحط کا شکار نہ ہوتے : وفاقی وزراء

کالا باغ ڈیم سیاست کی نذر نہ ہوتا تو تھر میں بچے قحط کا شکار نہ ہوتے : وفاقی وزراء

لاہور (سٹاف رپورٹر) وفاقی وزراء نے کہا ہے کہ کالا باغ ڈیم سیاست کی نذر نہ ہوتا تو آج تھر میں بچے قحط کا شکار نہ ہوتے‘ 2025ء کے ویژن کے تحت دیامر بھاشا ڈیم تعمیر کریں گے تاکہ 10 سے 15 برسوں میں ملک قحط کا شکار نہ ہو جائے‘ ریلوے کو چوسنی نہیں دیں گے بلکہ طاقت کا ٹیکہ لگائیں گے اور اسے معیشت کی ریڑھ کی ہڈی بنائیں گے‘ رائل پام اور بزنس ٹرین کی ڈیل کرپٹ ڈیل تھی اس کے چوروں نے مہنگے وکیل کر لئے ہیں لیکن ان کا آخر تک پیچھا کریں گے۔ ریلوے اور پی آئی اے کو مضبوط ادارہ بنا کر ہی دم لیں گے‘ صرف 6 ماہ میں 3 ارب روپے کا زائد ریونیو کمایا ہے‘ وزیراعظم نوازشریف پاکستان کو ایشیا کا ٹائیگر بنا کر ہی دم لیں گے‘ ریلوے ٹریک کی رفتار 80 کلومیٹر فی گھنٹہ سے بڑھا کر 140 کلومیٹر فی گھنٹہ تک لے جائیں گے‘ آئندہ مالی سال میں کھوکھرا پار اور کراچی کینٹ کی ماڈل تعمیر کریں گے۔ ریلوے کی نجکاری دور دور تک زیرغور نہیں ہے۔ ریلوے ہیڈکوارٹرز لاہور میں وفاقی وزیر پلاننگ اینڈ ڈویلپمنٹ احسن اقبال اور وفاقی وزیر ریلوے خواجہ سعد رفیق مشترکہ پریس کانفرنس سے خطاب کر رہے تھے۔ احسن اقبال نے کہا کہ میاں نوازشریف پاکستان کو ایشیا کا ٹائیگر بنانا چاہتے ہیں اور یہ اس وقت ہی ممکن ہو سکتا ہے جب معیشت مضبوط ہو اور مضبوط انفراسٹرکچر کا قیام ہو ہم ریلوے کو جنوبی ایشیا کاسب سے بڑا ادارہ بنائیں گے۔ اس سلسلے میں ہماری چین کے ساتھ بات چیت چل رہی ہے جس کے تحت کراچی‘ لاہور اور پشاور سیکٹر کو ماڈرن کریں گے۔ انہوں نے کہا کہ جس طرح ہم نے 1998ء میں 2010ء کے ویژن کے مطابق ملک کو چلانے کیلئے پلاننگ کی لیکن اچانک ایک آمر پرویز مشرف نے ہماری حکومت کا تختہ الٹ دیا اور ملک تباہ و برباد ہو گیا اسی طرح ہم اب 2014ء میں 2025ء کے ویژن کے مطابق پلاننگ کر رہے ہیں اور دیامر بھاشا ڈیم کی تعمیر کی بنیاد رکھی دی ہے کیونکہ ڈیمز 5 یا 6 سالوں میں نہیں بنائے جا سکتے اس کو بنانے کیلئے 10 سے 15 سال درکار ہوتے ہیں اور اگر 10 سالوں میں ڈیمز بنائے گئے تو ملک میں 20 گنا پانی کا ذخیرہ ہو سکتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اگر دیامر بھاشا ڈیم وقت پر تعمیر ہوتا تو ملک میں اس وقت تھر کی طرح قحط نہ ہوتا۔ انہوں نے کہا کہ کالا باغ ڈیم کے حوالے سے صوبوں میں اتفاق رائے نہیں اور ہم کوئی ایسا منصوبہ نہیں بنانا چاہتے جس سے وفاق کمزور ہو تاہم دیامر بھاشا ڈیم پر تمام صوبوں کا اتفاق ہے۔ اگر دیامر بھاشا ڈیم نہ بنایا گیا تو 10 سے 20 سال ملک کی آدھی آبادی قحط سالی کا شکار ہو جائے گی۔ وفاقی وزیر برائے پلاننگ اینڈ ڈویلپمنٹ احسن اقبال نے کہا کہ آئندہ 5 سالوں میں کسی اور سے نہیں بلکہ تحریک انصاف کے ساتھ میچ ہو گا‘ ہم طالبان کی سوچ نہیں رکھتے ہم علامہ محمد اقبالؒ اور قائداعظم محمد علی جناحؒ کے پیروکار ہیں۔ 2018ء تک ملک سے لوڈشیڈنگ اور مایوسی ختم کر دیں گے۔ وہ مقامی ہوٹل میں مارکون کمپنی کی سالانہ تقریب سے خطاب کر رہے تھے۔ احسن اقبال نے کہا کہ اس وقت بیروزگاری اور مہنگائی ہمارے لئے سب سے بڑا چیلنج ہے جسے قبول کیا ہے لیکن پرائیویٹ شعبے میں مارکیٹنگ کمپنیوں نے بیروزگاری کو ختم کرنے میں مدد دی ہے جو لائق تحسین ہے۔