طالبان کی جنگ بندی میں توسیع کی پیشکش…مذاکراتی کمیٹی میں فوج شامل نہیں ہو گی : نثار

طالبان کی جنگ بندی میں توسیع کی پیشکش…مذاکراتی کمیٹی میں فوج شامل نہیں ہو گی : نثار

اسلام آباد(نیوز ایجنسیاں + نوائے وقت رپورٹ) طالبان نے حکومت کو جنگ بندی معاہدے میں توسیع کی پیشکش کر دی۔ میڈیا رپورٹس کے مطابق پیر کی شام  وفاقی وزیر داخلہ چوہدری نثار علی خان اور طالبان کمیٹی کے سربراہ مولانا سمیع الحق کے درمیان ٹیلی فونک رابطہ ہوا ہے جس میںوزیر داخلہ نے مولانا سمیع الحق کو یقین دہانی کرائی ہے کہ حکومتی مذاکراتی ٹیم کا اعلان ایک دو روز میں کر دیا جائے گا جبکہ مولانا سمیع الحق کا کہنا ہے کہ طالبان جنگ بندی معاہدے میں توسیع کرنا چاہتے ہیں۔ چودھری نثار کا کہنا تھا کہ حکومتی مذاکراتی ٹیم کی تشکیل کے لئے پاک فوج، عمران خان اور دیگر سیاسی رہنمائوں سے رابطے جاری ہیں۔ وزیر داخلہ نے مولانا سمیع الحق سے کہا کہ فائر بندی میں توسیع کے لئے اپنا کردار ادا کریں۔ دونوں رہنمائوں نے ملک کی موجودہ صورتحال مذاکرات کے اگلے مرحلے کے حوالے سے تفصیلی تبادلہ خیال کیا۔ طالبان رابطہ کمیٹی کے کوارڈی نیٹر مولانا یوسف شاہ نے کہا ہے کہ حکومتی کمیٹی میں شامل ہونے والے ناموں پر وزیر داخلہ چودھری نثار اور مولانا سمیع الحق کی مشاورت ہو چکی، حکومتی کمیٹی کے ناموں پر طالبان کا ردعمل آنے کے بعد براہ راست مذاکرات کے لئے طالبان سے مشاورت ہوگی۔ طالبان سے مذاکرات کے لئے جگہ کا تعین طالبان سے مشاورت کے بعد طے کیا جائے گا۔ مشاورت کے بعد امکان ہے کہ دو دن بعد طالبان کمیٹی دوبارہ شمالی وزیرستان کا دورہ کرے گی۔ دریں اثناء مولانا سید یوسف شاہ کا کہنا تھا کہ حکومت کی طرف سے اب تک مذاکراتی ٹیم کے نئے  نام نہیں دئیے گئے غیر معمولی تاخیر سے امن مذاکراتی عمل میں مشکلات پیدا ہونے کا خدشہ ہے۔ مولانا سمیع الحق کی ہدایت پر طالبان سیاسی شوریٰ سے رابطہ ہوا ہے۔ طالبان جنگ بندی کے معاہد ے میں توسیع کرنے کے خواہشمند ہیں۔ آئی این پی کے مطابق طالبان کمیٹی کے رکن پروفیسر ابراہیم نے کہا ہے کہ طالبان سے ملاقات کے لئے حکومتی نمائندے کی نامزدگی کا انتظار ہے، اب حکومتی نمائندے کی نامزدگی کے بعد ہی طالبان سے ملاقات کرینگے۔ پروفیسر ابراہیم نے کہا ہے کہ انہیں تحریک طالبان پاکستان نے نامزد کیا ہے ہماری کمیٹی میں کوئی تبدیلی نہیں کی جائے گی۔ ایک انٹرویو میں وزیر داخلہ نے کہا کہ نئی مذاکراتی کمیٹی کا اعلان2 سے 3دن میں کیا جائے گا، نئی کمیٹی میں فوج کا نمائندہ نہیں ہوگا، کمیٹی میں 3یا 4 بیورو کریٹس ہوں گے۔ ایک سوال کے جواب میں چوہدری نثار نے فوج کا عملی رویہ ہمیشہ مثبت رہا ہے اور اس نے کسی بھی سٹیج پر کمیٹی یا مذاکراتی عمل پر کسی قسم کے خدشات کا اظہار نہیں کیا۔ ابھی طے کیا جائے گا کہ مذاکرات کہاں ہوں گے، اس میں کون کون شامل ہو گا اور تمام معاملات مذاکرات کے پہل مرحلے میں ہی طے کئے جائیں گے۔ نئی کمیٹی طالبان سے براہ راست مذاکرات کرے گی۔ تاہم نئی کمیٹی کو فوج کی حمایت حاصل ہوگی۔
چودھری نثار / مولانا سمیع الحق