طالبان کا دفتر مرکز کی مشاورت سے کھولیں گے : عمران: گلزار خان مذاکراتی کمیٹی کیلئے نامزد

طالبان کا دفتر مرکز کی مشاورت سے کھولیں گے : عمران: گلزار خان مذاکراتی کمیٹی کیلئے نامزد

لاہور (خصوصی رپورٹر) عمران خان نے کہا ہے کہ شمالی وزیرستان میں فوجی آپریشن مسئلے کا حل نہیں بلکہ طالبان کے جو گروپ بات کرنا چاہتے ہیں ان سے مذاکرات کئے جائیں اور جو بات نہیں کرتے ان سے لڑنا ہو گا۔ ہماری پوری کوشش ہے کہ مذاکرات کامیاب ہوں اور اس موقع کے حصول کے لئے ہم جو کچھ کر سکے کرینگے۔ اعجاز چودھری، ڈاکٹر یاسمین راشد، عندلیب عباس، ابرار الحق اور نعیم الحق کے ساتھ کینٹ آفس میں پریس کانفرنس سے خطاب میں عمران خان نے مزید کہا کہ مجھے طالبان خان کہنے والی پیپلزپارٹی، متحدہ قومی موومنٹ اور عوامی نیشنل پارٹی نے پچھلے پانچ برس امریکی اشارے پر طالبان سے جنگ لڑی اگر طالبان مارنے سے ختم ہو سکتے ہیں تو پانچ سال کے عرصے میں ختم کیوں نہیں ہوئے۔ امریکہ نواز لابی پاکستان کو جنگ کی طرف دھکیل رہی ہے۔ امریکہ افغانستان سے جانے سے پہلے حقانی نیٹ ورک ختم کرنے کے لئے ہمیں استعمال کرنا چاہتا ہے۔ مذاکرات کے حامی طالبان کو بات چیت سے علیحدہ کر دیں تو باقی بچنے والے گروپوں سے معمولی جنگ ہو گی اس کے برعکس شمالی وزیرستان پر فوجی حملے سے تمام طالبان گروپ اکٹھے ہو جائیں گے اور جنگ پاکستان میں پھیل جائے گی۔ شمالی وزیرستان میں آپریشن ہوا تو پورا ملک جنگ میں پھنس جائے گا۔ نوازشریف سے ملاقات کے سوال پر عمران خان نے کہا کہ ابھی ایسی کوئی بات نہیں ہے۔ انہوں نے طالبان سے مذاکرات کے لئے ضروری قرار دیا کہ طالبان کو یہاں دفتر قائم کرنے دیا جائے۔ یہ کوئی طریقہ نہیں کہ مذاکرات کے دوران بھی پہاڑوں میں چھپے پھریں۔ اس سوال پر کہ کالعدم تحریک طالبان پاکستان اگر خیبر پی کے یا کسی اور صوبے میں دفتر قائم کرتی ہے تو وفاقی حکومت کیا ایسا کرنے کی اجازت دے گی۔ عمران خان نے کہاکہ ہم مرکزی حکومت کی مشاورت کے بغیر کوئی دفتر نہیں کھلوائیں گے۔ پہلی مرتبہ سیاسی حکومت مذاکرات کر رہی ہے لیکن اسے موقع نہیں دیا جا رہا، کچھ فورسز مذاکرات روکنے کی کوشش کر رہی ہیں۔ ہماری پولیس دہشت گردی کا مقابلہ کرنے کے قابل نہیں، دہشت گردی کا مقابلہ کرنے کے لئے پولیس کی ٹریننگ ہونی چاہئے، انسداد دہشت گردی فورسز کا قیام ضروری ہے، آپریشن دہشت گردی کا علاج نہیں ہیں، پچھلے 10برس میں 6ہزار آپریشن ہوئے، پچھلے پانچ سال میں 370خودکش حملے اور 13ہزار 150دہشت گردی کی کارروائیاں ہوئیں۔ عمران نے کہاکہ پیپلزپارٹی این آر او مارکہ ہے، دوسری پارٹی کے سربراہ سالہا سال سے برطانوی چھتری تلے پناہ لئے ہوئے ہیں، تیسری جماعت کے لیڈر کے ماموں ، والدہ کہتے ہیں کہ اے این پی کے لیڈروں کو 35ملین ڈالر دئیے گئے۔ انہوں نے فیصل آباد اور نارووال کے اضلاع سے تحریک انصاف میں شامل ہونے والے سابق ممبران اسمبلی، سٹی ناظم اور ممبران اسمبلی کے رشتے داروں کی شمولیت کا خیرمقدم کیا۔ انہوں نے ضمنی الیکشن اور 11مئی کے الیکشن میں دھاندلی کا ذمہ دار چاروں صوبائی الیکشن کمشنروں کو قرار دیا اور کہا کہ جسٹس فخر الدین جی ابراہیم بحیثیت الیکشن کمشنر بے بس رہے اور جسٹس (ر) بھگوان داس اپنی تمام تر قابلیت کے باوجود بے بس رہیں گے، شفاف الیکشن کا واحد طریقہ بائیو میٹرک الیکشن ہیں۔ عمران نے سابق چیف جسٹس پاکستان کو تنقید کا نشانہ بنایا اور کہا کہ وہ شراب کی بوتل کا ازخود نوٹس لے لیتے تھے اور ہم نے انتخابات میں پنکچروں کا معاملہ اٹھایا تو انہوں نے کہاکہ ہمارے پاس 20ہزار کیس ہیں۔ آئی این پی کے مطابق عمران خان نے پنجاب کے ضمنی الیکشن میں مبینہ دھاندلی کے خلاف الیکشن کمشن سے رجوع کرنے کا اعلان کرتے ہوئے کہا ہے کہ جمعرات کو قائم مقام چیف الیکشن کمشنر سے ملاقات کروں گا‘ عام انتخابات کے4حلقوں اور ضمنی انتخابات کی دھاندلی سے متعلق بات کرونگا‘  فیوڈل مائنڈ سیٹ ختم ہونے تک تھرپارکر جیسے واقعات ہوتے رہیں گے‘ جاگیردارانہ ذہنیت کی وجہ سے تھرپارکر میں قحط کی صورتحال پیدا ہوئی۔ ملک میں آج جتنا برا حال عوام کا ہے اس کی مثال ماضی میں نہیں ملتی، ملک میں مہنگائی کی انتہا ہے، یہاں پانی ہے نہ بجلی۔ تھرپارکر کے قحط کی ذمہ دار جاگیردارانہ ذہنیت ہے۔ جب لوگوں کے مال مویشی مر رہے تھے تو وہاں فیسٹیول منایا جا رہا تھا‘ کیا سندھ حکومت کو ایک ماہ قبل صورتحال کا علم نہیں تھا۔اے این این  کے مطابق طالبان سے براہ راست مذاکرات کیلئے حکومت کی جانب سے طلب کردہ نام پرتحریک انصاف نے گلزار خان کو اپنا نمائندہ مقررکردیا۔ نجی ٹی کے مطابق طالبان سے مذاکرات کرنیوالی 4  رکنی حکومتی کمیٹی کے تحلیل کئے جانے کے بعد حکومت نے نئی کمیٹی میں تحریک انصاف کے رکن کی شمولیت کیلئے عمران خان سے رابطہ کیا تھا، پارٹی رہنماؤں کے درمیان مشاورت کے بعد تحریک انصاف نے طالبان سے مذاکرات کے لئے حکومت کے ساتھ ہر ممکن تعاون پر اتفاق کے ساتھ پارٹی کی جانب سے رکن قومی اسمبلی گلزار خان کو اپنا نمائندہ مقررکردیا ہے۔