سینٹ : بھارت کیساتھ پانی کے تنازعات کو جامع مذاکرات کا حصہ بنانے کی متفقہ قرارداد

سینٹ : بھارت کیساتھ پانی کے تنازعات کو جامع مذاکرات کا حصہ بنانے کی متفقہ قرارداد

 اسلام آباد (نامہ نگار+ ایجنسیاں) ایوان بالا (سینٹ) نے بھارت کے ساتھ پانی کے تمام تنازعات کو جامع مذاکرات کا حصہ بنانے کی قرارداد اتفاق رائے سے منظور کر لی۔ قائد ایوان راجہ ظفر الحق کی جانب سے ایوان کو بتایا گیا کہ بھارت کیساتھ پانی کے تمام تنازعات کو پہلے ہی جامع مذاکرات کا حصہ بنایا جا چکا ہے۔ حاجی عدیل نے صغریٰ امام کی طرف سے 13 جنوری کو پیش کردہ قرارداد کہ پاکستان کے بھارت کے ساتھ پانی کے تمام تنازعات کو جامع مذاکرات یا بھارت کے ساتھ بحال یا شروع کئے گئے کسی دیگر مذاکرات یا مذاکراتی عمل میں شامل کرے‘‘ پر بحث کا آغاز کرتے ہوئے کہا پانی کے تنازعہ پر عالمی عدالت میں فیصلے ہمارے حق میں نہیں ہوسکے۔ ایوب خان کے دور سے اب تک بھارت کے ساتھ پانی کے تنازعہ پر مذاکرات میں پاکستان کو نقصان پہنچا، ہمارے بعض مذاکرات کار اس معاملے پر بک گئے یا دبائو میں آگئے، سینیٹر صغریٰ امام نے کہا پاکستان میں پانی کا مسئلہ انتہائی اہمیت کا حامل ہے، ہماری آبادی بہت بڑی ہے اور ہمیں آبی انتظام پر توجہ دینا ہو گی، اپنے وسائل کو بہتر طریقے سے استعمال کرنا ہوگا، پاکستان نے بھارت کے ساتھ پانی کے تنازعات بھرپور طریقے سے نہیں اٹھائے، بھارت معاہدے کی خلاف ورزی کرتے ہوئے ڈیم تعمیر کر رہا ہے، پانی کے مسئلہ پر بھارت کے ساتھ ہمارے تنازعات بڑھیں گے، حکومت بھارت کے ساتھ جو مذاکرات یا بات چیت کر رہی ہے اس میں پانی کے تنازعات کو بھی ایجنڈے میں شامل کیا جائے، ہمارے پانی کی ٹائمنگ بھارت کے کنٹرول میں ہے وہ جب چاہے گا پانی چھوڑے گا اور جب چاہے گا روک لے گا، طلحہ محمود نے کہا بھارت نے پاکستان کے ساتھ معاہدوں کی خلاف ورزی کرتے ہوئے آبی ذخائر تعمیر کئے، بھارت نے آبی دہشت گردی شروع کر رکھی ہے، پانی کے بغیر ہماری زراعت نہیں چل سکتی۔ کریم احمد خواجہ نے بھی قرارداد کی حمایت کرتے ہوئے کہا ہمیں اپنے حق کے لئے بین الاقوامی سطح پر لابنگ کرنی چاہیے، مشاہد حسین سید نے کہا بھارت جان بوجھ کر اور مستقل طور پر سندھ طاس معاہدے کی خلاف ورزی کر رہا ہے، ہم بھارت کو پسندیدہ ترین ملک کا درجہ دینے جا رہے ہیں، ہم تعلقات کے معمول پر ہونے کی حمایت کرتے ہیں لیکن یہ دوطرفہ بنیادوں پر ہونا چاہیے۔ ایوان کی صدارت کرنے والے سینیٹر کرنل (ر) سید طاہر حسین مشہدی نے قرارداد پر ایوان کی رائے حاصل کی، ایوان نے اتفاق رائے سے قرارداد کی منظوری دیدی۔ نوائے وقت رپورٹ کے مطابق سینیٹر مشاہد حسین نے کہا اطلاعات ہیں پاکستان رواں ماہ بھارت کو پسندیدہ ترین ملک کا درجہ دینے جا رہا ہے۔ سینٹ کے اجلاس میں اظہار خیال کرتے ہوئے انہوں نے کہا بھارت سندھ طاس معاہدے کی خلاف ورزی کر رہا ہے۔ بھارت کو پسندیدہ ترین ملک قرار دینے کی اتنی جلدی کیوں ہے۔ آئی این پی کے مطابق سینٹ نے متفقہ قرارداد کے ذریعے حکومت سے مطالبہ کیا پاکستانی دریائوں پر متنازعہ بھارتی ڈیموں کی تعمیر رکوانے کیلئے اقدامات کئے جائیں۔ سینیٹ نے جیلوں میں قیدیوں کو فنی تعلیم و تربیت فراہم کرنے کے بارے میں سینیٹر سحر کامران کی قرارداد اتفاق رائے سے منظور کر لی، ایوان نے وفاقی حکومت کو ہدایت کی وہ چاروں صوبائی حکومتوں کو پاکستانی جیلوں میں قیدیوں کو ووکیشنل ٹریننگ اور تعلیمی سہولتیں فراہم کرنے کی سفارش کرے، قائد ایوان راجہ ظفر الحق نے تجویز دی تھی جیلیں صوبائی حکومتوں کے کنٹرول میں ہیں اور اٹھارہویں ترمیم کے بعد وفاقی حکومت صوبائی معاملات میں مداخلت نہیں کر سکتی، اس لئے اس قرار داد کو منظور نہ کیا جائے تاہم اجلاس کی صدارت کرنے والے پینل آف چیئر کے ممبر کرنل(ر)عامر مشہدی کی جانب سے ایوان کی رائے لینے پر جہانگیر بدر، حاجی عدیل، سعیدہ اقبال، فرحت اللہ بابر سمیت اپوزیشن کے اکثر ارکان نے راجہ ظفر الحق کی تجویز سے اختلاف کرتے ہوئے رائے دی صوبوں کو سفارش کرنے سے صوبائی خود مختاری متاثر نہیں ہو گی۔ ایوان کی رائے سامنے آنے پر راجہ ظفر الحق نے اپنی تجویز پر زور نہیں دیا، جس کے بعد طاہر مشہدی کے استفسار پر حکومت کی جانب سے پارلیمانی امور کے وزیر مملکت شیخ آفتاب نے کہا وہ قرارداد کی مخالفت نہیں کریں گے، جس پر ایوان نے اتفاق رائے سے قرارداد منظور کر لی۔ ثناء نیوز کے مطابق سینٹ نے  پاکستان کے حاضر سروس سرکاری ملازمین  کے  غیر ملکی و بین الاقوامی اداروں میں ملازمت کرنے پر قدغن کے بل کو اتفاق رائے سے منظور کر  لیا، بل کے تحت سرکاری ملازمین چھٹی لے کر بھی غیر ملکی  و بین الاقوامی اداروں میں ملازمتیں حاصل نہیں کر سکیں گے۔ سول سرونٹس ایکٹ 1973ء میں ترمیم کی منظوری دی گئی۔ وزیر مملکت برائے پارلیمانی امور شیخ آفتاب احمد نے بل کی مخالفت نہیں کی۔ پیپلز پارٹی کی سینیٹر سیدہ صغری امام نے سول سرونٹس ایکٹ میں مزید ترمیم کا بل پیش کیا۔ بل پر بحث کرتے سعیدہ اقبال، نجمہ حمید اور بل کی محرک نے کہا ہمارے سرکاری ملازمین کو غیر ملکی اداروں میں بھی خدمات سر انجام دینے کی اجازت حاصل ہے جبکہ دوسرے کسی اور ملک میں ایسا نہیں ہوتا۔ صدر سیشن طاہر حسین مشہدی نے بل پر رائے شماری کرائی بل کو اتفاق رائے  سے منظور کر لیا گیا۔ این این آئی کے مطابق سینیٹ میں قائد ایوان راجہ محمد ظفرالحق کی استدعا پر بینظیربھٹو شہید اور ڈاکٹر نوازشریف کے درمیان میثاق جمہوریت پر عملدرآمد کرنے خصوصاً تمام صوبوں سے ججوں کی مساوی تعداد کے ساتھ آئینی عدالت قائم کرنے سے متعلق پیپلزپارٹی کے سینیٹر کریم خواجہ کی قرارداد موخر کردی گئی۔ مزید براں سینٹ نے فاٹا کو عسکریت پسند نیٹ ورکس سے صاف کرنے، متاثرین اور آئی ڈی پیز کی بحالی کیلئے قرارداد پر بحث (آج) منگل تک کیلئے موخر کر دی۔ اے این پی کے سینیٹر افراسیاب خٹک نے قرارداد پیش کی یہ ایوان حکومت پر زور دیتا ہے فاٹا کو عسکریت پسند نیٹ ورکس سے صاف کرے۔ متاثرین کا ازالہ کرنے، آئی ڈی پیز کو ریلیف یا بحالی اور لوگوں کو معاشرتی اقتصادی ترقی کیلئے وسیع پروگرام کیلئے قابل عمل منصوبہ تیار کرے اور اسے منظرعام پر لایا جائے اس پر وزیر مملکت پارلیمانی امور شیخ آفتاب نے کہا اس معاملے کو فی الحال موخر کر دیا جائے کیونکہ متعلقہ وزیر موجود نہیں۔ آن لائن کے مطابق بابر اعوان، ہمایوں مندوخیل، رحمن ملک اور حاجی عدیل سمیت دیگر سینیٹرز نے پرویز مشرف کو فول پروف سکیورٹی فراہم کرنے کا حکومت سے مطالبہ کیا ہے۔ آئی این پی کے مطابق سینٹ میں اے این پی کے سینیٹر زاہد خان اور پریذائڈنگ افسر کرنل (ر) طاہر حسین مشہدی میں تلخ کلامی ہوئی، مسلم لیگ (ن) کے سینیٹر مشاہداللہ خان کی طویل تقریر کے دوران سینیٹر زاہد خان کھڑے ہو گئے اور ان کی تقریر ختم کرانے کا مطالبہ کر دیا جس پر پریذائڈنگ افسر نے کہا آپ مجھے ڈکٹیٹ نہیں کر سکتے رولز کا خیال کریں۔ سینٹ میں حکومت اور اپوزیشن جماعتوں کے درمیان تلخ کلامی ہوئی اور سخت جملوں کا تبادلہ ہوا۔ چیئرمین سینٹ کی رولنگ کو بھی دونوں جماعتوں کے ارکان نے تسلیم نہ کیا، حکومت سینٹ میں ممبران کی مطلوبہ تعداد پوری نہ کر سکی، کورم کی نشاندہی پر اجلاس ملتوی کر دیا۔ حکومتی ارکان نے پی آئی اے میں کرپشن کی نیب اور ایف آئی اے سے تحقیقات کرانے کا مطالبہ کر دیا۔ سینیٹر مشاہداللہ نے کہا پی آئی اے میں کرپشن کی نیب اور ایف آئی اے سے تحقیقات ہونی چاہئے کسی کو پی آئی اے سے نکالا نہیں جائے گا، 2011ء میں پیپلز پارٹی نے 31 اداروں کی نجکاری کی منظوری دی اب مخالفت کر کے سیاسی پوائنٹ سکورنگ کی جا رہی ہے۔ این این آئی کے مطابق وفاقی وزیر پٹرولیم و قدرتی وسائل شاہد خاقان عباسی نے کہا ہے ایران پر بین الاقوامی پابندیوں کے ختم ہونے کے 30 ماہ کے اندر ایران سے گیس کی درآمد شروع ہو جائیگی، پاکستان کو گیس کی ضرورت ہے، ایل این جی کم سے کم قیمت میں خریدیں گے، ایل این جی کی درآمد رواں سال شروع ہو جائے گی۔ آئی این پی کے مطابق سینٹ میں اپوزیشن نے پی آئی اے کی نجکاری کی شدید مخالفت کرتے ہوئے کہا حکومت مخصوص لوگوں کو نوازنے کیلئے قومی ائرلائن کو اونے پونے داموں فروخت کرنا چاہتی ہے۔