پاکستان کو ”عزیز ہم وطنو“ کہہ کر اقتدار پر قبضہ کرنیوالے جرنیلوں کی ضرورت نہیں : مجید نظامی

راولپنڈی (نوائے وقت رپورٹ + اپنے سٹاف رپورٹر سے) نظریہ پاکستان ٹرسٹ کے چیئرمین اور نوائے وقت گروپ کے ایڈیٹر انچیف جناب مجید نظامی نے کہا ہے کہ پاکستان کو عزیز ہم وطنو کہہ کر اقتدار پر قبضہ کرنے والے جرنیلوں کی ضرورت نہیں بلکہ ملک کا دفاع کرنے والے جرنیلوں کی ضرورت ہے ۔ اقتدار پر قبضہ کرنے والے جرنیلوں سے میرا ہمیشہ اٹ کھڑکا رہا ہے اگر پاکستان ایٹمی دھماکہ نہ کرتا تو اس کا قائم رہنا مشکل تھا۔ امریکہ بھارت اسرائیل کی تکون سے محتاط رہنے کی ضرورت ہے ۔ یہ ہمارے دشمن ہیں ان سے دو دو ہاتھ کرنے چاہئیں ایسے ایٹمی میزائل تیار کرنے چاہئیں جو اسرائیل کو نشانہ بنا سکیں اور نیو یارک تک جائیں پاکستان کو بھارت سے خطرہ ہے اس نے روز اول سے پاکستان کو تسلیم نہیں کیا پہلے بنگلہ دیش بنایا اب بلوچستان میں ایک الگ ریاست بنانا چاہتا ہے ۔ ہماری سرحدوں کے قریب امریکہ اور بھارت نے مشترکہ فوجی مشقیں شروع کررکھی ہیں ہم پوچھتے ہیں امریکہ بہادر ان مشقوں سے تمہارا کیا تعلق ہے تم تو ہماری دوستی کا بھی دم بھرتے ہو۔ انہوں نے ان خیالات کا اظہار انجمن فیض الاسلام اور نظریہ پاکستان ٹرسٹ لاہور کے تعاون سے جناح اقبال فکری فورم راولپنڈی اسلام آباد کے زیر اہتمام غلام قادر ہال فیض الاسلام کمپلیکس میں معروف کالم نویس رانا عبدالباقی کی نئی کتاب ”اکھنڈ بھارت ‘ جوہری بالا دستی اور ڈاکٹر عبدالقدیر خان“ کی تقریب رونمائی میں صدارتی خطاب کرتے ہوئے کیا جس میں سابق آرمی چیف جنرل مرزا اسلم بیگ‘ سابق سیکرٹری خارجہ امور محمد اکرم ذکی‘ سابق وفاقی وزیرڈاکٹر غلام حسین‘ انجمن فیض اسلام کے صدر میاں صدیق اکبر‘ سابق ایڈیشنل سیکرٹری اطلاعات ونشریات لطیف الفت ‘ صاحبزادہ سلطان احمد علی‘ سلطانہ فا¶نڈیشن کے چیئرمین ڈاکٹر نعیم غنی‘ گرین ٹاسک فورس کے چیئرمین ڈاکٹر جمال ناصر‘ ماہرامراض چشم ڈاکٹر مظہر قیوم‘ سابق ڈی جی آئی ایس آئی جنرل حمید گل کے صاحبزادے عبداللہ گل‘ معروف ماہر تعلیم ڈاکٹرمقصودہ حسین‘ سینئر صحافی جاوید علی بھٹی اور کتاب کے مصنف رانا عبدالباقی نے خطاب کیا ‘ جناب مجید نظامی نے کہا کہ رانا باقی جیسے لوگوں کو باقی رہنا چاہیے ‘ اور وہ اس طرح کے کام جاری وساری رکھیں۔ جہاں تک ایٹم بم کا تعلق ہے ڈاکٹر عبدالقدیر خان اس کے باپ ہیں لیکن اس کی ابتداءبھٹو شہید نے کی تھی۔ انتہا نوازشریف نے کی انہوں نے بم کی تکمیل کی۔ اس دھماکے سے پہلے نوازشریف وزیراعظم تھے۔ وہ مختلف لوگوں کے ساتھ مشورہ کررہے تھے انہوں نے ایڈیٹروں کو بھی بلایا جہاں بعض ایڈیٹرز نے مشورہ دیا کہ دھماکہ نہ کریں پہلے ہی ہمیں پیسوں کی ضرورت ہے مجھ سے پوچھا تو میں نے کہا کہ آپ دھماکہ کریں ورنہ قوم آپ کا دھماکہ کر دے گی۔ انہوں نے دھماکہ کرکے چاغی کے پہاڑوں کو سفید کر دیا اس پر جب ڈاکٹر عبدالقدیر خان کو ہلال پاکستان کا اعزاز دیا گیا تو مجھے بھی یہ اعزاز دیا گیا میں نے استفار کیا ڈاکٹر عبدالقدیر خان نے تو ایٹم بم بنایا ہے مجھے یہ اعزاز کیوں دے رہے ہیں تو وزیراعظم نوازشریف نے کہا کہ آپ نے یہ دھماکہ کرایا ہے۔ مجید نظامی نے کہا کہ میری تمام ایٹمی سائنسدانوں سے یاد اللہ تھی جن میں ڈاکٹر منیر‘ ڈاکٹر ثمر مبارک مند بھی شامل ہیں وہ مجھے نہیں سمجھتے تھے میں نے کہا کہ میں پنجابی ضرور ہوں لیکن پہلے پاکستانی ہوں۔ جنرل (ر) مرزا اسلم بیگ نے کہا کہ اگر جنرل ضیاءالحق کی جگہ کوئی جنرل پرویز مشرف جیسا آرمی چیف ہوتا تو پاکستان کا ایٹمی پروگرام رک جاتا۔ سابق وزیراعظم ذوالفقار علی بھٹو نے پاکستان کے ایٹمی پروگرام کی بنیاد رکھی ۔ ڈاکٹرعبدالقدیر خان نے ایٹم بم بنا کر دے دیا جنرل ضیاءالحق نے ایٹمی پروگرام کو جاری وساری رکھا محترمہ بے نظیر بھٹو نے ایٹمی پروگرام میں بہت اہم رول ادا کیا اور میاں نوازشریف نے ایٹمی دھماکہ کرکے اس ساری جدوجہد کو پایہ تکمیل تک پہنچایا لیکن ان تمام شخصیات کے ساتھ کیا سلوک ہوا سابق صدر جنرل مشرف نے پاکستان کے ایٹمی پروگرام کے ہیرو ڈاکٹر عبدالقدیر خان کے ساتھ جو برا سلوک کیا اس پر اپنی جانب سے اور قوم کی جانب سے میں ان سے معافی مانگتا ہوں۔ اس وقت پاکستان کے خلاف منفی پروپیگنڈہ کیا جا رہا ہے کہ پاکستان اپنے ایٹمی پروگرام پر چار بلین ڈالر خرچ کر رہا ہے یہ رقم پاکستان کی تینوں مسلح افواج کے ایک سال کے بجٹ سے بھی زیادہ ہے۔ پاکستان کو اس وقت کئی خطرات ہیں بھارت آبی جارحیت کے ذریعے پاکستان کے دریا¶ں میں آنے والے پانی پر ڈیم پر ڈیم بناتا جا رہا ہے۔ تشویش کی بات تو یہ ہے کہ بھارتی سپریم کورٹ نے بھی اپنی حکومت کو حکم دیا ہے کہ وہ اپنے آبی منصوبے جاری رکھے اور ان پر تیزی سے کام کرے۔ انہوں نے کہا کہ مجید نظامی نظریہ پاکستان کے محافظ ہیں۔ محمد اکرم ذکی نے کہا کہ اکھنڈ بھارت کبھی حقیقت نہیں بن سکتا۔ اکھنڈ بھارت کا نعرہ پکھنڈ بھارت ہے۔ سوچ رکھنے والی قوم اس وقت تک کسی کی بالادستی قبول نہیں کرتی جب تک ذہن اس کے لئے تیار نہ ہو۔ پاکستان میں اسلام پہلے سندھ میں نہیں آیا تھا بلکہ حضرت عمر فاروقؓ کی حکومت میں بلوچستان میں مسلمان آئے تھے اور بلوچستان پہلی اسلامی سلطنت تھی۔ہمیں معیشت اور معاشرت کو بہتر بنانے کی ضرورت ہے اس شعبے میں انصاف لایا جانا چاہئے۔ ہمیں استحصالیوں سے نجات حاصل کرنی ہے۔ ڈاکٹر غلام حسین نے کہا کہ پاکستان کو ناقابل تسخیر بنانے کے لئے ہمارے قائد ذوالفقار علی بھٹو شہید نے ایٹمی پروگرام بنایا اور اس کے لئے ہالینڈ سے ڈاکٹر عبدالقدیر خان کا چنا¶ کیا۔ پاکستان کو فیوڈالزم سے نجات دلانی ہو گی۔ عبداﷲ گل نے کہا کہ 1980ءکی دہائی میں پاکستان کے دشمنوں کے جو عزائم تھے وہ روس کی افغانستان میں شکست اور اب امریکہ کی شکست کے بعد امریکہ دشمنی کی شکل میں سامنے آرہے ہیں۔ پاکستان کے نوجوان اپنے ملک کے نظریے کا خود تحفظ کریں گے۔ صاحبزادہ سلطان احمد علی نے کہاکہ ڈاکٹر عبدالقدیر خان نے ملک کو جو ایٹمی قوت دی اس سے موجودہ زمانے کے نمرود اور فرعون کے محلات کانپ رہے ہیں راناعبدالباقی کی کتاب سے ثابت ہوتا ہے کہ ڈاکٹرعبدالقدیر خان اس ملک میں قوم کو جگانے والے ہیں سابق ایڈیشنل سیکرٹری اطلاعات لطیف الفت نے کہاکہ سرحد پار کے ایٹمی سائنسدان کو تو صدر بنایا گیا لیکن پاکستان میں حکومتی کرسیاں جس قدر بے توقیر ہو چکی ہیں ان کو دیکھتے ہوئے ہم نہیں سمجھتے کہ کوئی بھی کرسی اس قابل ہے کہ اس پر ڈاکٹرعبدالقدیر بیٹھیں۔ ڈاکٹر جمال عبدالناصر نے کہا کہ مجید نظامی کو دیکھ کر پاکستان کے زندہ تابندہ ہونے کا بھرپور احساس ہوتاہے۔ رانا باقی کی یہ کتاب قابل تعریف ہے۔ ڈاکٹر مقصودہ حسین نے کہا کہ پاکستانی قوم کو سقوط ڈھاکہ کے بعد ڈاکٹر عبدالقدیر خان نے وطن آکر جو خدمت کی وہ قابل تعریف ہے۔ آج اگر ہم آزاد ہیں تو اس میں ڈاکٹر عبدالقدیر خان کا رول بہت زیادہ ہے معروف ماہر امراض چشم ڈاکٹر مظہر قیوم نے کہاکہ اگر تحریک پاکستان میں قائداعظم کے پاس فوجی طاقت ہوتی تو ٹوٹا پھوٹا پاکستان نہ بنتا۔ سلطانہ فا¶نڈیشن کے چیئرمین ڈاکٹر نعیم غنی نے کہا کہ ہمیں پتہ ہونا چاہئے کہ دوست کون ہے اور دشمن کون‘ جس طرح ایٹمی بم تباہی پھیلاتاہے لیکن اس کے مثبت اثرات کو قابو کیا جاتا ہے۔ اسی طرح آج ہمارا میڈیا بھی مثبت انداز میں قابو میں ہونا چاہئے۔ جاویدعلی بھٹی نے کہاکہ پاکستان کے خلاف بات کرنے والے دانشوروں پر میں لعنت بھیجتا ہوں اس وقت ہمارے جو دانشور ہماری فوج اور آئی ایس آئی کے خلاف زہر اگلتے ہیںوہ پاکستان کے خیر خواہ نہیں بلکہ امریکہ اور پاکستان دشمنوں کے خیر خواہ ہیں۔ رانا عبدالباقی نے کہا کہ ہندو شروع سے اکھنڈ بھارت چاہتے تھے وہ سمجھتے تھے کہ پاکستان سورج کی کرنوں میں شبنم کے قطروں کی طرح ختم ہو جائے گا اس نے معاہدہ تاشقند کے باوجود مشرقی پاکستان کو الگ کیا۔ میاں صدیق اکبر نے کہاکہ قائداعظم نے تین محاذوں پر آئینی جنگ لڑ کر گولی چلائے بغیر یہ ملک حاصل کر لیا۔
مجید نظامی