فرقہ وارانہ سرگرمیوں کا الزام‘ وزارت داخلہ نے اہلسنت والجماعت‘ پیپلز امن کمیٹی سمیت چار تنظیموں پر پابندی لگا دی

اسلام آباد + لاہور (خبر نگار خصوصی + اپنے نمائندے سے + ایجنسیاں) وزارت داخلہ نے ملک بھر میں فرقہ واریت اور لسانیت میں ملوث 4 مذہبی جماعتوں اور گروپوں پر پابندی عائد کر دی ہے۔ گذشتہ روز وزارت داخلہ کی جانب سے جاری ہونے والے بیان میں کہا گیا ہے جن جماعتوں پر پابندی عائد کی گئی ہے۔ ان میں اہلسنت والجماعت، شیعہ طلبا تنظیم، پیپلز امن کمیٹی اور ٹی این اے گلگت شامل ہیں۔ اہلسنت والجماعت کا قیام سپاہ صحابہ کو کالعدم قرار دینے کے بعد ہوا تھا۔ وزارت داخلہ نے چاروں صوبائی حکومتوں کو آگاہ کر دیا ہے۔ نوائے وقت نیوز کے مطابق ان جماعتوں اور گروپوں کو انسداد دہشت گردی ایکٹ کے شیڈول ایک میں شامل کیا گیا ہے۔ اہلسنت والجماعت مذہبی جماعتوں کے اتحاد پاکستان دفاع کونسل کی اہم جماعت ہے۔ اس اتحاد نے پچھلے دنوں لاہور، کراچی اور کوئٹہ میں اجتماعات کئے تھے جس پر امریکہ اور انسانی حقوق کمیشن نے خدشات کا اظہار کیا تھا۔اہلسنت والجماعت کے سربراہ مولانا احمد لدھیانوی نے پابندی کے فیصلے سے لاعلمی ظاہر کی ہے۔ بی بی سی کو انٹروےو مےں انہوں نے کہا وہ پرامن لوگ ہیں اور اپنے کارکنوں کو کنٹرول کر کے دفاعِ پاکستان میں مصروف ہےں۔ان کے مطابق امریکہ اور اس کے ہمنواﺅں کو جو اس ملک میں بیٹھے ہوئے ہیں انہیں یہ ناگوار گزرا ہوگا۔ اس وقت ہم پر جو پابندی عائد کرتا ہے۔ وہ حقیقت میں پاکستان پر پابندی عائد کرنے کی کوشش کرتا ہے۔ اہلسنت والجماعت کے سربراہ کا کہنا تھا ان کی جماعت نے ہمیشہ آئینی راستہ اختیار کیا ہے اور کبھی قانون کو ہاتھ میں لینے کی بات نہیں کی اور اگر کوئی پابندی آئےگی تو وہ قانون کا سہارا لیں گے۔ وفاقی وزیر داخلہ رحمن ملک سے اہلسنت والجماعت پر پابندی کے حوالے سے بات کرنے کے لئے متعدد بار رابطہ کرنے کی کوشش کی گئی لیکن کوئی کامیابی نہیں ہو سکی۔ لاہور سے اپنے نمائندے کے مطابق جماعة الدعوة پاکستان کے ترجمان محمد یحییٰ مجاہد نے وزارت داخلہ کی طرف سے اہلسنت والجماعت پر پابندی لگائے جانے کی شدید مذمت کرتے ہوئے اسے دفاع پاکستان کونسل کو سیاسی طور پر ہراساں کرنے کی کوشش قرار دیا ہے۔ اپنے بیان میں انہوں نے کہا اہلسنت والجماعت پر کوئی الزام ہے تو اسے عدالتوں میں پیش کیا جائے، بغیر کسی ثبوت کے کسی تنظیم پر پابندیاں لگانے کے عمل کو کسی صورت درست قرار نہیں دیا جا سکتا۔ دفاع پاکستان کے لئے کردار ادا کرنے والی جماعتوں اور تنظیموں پر پابندی قوم کسی صورت قبول نہیں کرے گی۔ آئی این پی کے مطابق حکومت پاکستان نے ”اہلسنت والجماعت“ کو کالعدم قرار دیتے ہوئے ”الحرمین فاﺅنڈیشن“ اور ”رابطہ ٹرسٹ“ پر پابندی عائد کر دی ہے، اہلسنت و الجماعت پر فرقہ واریت پھیلانے جبکہ سعودی عرب میں قائم الحرمین فاﺅنڈیشن پر اسامہ بن لادن اور القاعدہ کی مالی معاونت اور اسے لاجسٹک سپورٹ فراہم کرنے پر پابندی عائد کی گئی ہے اور بنگلہ دیش میں مقیم بہاریوں کی پاکستان واپسی اور آباد کاری کے حوالے سے قائم کئے جانے والے ”رابطہ ٹرسٹ“ پر دہشت گردی کی معاونت کا الزام عائد کرتے ہوئے اسے کالعدم قرار دیا گیا ہے۔ دفاع پاکستان کونسل کے سربراہ مولانا سمیع الحق نے کونسل میں شامل اہم جماعت اہلسنت والجماعت پر پابندی کو مسترد کر کے اس حکومتی فیصلہ کی شدید مذمت کرتے ہوئے کہا ہے حکومت بیرونی طاقتوں او رملک دشمن قوتوں کے دباﺅ پر دفاع پاکستان کونسل میں شامل ملک کے دفاع اورسالمیت کےلئے میدان میں نکلنے والی جماعتوں کو دفاع پاکستان سے روکنا چاہتی ہے۔ انہوں نے کہا ہماری حکومت بالخصوص وزارت داخلہ تمام ملک دشمن سرگرمیوں اورملک کو توڑنے والے عناصر سے آنکھیں بندکئے ہوئے ہے اوردفاع پاکستان کونسل میں شامل جماعتوں کو ایک ایک کر کے مفلوج کرنا چاہتی ہیں جو ملک وملت کے مفادات سے صریح غداری ہے‘ انہوں نے کہا بہت جلد دفاع پاکستان کونسل کے سربراہان کے اجلاس میں اہل سنت والجماعة پر پابندی کے مسئلہ پرغور کیا جائے گا۔ دفاع پاکستان کونسل فوری طور پر اس نئی پابندی کو یکسر مسترد کرتی ہے۔ مولانا محمد احمد لدھیانوی نے کہا اس سے قبل ہماری مذہبی جماعت سپاہ صحابہ پر دہشت گردی کا الزام لگا کر پابندی لگائی گئی تھی لیکن حکومت دس سال گزرجانے کے باوجود ہمارے اوپر دہشت گردی یا ملک دشمنی کا الزام ثابت نہیں کر سکی۔ اب ایک مرتبہ پھردہشت گردی کا الزام لگاکر اہل سنت پر پابندی آئین اور قانون کی آنکھوں میں دھول جھونکنے والی بات ہے۔ حکومت سپریم کورٹ اور لاہور ہائی کورٹ میں سپاہ صحابہ پر پابندی کے زیر سماعت مقدمے میں ہمارے اوپر لگائے جانے والے دہشت گردی کے الزامات کو ثابت کرے، ہم ہر طرح کی سزا اور پابندی قبول کریں گے۔ان دنوں ہمارے اوپر پابندی لگانے کا مطلب امریکہ کی خوشنودی ہے کیونکہ ہم پاکستان کا دفاع کررہے ہیں اور ہمارا دفاع کرنا امریکہ کو ہضم نہیں ہو رہا اور وہ مسلسل پاکستان کے خلاف سازشیں کر رہا ہے۔
پابندی