سوئس حکام کو خط ....فیصلہ وکیل کی مشاورت سے کرونگا‘ ایران سے گیس منصوبہ پر دباﺅ میں نہیں آئیں گے : گیلانی

اسلام آباد (نمائندہ خصوصی + نوائے وقت نیوز) وزیراعظم سید یوسف رضا گیلانی نے کہا ہے کہ ہمیشہ قانون اور قاعدے پر عمل کیا ہے، کوئی توہین عدالت نہیں کی۔ بلوچستان میں بیرونی ہاتھ کا ملوث ہونا خارج از امکان نہیں، سوئس حکام کو خط لکھنے کے بارے میں فیصلہ اپنے وکیل کی مشاورت کے بعد کروں گا، ابھی یہ معلوم نہیں کہ سپریم کورٹ نے حالیہ حکم کس کیس میں دیا ہے، اپنے وکلا سے اس بارے میں پوچھوں گا۔ نیٹو سپلائی کی بحالی کے حوالے سے امریکہ سے کبھی معافی کا مطالبہ نہیں کیا۔ کابینہ میں تبدیلی کا امکان رد نہیں کیا جا سکتا جو سرکاری محکمہ نقصان میں جا رہے ہیں ان کے سربراہ ہٹا دئیے جائیں گے۔ اپنے 4 سالہ دور میں احتساب کے تحت 3 وزرا اور متعدد سیکرٹری فارغ کئے ہیں۔ پنجاب میں سرائیکی صوبے کی قرارداد پیش کرنے کی اجازت نہیں دی جا رہی، اجازت دے دی جائے تو کئی پردہ نشینوں کے نام آئیں جو قرارداد کی مخالفت نہیں کریں گے۔ میثاق جمہوریت اور پارٹی منشور پر 80 فیصد عمل ہو چکا ہے۔ ایوان وزیراعظم میں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ڈرون حملوں کے حوالے سے کسی قسم کا کوئی معاہدہ نہیں۔ بلوچستان میں بیرون ہاتھ کا ملوث ہونا خارج از امکان نہیں، صوبائی حکومت کہے تو کل آل پارٹیز بلالیں گے، پاکستان آزاد ملک ہے، پاکستان ایران گیس پائپ لائن پر کسی کے دباﺅ میں نہیں آئینگے، ایران کے کئی ممالک کے ساتھ معاہدے ہیں، امریکہ پابندیاں نہیں لگا سکتا۔ عمران خان فیورٹ ہیں، خوفزدہ نہیں، آزاد الیکشن کمشن کے قیام کے بعد تحریک انصاف کے سربراہ کو مطمئن ہو جانا چاہئے، سادہ اکثریت کے بغیر تین متفقہ ترامیم کا منظور ہونا جمہوری حکومت کا بڑا کارنامہ ہے، توانائی کا بحران اور دہشت گردی سب سے بڑا چیلنج ہیں، جمہوری حکومت چیلنجز سے نمٹنے کی بھرپور صلاحیت رکھتی ہے، اپوزیشن کی حمایت سے ہی احتساب بل قومی اسمبلی سے منظور کرائیں گے۔ بلوچستان کے عوام اتنے ہی محب وطن ہیں جتنا کوئی دوسرا پاکستانی ہے بلوچ کے عوام کا دکھ درد سمجھتے ہیں۔ بلوچستان میں امن وامان قائم رکھنا صوبائی حکومت کاکام ہے۔ صوبائی حکومت کے ساتھ بھرپور تعاون کرینگے۔ ہمیں عوامی مینڈیٹ کا احترام کرنا چاہئے۔ امریکہ کے حوالے سے بات چیت کرتے ہوئے وزیراعظم سید یوسف رضا گیلانی نے کہا کہ اصل دوستی لڑائی کے بعد شروع ہوتی ہے ہم امریکہ کے ساتھ برابری کی سطح پر تعلقات چاہتے ہیں جو بھی فیصلہ کرینگے ملکی مفاد کو مدنظر رکھ کریں گے۔ نیٹو سپلائی کی بحالی کیلئے امریکہ سے معافی کا کبھی نہیں کہا پاکستان اور امریکہ میں اعتماد کی کمی سب سے بڑا مسئلہ ہے۔ پاکستان آزاد ملک ہے پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبے پر قومی مفاد کو مدنظر رکھ کر فیصلے کرینگے۔ بلدیاتی انتخابات کے حوالے سے کئے گئے سوال کے جواب میں وزیراعظم نے کہاکہ بلدیاتی انتخابات ضرور ہونے چاہئیں۔ توہین عدالت کیس کے حوالے سے کئے گئے سوال کے جواب میں انہوں نے کہاکہ سوئس حکام کو خط لکھنے کے بارے میں معلوم نہیں، خط لکھنے کے حوالے سے اپنے وکیل سے مشاورت کے بعد فیصلہ کرینگے۔ ضرورت پڑی تو سپریم کورٹ میں دوبارہ پیش ہو نے کےلئے تیار ہوں۔ وزیراعظم کی حیثیت سے چار سال پورے کرنے پر اطمینان محسوس کرتا ہوں ہماری حکومت سیاسی انتقام ختم کر نے کے حوالے سے یاد رکھی جائےگی۔ دہشت گردی اور توانائی کا بحران سب سے بڑے چیلنجز ہیں جمہوری حکومت ایسے چیلنجز سے نمٹنا جانتی ہے۔ روزانہ بڑی تعداد فائلز دیکھتا ہوں اور قواعد و ضوابط کی سختی سے پابندی کرتا ہوں۔ آئین کی بحالی نیا آئین بنانے کے برابر مشکل کام تھا۔ 73ءکے آئین کی بحالی کا کام نیا آئین بنانے کے برابر کام تھا۔ جمہوری حکومت ورثے میں ملنے والے چیلنجز پر قابو پا لے گی۔ 17 مارچ کو صدر کے پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس سے خطاب کے فوری بعد نیٹو سپلائی کی بحالی کے حوالے سے مشترکہ اجلاس بلایا جائے گا۔ اصغر خان کیس کے بارے میں انہوں نے کہا کہ اس کا فیصلہ بہت پہلے ہو جانا چاہئے تھا، اب تو کچھ لوگ فوت ہو چکے ہیں یا بوڑھے ہو چکے ہیں۔
وزیراعظم