”لاپتہ افراد“ سول، ملٹری ایکٹ کے تحت کارروائی پر مجبور نہ کیا جائے: پشاور ہائیکورٹ

پشاور (بیورو رپورٹ) پشاور ہائیکورٹ کے چیف جسٹس دوست محمد خان نے لاپتہ افراد کیس کی سماعت کرتے ہوئے کہا ہے کہ سی آر پی سی کے تحت گرفتار شخص کو 24 گھنٹے میں علاقہ مجسٹریٹ جبکہ سپیشل قانون کے تحت 24 گھنٹے کے اندر انچارج خصوصی مرکز کے سامنے پیش کرنا ضروری ہے لیکن اس قانون کو نظراندا ز کیا جاتا ہے ہم بار بار کہہ رہے ہیں کہ سکیورٹی فورسز غیر ملکی عناصر اور دہشت گردوں کے خلاف لڑ رہی ہیں لیکن ان کو یہ اجازت نہیں کہ بالائے قانون کارروائیاں کرے۔ عدالت کو ان تمام اقدامات کے خلاف سخت ایکشن کے لئے مجبور نہ کیا جائے۔ فاضل عدالت نے وزارت دفاع کو حکم دیا کہ مردان سے لاپتہ حافظ جلیل کو سکیورٹی اداروں سے چھڑا کر عدالت میں پیش کیا جائے ورنہ عدالت سول اور ملٹری ایکٹ کے تحت کارروائی کرنے پر مجبور ہو گی۔ یہ احکامات گذشتہ روز عدالت عالیہ کے چیف جسٹس دوست محمد خان اور جسٹس سید سجاد حسن شاہ پر مشتمل ڈویژن بنچ نے بنوں کے درخواست گذار جمیل احمد کی درخواست کی سماعت کرتے ہوئے دئیے۔ فاضل عدالت کو بتایا گیا کہ درخواست گذار کے بیٹے حافظ جلیل کو 27 فروری 2012ءکو انٹیلی جنس اداروں نے حراست میں لیا اور تاحال لاپتہ ہے۔ اطلاعات کے مطابق حافظ جلیل ایم آئی کے ایک میجر کے پاس ہے۔ فاضل عدالت نے سماعت 25 جولائی تک ملتوی کر دی۔ اسی ڈویژن بنچ نے لاپتہ افغان باشندے قاری شفیع کے کیس میں سی سی پی او پشاور کو لاپتہ افراد کے معاملہ میں پولیس کی حساس اداروں کی مدد پر خود انکوائری کر کے عدالت کی معاونت کرنے کا حکم جاری کیا ہے۔ چیف جسٹس پشاور ہائیکورٹ نے ریمارکس دئیے کہ جب کہا تھا پولیس سکیورٹی ایجنسیوں کے ساتھ تعاون نہ کرے تو کیوں کیا جا رہا ہے۔ اسی بنچ نے باڑہ خیبر ایجنسی کے زیدی گل کے چار بیٹوں کو حراست میں لے کر لاپتہ کرنے کے خلاف دائر حبس بے جا درخواست پر اے پی اے باڑہ خیبر ایجنسی اور حساس اداروں کے متعلقہ حکام کو نوٹس جاری کرتے ہوئے وضاحت طلب کر لی ہے۔ اسی بنچ نے ایک اور مقدمہ میں کوہاٹ ٹنل کی حالت زار پر شدید برہمی کا اظہار کرتے ہوئے این ایچ اے کو 20 دنوں میں ٹنل کی مرمت کا حکم دیا ہے۔