بلوچستان امن وامان کیس: عدالت عظمی نے طوتک سے اٹھائے گئے تمام افراد کو کل تک پیش کرنے کا حکم دے دیا۔

بلوچستان امن وامان کیس: عدالت عظمی نے طوتک سے اٹھائے گئے تمام افراد کو کل تک پیش کرنے کا حکم دے دیا۔

سپریم کورٹ کوئٹہ رجسٹری میں چیف جسٹس آف پاکستان کی سربراہی میں عدالت عظمی کا تین رکنی بینچ کیس کی سماعت کر رہا ہے۔ عدالت عظمی نے طوتک سے اٹھائےگئے تمام افراد کو کل تک پیش کرنے کا حکم دیا ہے جس کے جواب میں ایف سی کے وکیل نے موقف اختیار کیا کہ گرفتار افراد کو تحقیقات مکمل ہونے تک پیش نہیں کیا جاسکتا۔ ایف سی کے وکیل کا یہ موقف سننے کے بعد جسٹس جواد ایس خواجہ نے اظہار برہمی کرتے ہوئے ریمارکس دیئے کہ عدالت کو قانون نہ پڑھایا جائے، ہم جانتے ہیں کہ آئین میں کیا لکھا ہے،جسٹس جواد ایس خواجہ نے ریمارکس دیئے کہ بلوچستان میں حالات کو پٹڑی پر لایا جائے، ایسا نہ ہوا تو یہ کام عدالت کو کرنا ہوگا۔ دوسری جانب چیف جسٹس افتخار محمد چوہدری نے اپنے ریمارکس میں کہا ہے کہ صوبے میں جو کچھ ہو رہا ہے اس کےنتائج انتہائی سنگین ہوں گے۔ بلوچستان ہمارا گھر ہے ، ایف سی کو معقول راستہ اختیار کرنا چاہیئے،ہمیں سب کے وقار کا خیال رکھنا ہوگا جبکہ جسٹس خلجی عارف حسین نے استفسار کیا کہ کیا وجہ ہے کہ ہر معاملے میں ایف سی کا نام آرہا ہے۔ایف سی کے وکیل نے موقف اختیار کیا کہ ایف سی اہلکاروں کی لاشوں کے بارے میں کوئی نہیں سوچتا، جس پر چیف جسٹس نےریمارکس دیئے کہ ہم انہیں بھی دیکھتے ہیں۔