وزیراعظم کا برآمد کنندگان کیلئے 180 ارب کا پیکج‘ ٹیکسٹائل مشینری پر سیلز ٹیکس‘ کپاس کی درآمد ڈیوٹی بھی ختم

وزیراعظم کا برآمد کنندگان کیلئے 180 ارب کا پیکج‘ ٹیکسٹائل مشینری پر سیلز ٹیکس‘ کپاس کی درآمد ڈیوٹی بھی ختم

اسلام آباد (نمائندہ خصوصی) وزیراعظم محمد نواز شریف نے ملک کی برآمدات کو بڑھانے کیلئے 180 ارب روپے کی مراعات کے پیکیج کا اعلان کیا ہے جس کے تحت کپاس کی درآمد پر 4 فیصد کسٹمز ڈیوٹی اور 5 فیصد سیلز ٹیکس ختم کر دیا گیا ہے۔ مختلف قسم کی برآمدات پر مختلف شرح سے ری بیٹ دیا جائیگا۔ ’’وزیراعظم آفس‘‘ میں منعقدہ اجلاس میں مراعاتی پیکیج کا اعلان کیا گیا۔ اس سے قبل وزیراعظم اور برآمد کنندگان کے نمائندوں کے درمیان طویل مشاورت ہوئی۔ تقریب میں وزیراعظم کے علاوہ وزیر خزانہ اسحاق ڈار‘ ایف پی سی سی آئی سربراہ زبیر طفیل‘ آل پاکستان ٹیکسٹائل ایسوسی ایشن کے سربراہ عامر فیاض شیخ اور دیگر نے بھی خطاب کیا جبکہ ایف پی سی سی آئی کے رہنما افتخار ملک‘ آر سی سی آئی کے صدر راجا عامر‘ ٹی ڈیپ کے سربراہ ایس ایم منیر‘ وفاقی وزیر تجارت خرم دستگیر خان‘ وفاقی وزیر منصوبہ بندی احسن اقبال‘ وزیر پورٹ اینڈ شپنگ میر حاصل بزنجو اور تاجر رہنماؤں کی کثیر تعداد نے شرکت کی۔ نوائے وقت رپورٹ کے مطابق وزیراعظم نے کہا ماضی کی حکومتوں نے کچھ نہیں کیا جس کے باعث ملک مسائل کا شکار ہوا، جبکہ ملک کے مستقبل سے متعلق بھی قیاس آرائیاں کی جا رہی تھیں۔ ساتھ ہی انہوں نے ا پنی حکومت کی بھی تعریف کی اور بتایا ہم بجلی کی قلت پر پریشان تھے لیکن اللہ نے مدد کی اور آج حالات بہتر ہیں۔ ساتھ ہی انہوں نے اپوزیشن جماعتوں پر تنقید کرتے ہوئے کہا حکومتی پالیسیوں پر تنقید اصلاح کے پہلو سے کی جانی چاہیے ایسا ماحول پیدا نہ کیا جائے جس سے مایسی پھیلے۔ وزیراعظم نے کہا ملک کو تاریکی میں دھکیلنے والوں سے پوچھ گچھ ہونی چاہیے۔ نمائندہ خصوصی کے مطابق وزیراعظم نواز شریف نے تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ برآمدی سیکٹر کے نمائندوں سے اڑھائی گھنٹے تک مشاورت کی ہے۔ مجھے محسوس ہوتا ہے کہ مراعات کے پیکج سے 180 ارب روپے گئے ہیں۔ تاہم مجھے امید ہے کہ اس سے زیادہ آگے آئے گا۔ پاکستان آگے بڑھے گا۔ ملک کو شائد نظر لگ گئی تھی۔ بجلی کا مسئلہ کھڑا کیا گیا۔ مختلف حکومتیں آئیں ان کی ذمہ داری تھی کہ ملک کو اندھیروں کا شکار نہ کرتے۔ 2013 ء میں جب حکومت بنی تو اخبارات میں مظاہروں کی خبریں چھپا کرتی تھیں۔ لاٹھی چارج ہوتے تھے۔ اس سے ملک کا جو نقشہ بن رہا تھا اس کا سوچا جائے۔ بم دھماکے ہو رہے تھے۔ بے روزگاری ‘ دہشت گردی تھی۔ پاکستان کے بارے میں ہر کوئی کہہ رہا تھا کہ خدانخواستہ ڈیفالٹ کی طرف بڑھ رہے ہیں اور ناکام ریاست ہے۔ اﷲ کا شکر ہے چیزیں بدلنا شروع ہو گئیں۔ اب بجلی‘ گیس پوری آ رہی ہے۔ گھریلو صارفین کو بھی سہولت ملی ہے۔ آج زمین آسمان کا فرق ہے۔ ان لوگوں سے پوچھنا چاہئے جو اس کے ذمہ دار تھے۔ خواہ وہ اونچے درجہ کے تھے یا نچلی سطح کے لوگ تھے۔ سوال جواب ضرور ہونا چاہئے۔ پاکستان میں حکومت چلانا مشکل ہے۔ میڈیا شام کے وقت گت بناتا ہے۔ شام 6 بجے گھر پہنچتے ہیں 6 سے 10 تک ٹی وی دیکھتے ہیں تو لگتا ملک تباہ کر دیا گیا۔ میری استدعا ہے کہ اس طرح کا ماحول نہ پیدا کیا جائے۔ کچھ اچھے چینلز ہیں۔ جو چینلز مایوسی پھیلاتے ہیں لوگ ان کو دیکھنا بھی بند کر رہے ہیں۔ 2013 ء میں کچھ چینلز ہمارے خلاف سخت بول رہے تھے۔ ہم نے پریس پر قدغن کا کبھی نہیں سوچا۔ آزادی اظہار اور مثبت تنقید پر یقین رکھتا ہوں۔ ہماری خامیاں بیان کی جائیں تاہم نیچا دکھانے والی بات نہیں ہونا چاہئے۔ وزیراعظم نے کہا لوڈشیڈنگ کم ہو چکی ہے۔ امید ہے 2018 ء میں بجلی کی قلت ختم ہو جائے گی۔ بجلی سستی بھی ہونا چاہئے۔ بجلی کے نئے کارخانے لگ رہے ہیں۔ اﷲ تعالیٰ نے مدد کی ہے۔ درجنوں پاور پلانٹ لگ رہے ہیں۔ ہم کچھ اپنے پیسے سے لگا رہے ہیں بھاشا ڈیم کا فیصلہ کیا ہے جو تربیلا اور منگلا ڈیم سے بڑا ہو گا۔ اس ڈیم کو اپنے وسائل سے بنائیں گے۔ 110 ارب روپے کی زمین خریدی ہے۔ 1400 ارب روپے خرچ ہو گا۔ پاور ہاؤس سی پیک کے تحت لگے گا۔ تعمیر کے لئے سات ارب روپے اپنے وسائل سے پیدا کریں گے۔ ریلویز بھی ٹھیک ہو رہی ہے۔ اس کی بہتری کے لئے 8 بلین ڈالر خرچ ہو رہے ہیں۔ ریلویز کی سپیڈ دوگنی ہو جائے گی۔ 2013 ء میں بجلی کا ریٹ 15 یا 16 روپے تھا آج 11 روپے فی یونٹ ہے۔ اس کے نرخ مزید کم ہوں گے۔ تھر میں ملکی کوئلہ استعمال ہو گا۔ وزیراعظم نے کہا نیلم جہلم منصوبے کو زندہ کیا اور اس کی تکمیل کر رہے ہیں۔ سال رواں اور آئندہ سال تک 10 ہزار میگاواٹ بجلی لائیں گے۔ چند سال میں پیداوار 30 ہزار میگاواٹ بڑھے گی۔ یہ خوش آئند ہے۔ معیشت بحال ہو رہی ہے۔ شرح سود بے حد کم ہے۔ افراط زر 3 یا 4 فیصد پر آ گیا ہے۔ گروتھ ریٹ 5.5 فیصد سے تجاوز کر جائے گا۔ ہم اس کو دس سے بارہ فیصد پر لے جانا چاہتے ہیں۔ بلوچستان بدل رہا ہے۔ ملک مربوط ہو رہا ہے۔ سارے ملک میں بڑے بڑے کام ہو رہے ہیں۔ حیدر آباد کراچی موٹر وے سال رواں میں بن جائے گی۔ اسلام آباد سے کراچی تک 6 لین موٹر وے بن جائے گی۔ اﷲ تعالیٰ سب چیزوں کو نظر بد سے بچائے اور ملک کو آگے لے کر جائے۔ گوادر بدل رہا ہے۔ پیکج کے اچھے اثرات مرتب ہوں گے۔ زراعت اور صنعت کو بیک وقت آگے بڑھنا چاہئے۔ اس سے بے روزگاری ‘ پسماندگی ختم ہو گی۔ وزیر خزانہ نے اپنے خطاب میں کہا برآمدی سیکٹر پر 215 ارب روپے کے ری فنڈ ادا کئے ہیں جبکہ 30 جون تک برآمدات کنندگان کے سیلز ٹیکس اور دوسرے تمام ری فنڈ ادا کر دیئے جائیں گے۔ انہوں نے کہا دنیا پاکستان کی ترقی کو تسلیم کر رہی ہے۔ پاکستان سٹاک ایکس چینج کے 40 فیصد شیئرز چینی کنسورشیم نے خریدے ہیں۔ اس سلسلے میں 20 جنوری کو کراچی میں معاہدہ کی تقریب ہو گی۔ عامر فیاض شیخ نے کہا خوشی ہے وزیر خزانہ نے برآمد کنندگان کے مسائل پر توجہ دی۔ 5 سال کے اندر برآمدات کو دوگنا کر کے دکھائیں گے۔وفاقی وزیر تجارت خرم دستگیر خان نے بعد ازاں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا ’’ٹریڈ میں اضافہ کے اقدام‘‘ کے تحت ملنے والے پیکیج کے تحت یکم جنوری سے 30 جون 2018ء تک 18 ماہ کیلئے رہیگا۔ جون 2017ء تک پیکیج کی مراعات لینے کیلئے کوئی شرط نہیں رکھی گئی ہے تاہم یکم جولائی سے 30 جون 2018ء تک ایسا برآمد کنندہ ہی مراعات کا اہل ہوگا جو برآمدات میں 10 فیصد گروتھ ظاہر کریگا۔ اس سے قبل برآمد کنندہ کو اسکی گروتھ کے تناسب سے ڈیوٹی ڈرابیک، ٹیکس ڈرا بیک ملتا تھا۔ تاہم اب اس سارے برآمد کی مالیت پر ادا ہونے والے ٹیکسز اورڈیوٹیز واپس ملا کریں گے۔ بجٹ 2016-17 میں 5 سیکٹرز کو زیرو ریٹ کیا گیا۔ 15 سال میں برآمد کنندگان کو پیکیج دیا گیا تھا جس کے تحت 10 فیصد سے زیادہ گروتھ ریٹ والے کو اس اضافہ سے ڈرابیک کی سہولت دی گئی تھی۔ تاہم اب ڈرابیک آف لوکل ٹیکسز اینڈ ڈیوٹیز پیکیج کے تحت گارمنٹس پر 7 فیصد میڈ اپ گارمنٹس پر 6 فیصد، پراسیسڈ فیبرک پر 5 فیصد گرے کلاتھ پر 4 فیصد، کھیل کے سامان پر 7 فیصد، قالین دری پر 6 فیصد، چمڑے کی مصنوعات پر 7 فیصد، میڈاپ لیدر پر 7 فیصد، کٹلری پر 5 فصد، سرجیکل پر 5 فیصد ڈرا بیک ملے گا۔ ٹیکسٹائل مشینری کی امپورٹ پر 10 فیصد سیلز ٹیکس ختم کردیا گیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ پیکیج سے برآمدات میں اضافہ ہوگا۔ بزنس کی لاگت میں کمی آئے گی۔ انہوں نے کہا کہ سرٹیجک ٹریڈ پالیسی فریم مدت کی برآمدات کا ہدف 35 ارب ڈالر ہے۔ توقع ہے درآمدات کے باعث 3 ارب ڈالر برآمدات بڑھیں گی۔ برآمدات کا حجم 10 فیصد اضافہ سے 32 ارب ڈالر تک چلا جاتا ہے تو پاکستان ایمرجنگ مارکیٹس میں شامل ہوجائے گا۔ پیکیج میں فوڈ گروپ شامل نہیں۔ اس سیکٹر کو پہلے ہی بجٹ میں مراعات دی گئی ہیں۔