سی پیک روٹ میں تبدیلی نہیں ہو رہی‘ قومی منصوبوں کے ساتھ ملک کی تقدیر وابستہ ہے: صدر

سی پیک روٹ میں تبدیلی نہیں ہو رہی‘ قومی منصوبوں کے ساتھ ملک کی تقدیر وابستہ ہے: صدر

لاہور(خصوصی رپورٹر) سرسید احمد خان نے مسلم قوم کو علیحدہ شناخت اور فکری ونظریاتی توانائی فراہم کرنے کے ساتھ انہیں جدید علوم و ترقی کی شاہراہ پر گامزن کردیا۔ وہ اپنی خدمات کی بدولت ہمیشہ یاد رکھے جائیں گے۔ موجودہ حکومت کے قومی منصوبوں سے پاکستان کی تقدیر وابستہ ہے۔ ہم ماضی کی مایوسیوں سے نکل رہے ہیں۔ اب وقت آ گیا ہے پاکستان نے ترقی کی شاہراہ پر گامزن ہونا ہے اور انشاء اللہ پاکستان کا مستقل بہت تابناک ہے۔ تعلیم کی اہمیت سے انکار ممکن نہیں اور ہماری حکومت اس سلسلے میں تمام دستیاب وسائل بروئے کار لا رہی ہے۔ ہم تعلیم ،صحت ، ٹرانسپورٹ سمیت سب شعبوں پر توجہ دے رہے ہیں۔ نظریۂ پاکستان ٹرسٹ محمد رفیق تارڑ کی قیادت میں تحریک پاکستان کے مشاہیر کی یادوں کی شمع کو روشن رکھے ہوئے ہے۔ ان خیالات کا اظہار صدر اسلامی جمہوریہ پاکستان ممنون حسین نے الحمرا ہال‘ لاہور میں سرسید احمد خان کے 200سالہ جشن ولادت کے سلسلے میں منعقدہ ’’سرسید قومی کانفرنس‘‘ سے بطور مہمان خاص اپنے خطاب میں کیا۔ اس کانفرنس کا اہتمام نظریۂ پاکستان ٹرسٹ نے تحریک پاکستان ورکرز ٹرسٹ کے اشتراک سے کیا تھا۔ کانفرنس کی صدارت تحریک پاکستان کے مخلص کارکن، سابق صدر اسلامی جمہوریہ پاکستان و چیئرمین نظریۂ پاکستان ٹرسٹ محمد رفیق تارڑ نے کی جس کا کلیدی موضوع ’’دوقومی نظریہ… سر سید سے قائداعظم تک‘‘ تھا۔ اس موقع پر گورنر پنجاب محمد رفیق رجوانہ ، وائس چیئرمین نظریۂ پاکستان ٹرسٹ پروفیسر ڈاکٹر رفیق احمد، چیئرمین تحریک پاکستان ورکرز ٹرسٹ و سابق چیف جسٹس وفاقی شرعی عدالت چیف جسٹس(ر) میاں محبوب احمد، وائس چیئرپرسن نظریۂ پاکستان ٹرسٹ بیگم مجیدہ وائیں، چیف کوآرڈی نیٹر میاں فاروق الطاف، جسٹس(ر) میاں آفتاب فرخ، معروف سیاسی رہنما چوہدری نعیم حسین چٹھہ، سینئر صحافی و دانشور مجیب الرحمن شامی، بیگم مہناز رفیع، صدر نظریۂ پاکستان فورم برطانیہ ملک غلام ربانی اعوان، معروف دانشور وکالم نگار اثر چوہان،کیپٹن(ر) عطاء محمد، پروفیسر ڈاکٹر پروین خان، بیگم صفیہ اسحاق، کرنل(ر) اکرام اللہ خان، چوہدری ظفر اللہ ، ڈاکٹر ایم اے صوفی، ایم کے انور بغدادی، رانا سجاد جالندھری ، مرزا احمد حسن، سید اسداللہ، میاں محمد ابراہیم طاہر، غزالہ شاہین وائیں، افضال ریحان، محمد عالم، پروفیسر شرافت علی، انعام الرحمن گیلانی،محمد فیاض، بیگم فوزیہ چیمہ، بیگم حامد رانا، نائلہ عمر، میجر(ر) صدیق ریحان، ڈاکٹر یعقوب ضیائ، کارکنان تحریک پاکستان ، اساتذۂ کرام سمیت مختلف شعبہ ہائے زندگی سے تعلق رکھنے والے خواتین و حضرات بڑی تعداد میں موجود تھے۔ پروگرام کا باقاعدہ آغاز تلاوت کلام پاک ،نعت رسول مقبولؐ اور قومی ترانہ سے ہوا۔ حافظ محمد عمر اشرف نے تلاوت کلام پاک کی سعادت حاصل کی جبکہ معروف نعت خواں الحاج حافظ مرغوب احمد ہمدانی نے بارگاہ رسالت مآبؐ میں ہدیۂ عقیدت پیش کیا۔ پروگرام کی نظامت کے فرائض سیکرٹری نظریۂ پاکستان ٹرسٹ شاہد رشید نے انجام دیے۔ صدر ممنون حسین نے کہا میں نظریۂ پاکستان ٹرسٹ کے جملہ اکابرین کو اسلامیانِ ہند کے عظیم مصلح اور مدبر سرسید احمد خان کے دو سوسالہ جشن ولادت کے سلسلے میں منعقدہ اس قومی کانفرنس کے انعقاد پر ہدیۂ تہنیت پیش کرتا ہوں۔ انہوں نے کہا ایک آزاد اور خودمختار ریاست کے بارے میں قائداعظمؒ کا کہنا تھا یہ ریاست اسی دن وجود میں آگئی تھی جب برصغیر میں پہلے شخص نے اسلام قبول کیا تھا۔ سرسید احمد خان کویہ امتیاز اور شرف حاصل ہوا انہوں نے مسلم قوم کو علیحدہ شناخت اور فکری ونظریاتی توانائی فراہم کرنے کے ساتھ انہیں جدید علوم و ترقی کی شاہراہ پرگامزن کر دیا۔ وہ اپنی خدمات کی بدولت ہمیشہ یاد رکھے جائیں گے۔ سرسید احمد خان کا عہد مسلمانوں کے فکری اضمحلال اور فکری شکست و ریخت کا آئینہ دار تھا۔ ماضی کے ناپختہ طرز عمل اور علم وفکر کے حوالے سے غیر سنجیدہ رویے کے باعث وہ عصری حقائق کا ادراک نہ کر سکے تھے۔ انگریزوں کا اقتدار اور مسلمانوں کی سکڑتی طاقت تاریخ کا ایک حادثہ تھا جس نے مسلمانوں کے اوسان خطا کر دیے۔1857ء کی جنگ آزادی کے بعد ہندوئوں کا رویہ بھی مسلمانوں کے ساتھ متعصبانہ ہو گیا تھا۔ ان حالات میں سرسید احمد خان نے مسلمانوں کے زوال کے اسباب کا جائزہ لیا اور ان کیلئے راہ عمل کا تعین بھی کر دیا۔یہ سرسید احمدخان کی ایک عظیم قومی خدمت ہے۔ انہیں مسلمانوں کی تحریک آزادی کا جدامجد کہا جائے تو بے جا نہ ہو گا۔ انہوں نے کہا سرسید احمد خان کی فکر اور جدید علوم وفنون کے حوالے سے ان کی سوچ کے متعلق بعض افراد کی یہ رائے ہے اس تحریک کے نتیجے میں مسلمان اپنے روایتی علوم سے دور ہو گئے اورجدیدیت کی اس لہرسے دین سے بیگانگی پیدا ہوئی ۔ میرے خیال میں یہ تاثر درست نہیں بلکہ سرسید احمد خان نے روایتی وجدید دونوں طرح کے علوم کے حصول پر توجہ دینے کے ساتھ مسلمانوں کے حقوق کے تحفظ اور مسلم معاشرہ کی نمو کیلئے ٹھوس کردار ادا کیا۔سرسید احمد خان نے اپنی فراست سے علی گڑھ میں فرقہ وارانہ تعصبات سے پاک ایسی فضا قائم کی جس سے مسلمانوں کو فکری یکسوئی حاصل ہوئی۔ آج ہمارے ذہنوں سے تحریک علی گڑھ کے مقاصد محو ہوتے جا رہے ہیں۔ آج بھی انتہاپسندی اور نظریاتی افراط وتفریط کے عفریت سر اٹھا رہے ہیں ۔ ہمیں اپنے تعلیمی نظام کو ان کے افکارونظریات کی روشنی میں ازسرنو منظم کرنا ہو گا۔ میں اس تجویز سے اتفاق کرتا ہوں اس سال کو سرسید احمد خان کا سال قرار دیا جائے۔ انہوں نے کہا تعلیم کی اہمیت سے انکار ممکن نہیں اور ہماری حکومت اس سلسلے میں تمام دستیاب وسائل بروئے کار لا رہی ہے۔ دین اسلام ہمیں تمام معاملات میں اعتدال کا حکم دیتا ہے۔آج بعض افراد میٹرو بس منصوبوں پر بلاسوچے سمجھے تنقید کر رہے ہیں۔ اور کہتے ہیں تعلیمی منصوبے شروع کیے جائیں ۔ میرا ان سے سوال ہے آپ یونیورسٹیاں ،کالجز اور دیگر ادارے قائم کر دیں لیکن وہاں تک پہنچنے کے وسائل اور انفراسٹرکچر نہ بنا سکیں تو ان کا کیا فائدہ ہے؟۔ راولپنڈی میں میٹرو بس منصوبہ سے قبل ایک شخص کو شہر کے ایک کونے سے دوسرے کونے تک جانے کیلئے دو بسیں بدلنا پڑتی تھیں اوریکطرفہ 60روپے کرایہ لگ جاتا تھاجبکہ بہت سا وقت بھی ضائع ہوتا تھا۔میٹرو بس منصوبہ سے اب وہ یکطرفہ بیس روپے میں ایک جگہ سے دوسری جگہ پہنچ جاتا ہے۔اس طرح 80روپے روزانہ اور ماہانہ تقریباً دو ہزار روپے کی بچت کررہا ہے۔اب وہ ان دوہزار روپوں سے اپنے ایک اور بچے کو تعلیم دینے کے بارے میں سوچ رہا ہے۔لہٰذا تعلیم ،صحت ، ٹرانسپورٹ سمیت سب شعبوں پر توجہ دینے کی ضرورت ہے اور ہماری حکومت ایسا ہی کر رہی ہے‘ اعتدال کا دامن نہیں چھوڑنا چاہئے۔انہوں نے کہا افسوس ناک امر یہ ہے ہمارے ملک میں لوگ ٹیکس دینے کے زیادہ عادی نہیں جس کی وجہ سے حکومتی آمدن زیادہ نہیں ہے۔ہماری خواہش ہے آمدنی بڑھے اور لوگ ٹیکس دیں۔انہوں نے کہا 12اکتوبر1999ء سے 2013ء کے انتخابات تک 13سال ضائع کیے گئے۔میں آپ کو ایک مثال دیتا ہوں 2008ء میں جس حکومت نے اقتدار سنبھالا اس وقت قرضہ 6700ارب روپے تھا جبکہ 2013ء میں ہماری حکومت نے جب اقتدار سنبھالا تو قرضہ بڑھ کر 14ہزار 8سو ارب تک پہنچ چکا تھا۔ کیا اس دور میں بہت زیادہ ترقیاتی کام ہوئے؟ کہ اس سے قرضہ اتنا بڑھ گیا۔انہوں نے کہا اب وہ وقت آ گیا ہے پاکستان نے ترقی کی شاہراہ پر گامزن ہونا ہے اورانشاء اللہ پاکستان کا مستقل بہت تابناک ہے۔اس کے ساتھ ہمیں حقیقت پسند بھی ہونا چاہئے ۔موجودہ حکومت کے قومی منصوبوں کی تکمیل کے ساتھ پاکستان کی تقدیر وابستہ ہے۔ سی پیک ایک عظیم الشان منصوبہ ہے اور اس کے روٹ میں کوئی تبدیلی نہیں کی جا رہی۔ ہم ماضی کی مایوسیوں سے نکل رہے ہیں۔ ماضی میں مہنگائی،بیروزگاری،بدامنی نے نوجوانوں میں فرسٹریشن پیدا کی تھی۔ میری نوجوانوں سے اپیل ہے اس فرسٹریشن کو دور کریں کیونکہ اب پاکستان میں سب اچھا ہی ہونا ہے اور اس سلسلے میں ہر ایک کو اپنا کردار ادا کرنا چاہئے۔ زیادہ سے زیادہ لوگوں کو تعلیم ملے گی۔نوجوان سائنس و ٹیکنالوجی اور آئی ٹی کی تعلیم پر توجہ دیںاور سر سید احمد خان بھی یہی چاہتے تھے۔نوجوان اپنے آپ کو آنیوالے وقت کیلئے تیار کریں۔ انہوں نے کہا نظریۂ پاکستان ٹرسٹ محمد رفیق تارڑ کی قیادت میں تحریک پاکستان کے مشاہیر کی یادوں کی شمع کو روشن رکھے ہوئے ہے اور ان عظیم شخصیات کی حیات وخدمات سے آگہی پیدا کرکے ایک قومی خدمت انجام دے رہا ہے۔ اس موقع پر صدر اسلامی جمہوریہ پاکستان ممنون حسین نے نظریۂ پاکستان ٹرسٹ کے زیراہتمام بننے والے ایوان قائداعظمؒ کی لائبریری کیلئے 25لاکھ روپے دینے کا اعلان بھی کیا۔ سابق صدر اسلامی جمہوریہ پاکستان و چیئرمین نظریۂ پاکستان ٹرسٹ محمد رفیق تارڑ نے اپنے صدارتی خطاب میں کہا کہ صدر مملکت کی سرسید قومی کانفرنس میں تشریف آوری ہمارے لئے عزت افزائی کا باعث ہے اور ہم سب تہہ دل سے آپ کا خیرمقدم کرتے ہیں۔ سرسید احمد خان مسلمانانِ ہند کے ایک جلیل القدر رہنما تھے جنہوں نے اس امر کا بروقت ادراک کرلیا انگریز حکومت کی مطلق العنانی اور ہندواکثریت کی ریشہ دوانیوں کا مقابلہ صرف اسی صورت ممکن ہے جب مسلمان اپنے جداگانہ اسلامی تشخص کو برقرار رکھتے ہوئے خود کو جدید تعلیم سے آراستہ کرلیں۔ چنانچہ انہوں نے مسلمانوں کو جدید تعلیم کے حصول کی طرف راغب کرنے کو اپنی زندگی کا نصب العین بنا لیا۔ ان کے مشن کی کامیابی کی اس سے بڑی دلیل اور کیا ہوگی کہ ان کی قائم کردہ درسگاہ علی گڑھ کے فارغ التحصیل طلبہ نے قائداعظمؒ کا دست و بازو بن کر جنوب مشرقی ایشیا کا نقشہ تبدیل کر دیا۔ انہوں نے کہا نظریۂ پاکستان ٹرسٹ نے فیصلہ کیا ہے 2017ء کو 70ویں سالِ آزادی کے طور پر منایا جائے۔ اس ضمن میں ایک جامع پروگرام ترتیب دیا گیا ہے جس کے تحت اس سال کے دوران مختلف النوع تقریبات کا اہتمام کیا جائے گا۔ آزادی اور اس کی بدولت حاصل ہونے والے ترقی و خوش حالی کے بیش بہا مواقع کی اہمیت کا تذکرہ کیا جائے گا۔ ان تقریبات میں بطور خاص طلبا وطالبات کو مدعو کرکے قیامِ پاکستان کی خاطر پیش کی جانے والی عظیم قربانیوں کی یاد دہانی کرائی جائے گی‘ نوجوانوں کے نام قائداعظمؒ کا پیغام ذہن نشیں کرایا جائے گا‘ اور حصولِ آزادی کے سلسلے میں مشاہیر تحریک پاکستان کے لافانی کردار کو بھرپور طریقے سے اجاگر کیا جائے گا۔ ہم عوام سے اُمید رکھتے ہیں وہ ان تقریبات میں قومی جوش و جذبے سے شریک ہوکر ہمارا حوصلہ بڑھائیں گے۔ انہوں نے کہا اس امر میں کوئی شک نہیں کہ پاکستان ریاستِ مدینہ کا پر تو ہے۔ اس مملکت خداداد کی حفاظت ہم سب پر فرض ہے۔ آئیے! ہم سب یہ عہد کریں پاکستان کو قائداعظم محمد علی جناحؒ کے نظریات و تصورات کے عین مطابق ایک جدید اسلامی‘ جمہوری اور فلاحی مملکت بنانے کی خاطر آج سے بابائے قوم کا فرمان ’’کام‘ کام اور کام‘‘ ہمارا ماٹو ہوگا۔ پروفیسر ڈاکٹر رفیق احمد نے کہا نظریۂ پاکستان ٹرسٹ ملک کا واحد ادارہ ہے جس کے مقاصد صرف اور صرف پاکستان کی شخصیت اور اس کی نظریاتی اساس کو سامنے رکھ کر نئی نسل کو اس سے آگاہ کررہا ہے۔ مجیب الرحمن شامی نے کہا نظریۂ پاکستان ٹرسٹ مبارکباد کا مستحق ہے اس نے سرسید احمد خان کے حوالے سے کانفرنس کا انعقاد کیا۔سرسیداحمد خان کے بغیر تحریک پاکستان کا آغاز نہیں ہو سکتا تھااور قائداعظمؒ کے بغیر یہ تحریک مکمل نہیں ہو سکتی تھی۔سرسیداحمد خان نے تحریک پاکستان کی بنیاد رکھی اور قائداعظمؒ کی قیادت میں پاکستان حاصل کیا گیا۔ تحریک پاکستان آج بھی جاری ہے اور تاقیامت جاری رہے گی۔ شاہد رشید نے کہا نظریۂ پاکستان ٹرسٹ پوری قوم بالخصوص نئی نسلوں کو تحریک پاکستان ،دوقومی نظریہ، قیام پاکستان کے حقیقی اسباب ومقاصد،مشاہیر تحریک آزادی کے افکارونظریات سے مسلسل آگاہ کررہا ہے۔ٹرسٹ کے زیراہتمام بابائے قوم قائداعظم محمد علی جناحؒ کے شایان شان عظیم الشان پراجیکٹ ایوان قائداعظمؒتقریباً مکمل ہو چکا ہے اور یہ بہت جلد فنکشنل ہو جائے گا۔ یہ ایوان کارکنان تحریک پاکستان کے خوابوں کی تعبیر ثابت ہو گا۔ انہوں نے کہا ممنون حسین کے دور صدارت میں ایوان صدر حب الوطنی پر مبنی سرگرمیوں کا مرکز بن گیا ہے۔ وہ ایک نظریاتی آدمی ہیں اور آج کی اس تقریب میں ان کی موجودگی ان کی شخصیت کے اسی پہلو کی بھرپور عکاس ہے۔ تقریب کے آخر میں محمد رفیق تارڑ نے ممنون حسین کو کانفرنس میں شرکت کی یادگاری شیلڈ بھی پیش کی۔ صباح نیوز کے مطابق پاکستان انسٹی ٹیوٹ آف فیشن ڈیزائن کی سینٹ کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے صدر مملکت ممنون حسین نے کہا پاکستان انسٹی ٹیوٹ آف فیشن ڈیزائن سے بڑی توقعات وابستہ ہیں۔ یہ ادارہ قومی مصنوعات میں تخلیقی انداز میں ویلیو ایڈیشن کرکے برآمدات میں اضافے اور ملک کے وقار میں اضافے کا ذریعہ بن سکتا ہے۔ اس موقع پر ہائر ایجوکیشن کمیشن کے چیئرمین ڈاکٹر مختار احمد، سیکرٹری کامرس عظمت علی رانجھا، ممتاز آرکیٹیکٹ نیئر علی دادا اور سینٹ کے دیگر ارکان بھی موجود تھے۔ صدر مملکت نے اس موقع پر کہا پی آئی ایف ڈی نے پاکستانی مصنوعات کو بین الااقوامی معیار پر لانے کی لیے تخلیقی انداز فکر اختیار کرنے کی ضرورت ہے اس سلسلے میں پی آئی ایف ڈی قابل قدر کردار ادا کر سکتا ہے۔ انھوں نے توقع ظاہر کی پاکستان کا یہ قومی ادارہ صنعتی شعبے میں جدت پیدا کرکے اس کی ترقی کا ذریعہ بنے گا۔ انھوں نے کہا پاکستانی مصنوعات میں ویلیو ایڈیشن کر کے ہی برآمدات میں اضافہ ممکن ہے، اس سلسلے میں جدید عالمی رجحانات سے آگاہی کے لئے تحقیق پر بھرپور توجہ دینے کی ضرورت ہے۔ انھوں نے اس مقصد کے لئے فیشن اینڈ ڈیزائن کے عالمی شہرت یافتہ اداروں سے رابطے بڑھانے کی بھی ہدایت کی۔ انہوں ذنے کہا طلبہ کو پیشہ ورانہ تربیت کے ساتھ قومی تاریخی اور تہذیبی امور سے آگاہ کرنے کے لیے بھرپور اقدامات کیے جائیں۔ سینٹ نے اس موقع پر پی آئی ایف ڈی کی فنانس رہورٹ اور آئندہ مالی سال کے بجٹ کی منظوری بھی دی۔ صدر مملکت نے پی آئی ایف ڈی کے دو طلبہ کو سٹائل ایوارڈ ملنے پرمبارکباد دی اور ہدایت کی وہ ملک کی نیک نامی اور قومی مصنوعات میں بہتری کے لئے اسی طرح محنت کرتے رہیں۔