کالعدم فرقہ وارانہ تنظیموں کو دہشت گردوں کے ساتھ کھڑا نہیں کیا جا سکتا: نثار

کالعدم فرقہ وارانہ تنظیموں کو دہشت گردوں کے ساتھ کھڑا نہیں کیا جا سکتا: نثار

اسلام آباد (وقائع نگار خصوصی+ نامہ نگار+ نیشن رپورٹ+ ایجنسیاں) اپوزیشن جماعتوں نے دہشت گردی اور فرقہ وارایت کے بارے میں وفاقی وزیرداخلہ چودھری نثار کے ریمارکس کے خلاف اس وقت سینٹ سے واک آئوٹ کردیا جب وہ قائد حزب اختلاف چوہدری اعتزاز احسن کی طرف سے اٹھائے گئے سوال کا جواب دینے لگے چوہدری نثار نے کہا کہ جب اپوزیشن کے پاس کچھ کہنے کیلئے بات نہیں ہو تی وہ ایوان سے واک آئوٹ کر جاتی ہے۔ سینیٹ میں وفاقی وزیرداخلہ چودھری نثار کے خطاب کے بعد اعتزاز احسن نے ان پر ’’ بالواسطہ‘‘ طور پر فرقہ وارانہ و کالعدم تنظیموں سے واسطہ تعلق کی بات کی تو چودھری نثار نے نکتہ وضاحت پرکہا انکے کہنے سے کوئی بات سچ تو نہیں ہو سکتی، ان کی عادت ہے یہ ہر چیز کو حکومت کے گلے میں ڈالنے کی کوشش کرتے ہیں ،اپوزیشن سچ بھی بولے جہاں تک کالعدم تنظیمو ں کا معاملہ ہے تو دہشت گردی اور فرقہ واریت کو الگ الگ دیکھا جائے۔ دہشت گردتنظیمیں سوات ،جنوبی و شمالی وزیرستان ایجنسیوں کی پیداوار ہیں جبکہ فرقہ واریت شیعہ سنی کی لڑائی کا شاخسانہ ہیں اور بدقسمتی سے یہ معاملہ ساڑھے تیرہ سو سال سے چلا آرہا ہے۔ جہاں تک میری دفاع پاکستان کونسل سے ملاقاتوں کا تعلق ہے تو یہ بات بھی ریکارڈ پر ہے اس کونسل کے اہم ترین لوگ سابقہ حکومت میں ایوان صدر جاتے رہے اگر یہ اتنے ہی مخالف ہیں تو سابقہ حکومت میں فرقہ ورانہ تنظیموں سے تعلق رکھنے والے لوگوں کو انتخابات میں حصہ لینے کا موقع کیوں دیا گیا انہوں نے کہا میں نے کہا تھا ضرب عضب آپریشن کی کامیابی سب کی کامیابی ہے اور اس حوالے سے ریکاردڈ ایوان میں پیش کیا تھا ۔ حقائق کے منافی ہوا تو میں ایوان میں آکر معذرت کر لوں گا اور یہ غلط ثابت ہوں اور معذرت نہ کر سکیں تو کم ازکم دل ہی دل میں شرمندگی محسوس کریں۔ وفاقی وزیرداخلہ کے اس بیان کے بعد چیئرمین سینٹ نماز مغرب کے لئے وقفے کا اعلان کرنے لگے تو اپوزیشن لیڈر اعتزاز احسن نے وفاقی وزیرداخلہ کے ریمارکس پرواک آئوٹ کا اعلان کر دیا جس پر اپوزیشن ارکان ایوان سے باہر چلے گئے۔نیشن رپورٹ کے مطابق وفاقی وزیرداخلہ چودھری نثار علی خان نے کہا کالعدم فرقہ واریت تنظیموں کو کالعدم دہشت گرد تنظموں کیبرابر نہیں کیا جا سکتا۔نوائے وقت رپورٹ کے مطابق چودھرری نثار نے کالعدم تنظیموں سے ملاقات کے حوالے سے سینٹ میں کہا پچھلے دور میں تو کالعدم تنظیمیں ایوان صدر آئیں‘ ان کے ساتھ بیٹھے‘ میرے پاس تو دفاع پاکستان کونسل آئی تھی جس کی تصاویر بھی میرے پاس ہیں۔ فرقہ وارانہ تنظیموں کو دہشت گرد تنظموں کیساتھ نہیں کھڑا کیا جا سکتا۔ انہوں نے کہا سلمان حیدر کے معاملہ پر حساس اداروں سے بات کی‘ تفصیلات نہیں بتا سکتا۔ ان کے جلد گھر واپس آنے کی امید ہے۔ نامہ نگار کے مطابق قومی احتساب (ترمیمی) آرڈیننس 2017ء سینیٹ میں پیش کردیا گیا۔ وزیر قانون زاہد حامد نے دستور کے آرٹیکل 89 کی شق 2 کی مقتضیات کے تحت یہ آرڈیننس ایوان میں پیش کیا، چیئرمین سینیٹ نے آرڈیننس متعلقہ کمیٹی کو بھجوا دیا، قائد حزب اختلاف چوہدری اعتزاز احسن نے کہا ہمیں اس پر اعتراض ہے، اسے بطور بل متعارف کیوں نہیں کرایا گیا بہتر ہوتا ۔ انہوں نے کہا آرڈنینس کسی وزیر کی ملکیت نہیں ہوتا اجلاس شروع ہوتے ہی اسے ہماری ٹیبل پر ہوناچاہیے تھا ، میں اپنے ساتھی تاج حیدر کی طرف سے بھی اعتراض اٹھاتا ہوں، کہا جا رہا ہے اسکے تحت تاحیات پابندی عائد ہو گی جو کہ آئین کے منافی ہوگا، سزا بھی مناسب ہونی چاہیئے چیئرمین نے کہا کہ کمیٹی میں اس حوالے سے بات کرلی جائے گی۔ دریں اثناء کامسیٹس یونیورسٹی اسلام آباد بل 2017ء متعلقہ کمیٹی کو بھجوا دیا گیا۔ رانا تنویر کی جانب سے پیش کردہ کامسیٹس یونیورسٹی اسلام آباد بل 2017ء پاکستان کونسل برائے سائنس اور ٹیکنالوجی بل2016اور پاکستان نیشنل ایگریڈیٹیشن کونسل بل2016کو بھی متعلقہ کمیٹی کو بھجوا دیا گیا۔ یوان بالا میں سینیٹر عطاء الرحمان کے ساتھ ڈی پی او میانوالی اور چشمہ ہائیڈرو پاور چیک پوسٹ کندیاں پر تعینات پولیس اہلکاروں کے تضحیک آمیز رویے کے خلاف تحریک استحقاق پر کمیٹی کی رپورٹ پیش کردی گئی۔سینیٹر۔چیئرمین سینیٹ نے منظوری کے تعین کے لئے ایجنڈے پر آنے والی چکن گونیا کا مرض پھیلنے سے متعلق سینیٹر محسن عزیز کی تحریک التواء نامنظور کردی۔ چیئرمین سینیٹ نے کہا یہ تحریک التواء قواعد پر پورا نہیں اترتی اس لئے مسترد کی جاتی ہے۔ سینیٹر حافظ حمد اللہ کی تحریک التواء ان کی عدم موجودگی کے باعث موخر کردی گئی جبکہ سینیٹر عتیق شیخ کی طرف سے ایل این جی معاہدوں سے متعلق تحریک التواء چیئرمین کی ہدایت پر انہوں نے واپس لے لی۔ آئی این پی کے مطابق وزیردفاع خواجہ محمد آصف (آج) بدھ کو سینٹ میں سابق آرمی چیف جنرل راحیل شریف کی ممکنہ طورپر 39 رکنی مسلم عسکری اتحاد کی کمان سنبھالنے کے معاملے پر پالیسی بیان دیں گے۔ سینٹ سے اپوزیشن کا بائیکاٹ جاری تھا اس دوران چیئرین سینٹ نے اجلاس (آج) بدھ تک ملتوی کر دیا۔ راجہ ظفرالحق اپوزیشن کو منانے گئے جو ناکام رہے۔ مسلم لیگ (ن) کے رہنما سینیٹر نہال ہاشمی نے سرحد پر بھوکے پیاسے بھارتی فوجیوں کا معاملہ اٹھا دیا اور خدشہ ظاہر کیا کہیں ایسا نہ ہو بھارتی فوجی گولی کی بجائے بھوک سے مر جائیں۔ انہوں نے کہا ہو سکے تو بھارتی فوجیوں کے انسانی حقوق کیلئے مدد کی جائے۔ کہیں ایسا نہ ہو وہ بھوک سے مر جائیں۔ وقائع نگار خصوصی کے مطابق وفاقی وزیر داخلہ چودھری نثار نے واضح کیا اپوزیشن دہشت گردی کے خلاف کامیاب جنگ میں حکومت کو کریڈٹ نہیں دیتی تو نہ دے لیکن جو بات ہمارے ذمہ نہیں وہ ہمارے کھاتے نہ ڈالیں بلا جواز مجھے ٹارگٹ بنایا جائے گا تو جواب دینے کا حق استعمال کروں گا ہم سب مل کر دہشت گردی کے خلاف جنگ جاری کرنے کی کوشش کرنی چاہیے رات کو رات، دن کو دن کہنا چاہے سورج کو چاندنہیں کہنا چاہیے سچائی کا اعتراف کرنا چاہیے پوری دنیا میں دہشت گردی کا گراف اوپر کی طرف جا رہا ہے جب کہ پاکستان میں دہشت گردی کم ہو رہی ہے اپوزیشن میرے ساتھ حقائق و شواہد کی بنیاد پر بات کرے میرا مقابلہ آسمان سے نہ کریں لیکن پچھلے ادوار حکومت سے کیا جائے جب ہر روز 5، 6دھماکے ہوتے تھے آج صورت حال یکسر مختلف ہے، سانحہ کوئٹہ پر کمیشن کی رپورٹ پر 19جنوری2017ء کو اپنا موقف پیش کروں گا یہ میرا آئینی حق ہے موجودہ حکومت کی کسی کو لاپتہ کرنے کی پالیسی ہے نہ ایسی کوئی بات برداشت کی جائے گی‘ بہت سی خرابیاں اس دور کی ہیں جب پالیسیاں کہیں اور بنتی تھیں۔ سیاسی تقاریر اور پوائنٹ سکورنگ کرتے ہوئے وفاق اور صوبوں کے دائرہ کار کو مدنظر رکھنا چاہیے، وفاقی دارالحکومت اور گرد و نواح سے چار افراد کے اغواء ہونے کے واقعات کی تفتیش جاری ہے‘ کچھ شواہد سامنے آئے ہیں جنہیں قبل از وقت افشاں کرنے سے تفتیش پر اثر پڑے گا‘ پنجاب حکومت بھی ان واقعات کی تحقیقات کر رہی ہے‘ تفتیش کو منطقی انجام تک پہنچایا جائے گا‘ پہلی ترجیح ان افراد کی بحفاظت واپسی ہے۔ انہوں نے کہا میں نے خود انٹیلی جنس ایجنسیوں کے سینکڑوں لوگوں سے بات کی ہے۔ جو اس واقعہ میں ملوث ہیں ان کا پتہ چلانے کے لئے ہم نے بہت کوششیں کی ہیں۔ اعلیٰ پولیس آفیسر کو ان کے اہل خانہ کے گھر بھیجا۔ میں یقین دلاتا ہوں حکومت اس گھنائونے جرم کے پس پردہ جو بھی لوگ ہیں ان کا پیچھا کرے گی۔ انہوں نے کہا صرف فوجی آپریشن سے دہشتگردی ختم نہیں ہوتی۔ شمالی وزیرستان‘ سوات میں آپریشن ہوئے اس کے نتیجے میں جو ردعمل پاکستان میں آیا وہ خوفناک تھا۔ روزانہ پانچ چھ حملے ہوتے تھے۔ ہم نے اس کا مداوا کس طرح کیا‘ سب کے سامنے ہے۔ یہ سب کی مشترکہ کاوشوں کا نتیجہ ہے کہ بہت بڑا مسئلہ حل ہوا ہے۔ سب سے بڑی قربانی فوج کی ہے جس نے جنوبی وزیرستان کو کلیئر کیا۔ نامہ نگار کے مطابق ایوان بالا کو وقفہ سوالات کے دوران بتایا گیا حکومت نے فرقہ وارانہ ہم آہنگی کیلئے بہت سے اقدامات کئے ہیں جن کے نتائج جلد سامنے آئیں گے،اقلیتوں کو ان کے تمام حقوق فراہم کرنا ہماری ذمہ داری ہے، قومی کمیشن برائے اقلیتیں کا قیام عمل میں لایا جا چکا ہے، سات خصوصی اقتصادی زونز قائم کئے گئے ہیں، توانائی کی بچت کرنے والی صنعتوں کو ترجیح دی جارہی ہے‘ ٹیکسٹائل انڈسٹری میں پرانے پلانٹ لگے ہیں جو زیادہ توانائی استعمال کرتے ہیں، پاکستان میں شیل گیس زیادہ کامیاب نہیں ہوئی کیونکہ اسے نکالنے کے لئے بہت خرچہ کرنا پڑتا ہے،بجلی بلوں پر ٹیکس ایف بی آر لگاتا ہے‘ وزارت کا کام ٹیکس جمع کرکے دینا ہے، بجلی پر نیٹ ٹیرف کم اور انڈسٹری کو ریلیف ملا ہے، جو لوگ خود اپنا مقدمہ نہیں لڑ سکتے ان کی مدد کے لئے ڈسٹرکٹ لیگل ایمپاورمنٹ کمیٹیاں تشکیل دی گئی ہیں لیکن اس سہولت سے بہت کم لوگوں نے استفادہ کیا ہے اور صرف 24 فیصد فنڈز استعمال ہو سکے۔